ایک ہنستا مسکراتا شخص خودکشی کیوں کرتا ہے؟۔۔ضیغم قدیر

باہر سے پرسکون نظر آنے والے وجود کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔

یہ جنگ چھوٹی سی بات پہ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسے کوئی کہے تمہارے منہ پہ کتنا برا دانہ نکل آیا ہے۔ اس پر ہماری نفسیاتی حالت ایسی بن جاتی ہے کہ ہم اپنے منہ سے نفرت تک کرنے پہ آ جاتے ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کو موٹیویشن دینے کی تلقین کرتے ہیں۔ کیا آپ کو پتا ہے ایک ماہر نفسیات جو ہر نفسیاتی مرض کا علاج کرتا ہے وہ خود نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ اور خودکشی کی نوبت تک پہنچ جاتا ہے۔

یہی حال بھارتی اداکار سوشانت کے ساتھ ہوا، چھچھورے فلم میں یہ بتانے والا کہ خودکشی نہ  کرو آج خود زندگی سے ہار گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی نوبت کب آتی ہے؟ ہماری نوجوان نسل ڈپریشن کا شکار کیوں ہے؟

اس کا جواب بہت سادہ سا ہے۔

آج ہمارا پوری دنیا کے ساتھ تعلق ایک کلک کی دوری پہ ہے۔ ایسے میں ہمیں ہر جگہ ہنستے مسکراتے لوگ با آسانی مل جاتے ہیں۔ کسی کے پاس بنگلہ ہے تو کسی کے پاس خوبصورت عورت، کسی کا بوائے فرینڈ پیارا ہے تو کسی کا موبائیل۔ یہ سب ہمیں ایک احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔

لیکن سوشانت کے پاس تو عورت پیسہ سب کچھ تھا اس نے ایسا کیوں کیا؟
اس کے لئے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے پہلے جب ہمارے پاس لینڈ لائن ہوا کرتے تھے۔

ان دنوں ایک شخص عام طور پہ دن کے دس گھنٹے اپنے گھر والوں کے ساتھ بات چیت میں بیتا دیتا تھا۔ ان دس گھنٹوں میں وہ اپنی ہر پرابلم دادی یا نانی سے شئیر کر لیتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر اس کا بریک اپ بھی ہوگیا ہے تو وہ بھی۔

مگر پھر ٹیکنالوجی آئی، ایک کمرے میں سونے والے علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ شئیرنگ کی جگہ پرائیویسی نے لے لی۔ اس پرائیویسی کی وجہ سے ہر کوئی اپنے غم چھپانے لگا۔ انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ غم جتنا چھپائے گا غم کا guilt اتنا بڑھتا چلا جائے گا یہ گلٹ وہ دکھی شاعری لگا کر دور کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ لوزر کیوں بن رہا ہے۔ اس طرح وہ اس غم کے احساس جرم میں پس کر خودکشی تک پہنچ جاتا ہے۔

اس کا سدباب؟

سدباب بہت آسان ہے اولاد یا اپنے بھائیوں یا دوست جو بھی رشتہ ہے ان سے گفتگو بڑھائیں۔ ان کے دکھ جان کر حوصلہ دیں۔ اگر انکا رجحان مذہب کی طرف حد سے زیادہ ہوگیا ہے تو وارن ہوجائیں کچھ گڑبڑ ہے۔ کیونکہ دکھ میں بندہ خدا کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ ان کو مایوسی سے بچائیں افئیر ہے تو ڈس کرج نا کریں۔ بریک اپ ہے تو مذاق نا اڑائیں۔ ان کی زندگی کی موٹیویشن بنیں۔

نانی اور دادی کے ادارے کی کمی کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے سو آپ وہ کمی پوری کریں۔ انکا ہاتھ بنیں۔گو یہ ایک فیکٹر ہے خودکشی کی کئی وجوہات ہیں لیکن آپ کم از کم اس فیکٹر سے اپنے عزیز واقارب کو بچائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *