گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(3)۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اسے Dissection Hall) DH )سے نفرت تھی۔ بڑے نازوں سے پلی تھی وہ۔ اسے فارمالین سے چکر آتے تھے۔ اسٹول پر بیٹھے بیٹھے وہ ہمیشہ تھک جاتی تھی۔ طیبہ ایسی ہی تھی۔ BD   Chaurasia   پڑھتے ہوئے اس کی سانس اکھڑتی تھیں۔ DH کےدو گھنٹے اس کی طبعِ نازک پہ گراں گزرے تھے۔ اس DH کی دیواریں جیل خانہ کی طرح معلوم ہوتی تھیں۔ وہاں پر بیٹھے بیٹھے اس پری صورت کا چہرہ  تیل زدہ ہو جاتا تھا۔ طیبہ کا دل چاہتا تھا کہ DH کو جلا کے وہاں سوئمنگ پول بنا دے۔ طیبہ کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ اکثر حاضری لگواتے ہی پلٹ کر کھسک جاتی تھی۔اس نے DH کے نیچے سے ایک خفیہ راستہ معلوم کیا ہوا تھا۔ اس راستے کو استعمال کر کے جب باہر نکل رہی ہوتی، اس کے چہرے پر پونم پانڈے کی سی مسکراہٹ ہوتی تھی۔

انہی چکروں میں اس کی حاضری 38 فیصد تک جا پہنچی۔ یہ موم کے دل والی طیبہ کے لیے بہت پریشان کر دینے والی بات تھی۔پھر اس کی زندگی میں ایک فرشتہ آیا۔ اس فرشتے کا نام حنان تھا۔Gogi Garden   میں رحمتوں سے بھرپور پہلی باضابطہ   Date  کے بعد جیسے طیبہ کی زندگی میں بہار آگئی تھی۔ طیبہ کے لیے جولائی کے مہینے میں بہار چل رہی تھی۔ حنان نے اس کی زندگی کو سنوار دیا تھا۔

ابDH   جاتے ہوئے وہ اچھل کود کر رہی ہوتی تھی۔ اس کی سہیلیاں اسے دیکھ کر حیران ہونے لگی تھیں۔ وہ 30 منٹ پہلے DH   پہنچ جاتی تھی۔ وہ خوش و خرم حاضری لگواتی تھی۔ پھر آرام سے اسٹول پر بیٹھ جاتی۔ وہ کن اکھیوں سے حنان کو دیکھتی رہتی۔ حنان بھی جب اسے دیکھ کر مسکراتا , طیبہ کی جان نکل جاتی تھی۔ اب سٹول اسے آرام دہ صوفے کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ اس کا دل کرتا تھا کہ حنان کو بھی اپنے ساتھ اس صوفے پر بٹھائے۔ اب فارمالین سے اسے عطر و عنبر کی خوشبو آتی تھی۔ اب DH کی کھڑکیوں سے بادصبا اور باد نسیم کے جھونکے اس کے بالوں کو چھو کر اسے نہال کر دیتے تھے۔ اس کا چہرہ گلاب کی طرح ترو تازہ رہتا تھا۔

طیبہ اور حنان کی آنکھیں ایک دوسرے کی تلاش میں رہتیں۔ اور جونہی ایک دوسرے سے چار ہوتیں، سماں سا بندھ جاتا تھا۔ طیبہ کی سہلیاں اور حنان کے دوست ان دونوں کو دیکھ کر رشک کرتے تھے۔ وہ DH میں ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرتے تھے کہ خدا ان دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھے۔ اور کسی استادکی بد دعا اور سینئر کی آہ نہ لگے۔

اب طیبہ کبھی DH سے کھسکنے کا نہ سوچتی۔ اس کے لیے DH کے دو گھنٹے حنان کا دیدار کرتے کرتے 15 منٹ میں گزر جاتے۔ اس کا دل کرتا تھا کہ وہ سارا دن صوفے پر بیٹھ کر حنان کو دیکھتی رہے۔ اس کا من کرتا تھا کہ جا کر  اناٹومی (Anatomy) ڈیپارٹمنٹ کے HOD  کو درخواست جمع کرائے کہ  DH   دو گھنٹے کی بجائے  چار  گھنٹے کا کر دیا جائے۔ ایسی بن گئی تھی حنان کی طیبہ۔۔

اب اس کی حاضری 82 فیصد ہو گئی تھی۔ یہ الگ بات کہ حنان  یکے بعد دیگرے تینوں مضامین کے کل ملا کر 6 ٹیسٹوں میں  فیل ہو گیا تھا۔

طیبہ کے لیے اب  DH  کسی رومانوی داستاں کا خوبصورت ساحل بن چکا تھا !

(جاری ہے)

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *