کیا بلاول بھٹو نے غلط کہا؟/عامر حسینی

پاکستان میں انگریزی پریس اور اس کے ہمنواء کمرشل لبرل جو خود کو فاشزم مخالف کہتے ہیں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے بھارت میں بی جے پی کی موجود ہ حکومت، وزیراعظم نرنیدر مودی اور اُن کی سرپرست آر ایس ایس و وی ایچ پی کو “ہٹلر” سے متاثر قرار دینے، مودی کو گجرات کا قصائی قرار دینے پر انھیں سراہنے کی بجائے ہندوستانی لبرل کے ایک بڑے سیکشن کے شکست خوردہ موقف کو آگے بڑھارہے ہیں ۔

ہندوستان میں بے جی پی، آر ایس ایس، وی ایچ پی نے بلاول بھٹو کے خلاف مظاہرے کیے،انھیں ہندوستانی سرکاری میڈیا اور حکومتی ترجمان غیر مہذب قرار دے رہے ہیں۔ ہندوستانی پریس چاہے وہ لبرل سیکشن سے ہے یا وہ دائیں بازو کے کیمپ سے ہے دونوں ہی بلاول بھٹو کی جانب سے بھارتی حکومت اور نریندر مودی بارے بلاول بھٹوزرداری کے تبصرے کو “غیر مہذب” اور “غیر محتاط” قرار دے رہے ہیں۔

بھارت کے لبرل اور لیفٹ کیمپ میں شامل پریس اور دانشوروں کے ایک سیکشن کی جانب سے بلاول بھٹو کی بھارتی حکومت کی زعفرانیت کو بے نقاب کرنے اور اُس کے فسطائی جوہر کو آشکار کرنے کو ہٹلر سے محبت قرار دینے کو غیر مہذب قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو وہ دائیں بازو کی وطن پرستی کی آڑ میں جاری مقبول شاؤنسٹ نعرے بازی سے ڈر کر ڈھے گیا ہے یا موقع  پرستی کا شکار ہوا ہے ۔

جبکہ بھارت کی لبرل و لیفٹ اکثریت خاموش ہے جو اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے!

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے نریندر مودی کو گجرات کا قصائی قرار دیا تو کیا غلط کہا؟

بی جے پی، آر ایس ایس اور وشوا ہندو پردیش والے سوارکر کی جس  آئیڈیالوجی کی پیروی کرتے ہیں اور جس ہندو مہاراشٹر کا قیام چاہتے ہیں کیا وہ نازی ازم، ہٹلر، فسطائیت سے ماخوذ نہیں ہے؟

کیا بھارت کا سرکاری میڈیا اور مودی نواز پریس اور یہاں تک کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مودی نواز سب کے سب ایسی پروڈکشن سامنے نہیں لاتے رہتے جس سے مہاتما گاندھی کی کردار کُشی ہوتی ہے اور اُسے ہندوستان میں احترام کے سنگھاسن سے اتارنے کی کوشش نہیں کی جارہی؟

بھارت کا لبرل اور لیفٹ کیمپ ایک عرصے سے مودی کو فسطائی اور مذہبی بنیاد پرست قرار دیتا آرہا ہے۔

یہ حقیقت اگر بلاول بھٹو نے بیان کر ڈالی ہے تو کون سا آسمان گر پڑا ہے؟ کون سی تاریخی حقیقت مسخ ہوگئی ہے؟

بلاول بھٹو نے سچ بولا ہے اور سچ بھی بے موقع اور بے محل نہیں بولا،جو پاکستان کا کمرشل لبرل گروہ اُن کو امن دشمن قرار دینے کی کوشش کررہا ہے۔

بھارت میں اگر مرکز میں کوئی ایسی حکومت برسر اقتدار ہوتی جو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے سب ہی ممالک کے درمیان امن و آشتی کا موقف لیے ہوتی، ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے دیکھنے کی بات کررہی ہوتی، وہ حکومت بھارت میں اقلیتوں اور دَلت جاتی کے خلاف فسطائی رویہ اختیار نہ کیے ہوتی اور امن مذاکرات کی دعوت دے رہی ہوتی تب بلاول بھٹو زرداری اُس حکومت کو ڈانٹ پلاتے اور اُسے بُرا بھلا کہتے تو کہا جاسکتا تھا کہ بلاول بھٹو کا موقف غیر محتاط، اشتعال انگیز ہے ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اوپن فورم میں سب سے پہلے بھارتی مندوب نے پاکستان پر الزامات کی بارش کی ، اُس نے حسبِ معمول پاکستان کو ایف ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ سے نکالے جانے کے اقدام پر ناخوشی ظاہر کی، پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا اور جو الزامات لگائے جاسکتے تھے وہ الزامات لگائے ، اُسامہ بن لادن کا طعنہ دیا۔

حالانکہ اگر بھارتی مندوب پاکستان میں آنے والی تبدیلیوں پر ایماندارانہ تبصرہ کرتا تو وہ اس بات کا اعتراف کرتا کہ پاکستان میں جمہوری قوتوں نے اسٹبلشمنٹ کے اندر ضیاء الحق کی باقیات اور اُن کی طرف سے عسکریت پسندی اور جہادی پراکسیز کے استعمال پر  زبردست روک لگائی اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے گئے ۔ اس وقت جو حکومت پاکستان میں برسراقتدار ہے وہ اُن جماعتوں کی نمائندہ ہے جنہوں نے دہشت گردی کا براہ راست سامنا کیا ۔ اُن کے قائدین اور سیاسی کارکن اور ہمدرد بڑی تعداد میں شہید ہوئے۔ خود بلاول بھٹو زرداری اُس کے سب سے بڑے متاثرہ شخص  ہیں ۔

بھارت میں جب سے بی جے پی نریندر مودی کے زیرِ  اثر آئی ہے یہ سنٹر رائٹ سے بتدریج دور ہوکر فار رائٹ تک پہنچ گئی ہے۔
یہ پاکستان سے مسلسل امن مذاکرات سے انکاری ہے ۔ موجودہ بھارتی حکومت پاکستان کی جمہوری طاقتوں کا ذرا احترام نہیں کرتی اور نہ انھیں کریڈٹ دیتی ہے ۔

بھارت کی اکثر لبرل اور بوتیک لیفٹ اشرافیہ کا ڈسکورس اینٹی بھٹو ہے اور وہ بھی ماضی کو بھلانا نہیں چاہتا اور اس تعصب کے تحت وہ بلاول بھٹوزرداری کے ترقی پسند جمہوری موقف کو بھی غیر مہذب قرار دیے جاتا ہے ۔

پاکستانی انگریزی روزنامہ ڈان نے بلاول بھٹو کے بیان کے بعد پیدا صورت حال پر ایک اداریہ لکھا اور بین السطور بلاول بھٹو زرداری کے طرز عمل کو غیر محتاط اور عقابی قرار دے ڈالا ہے۔
جبکہ کمرشل لبرل کا ایک حلقہ بلاول بھٹو کے اقوام متحدہ میں خطاب کو فوجی اسٹبلشمنٹ کو خوش کرنے کا حربہ قرار دے رہا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بلاول بھٹو زرداری پر پاکستان اور بھارت کے لبرل ناقدین کایہ امن پسندانہ یا فاختائی ڈسکورس نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی لبرل سیکشن کا بغض اور اینٹی بھٹو و پی پی پی تعصب ہے جو جھلک رہا ہے جبکہ بھارتی لبرل پریس نیشنلسٹ شاؤنزم کے دباؤ میں یہ ردعمل دے رہا ہے کہ کہیں غدار نہ ٹھہرادیا جائے ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply