”برٹش انڈیا جتنا طاقتور آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ ہر طرف امن و سکون ہے۔ قانون کی بالادستی ہے۔ ملک محفوظ ہے۔ لوگ خوش ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں برٹش راج اور ہندوستانی عوام نے بہت ترقی کی ہے۔← مزید پڑھیے
اچھی بھلی فرنچ کٹ رکھ چھوڑی تھی لیکن اب اتروانا پڑے گی۔ محترمہ نے پنجاب اسمبلی میں فیشن ایبل داڑھیوں کے خلاف قرار داد جو جمع کروا دی ہے، تو پھر یہ تو ہو گا نا۔ لیکن یہ سب ہونے← مزید پڑھیے
انسان کی عُمر ختم ہو جاتی ہے لیکن باتیں نہیں ختم ہوتیں۔ قبر میں باتیں، حشر میں باتیں، جنت اور جہنم میں باتیں۔ بندوں سے باتیں، اللہ سے باتیں۔ اور تو اور ہوا سے باتیں، آسمان سے باتیں،دیواروں سے باتیں← مزید پڑھیے
(زوم کی وساطت سے بر پا کیے گئے ایک مباحثے پر میرا حلفیہ بیان اقبالی) اول تو غزل سے میری بیگانگی کا سبب اُس زمین کا بنجر پن ہے جس میں پہلے ہزاروں بار فصلیں بوئی جا چکی ہیں، کاٹی← مزید پڑھیے
آج کی مجلس میں دانش ور اپنے ایک مہمان دوست کو لے آیا۔جس کے بال بکھرے ہوئے گرد سے اٹے ہوئے تھے۔کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔وہ زور زور سے چیخ رہا تھا۔میں گم← مزید پڑھیے
جن دنوں راقم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (حالیہ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم تھا، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم میڈیسن پڑھایا کرتے تھے، ان دنوں تازہ تازہ اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تھے، آج کل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ہیں۔ کرونائی موسم← مزید پڑھیے
خدا ہے یا نہیں اس کے حق میں ان گنت دلائل دئے جا سکتے ہیں اور اُن دئے گئے دلائل کا اسی شدومد کے ساتھ رد بھی کیا جا سکتا ہے یعنی جتنے دلائل ہیں ان سے کہیں زیادہ رد← مزید پڑھیے
ہم اتوار کی شام کھوڑیاں گاؤں پہنچے جوباغ سے دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا۔اگر ہم باغ سے ہی صبح لیپہ روانہ ہوتے تو ہم ایک دن میں لیپہ سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔لہذا ہمارے دوست شرافت حسین نے← مزید پڑھیے
دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک← مزید پڑھیے
میں بارہا اپنے ہمدردوں، عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے ہر تحریر کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ ٹھیک ہے خطرات ہیں، چپقلشیں ہیں، جان کھونے کا خطرہ ہے، آج کے بعد میں وڈھ کی صورت حال پر حالات کی← مزید پڑھیے
زندگی تو بس چلتے رہنے کا نام ہے،اور ہم میں سے اکثریت مرنے تک بغیر مقصد کے چلتی رہتی ہے۔ہماری پہچان,ہمارا کام, ہماری حیثیت دنیا کی نظر میں کسی کیڑے مکوڑے کی مانند ہی ہوتی ہے جن کے مرنے سے ← مزید پڑھیے
آنکھوں میں اداسی، چہرے پر پریشانی، ماتھے پر بےشمار بل، رخساروں پر آنسوؤں کے نشانات اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے آثار قدیمہ بھی نہیں تھے۔ شاید آخری مرتبہ مسکرائے صدیاں بیت چکی تھیں۔ وہ آئینے کے سامنے کسی مورتی کی← مزید پڑھیے
ریورنڈ مجلے جیننگز ہندوستان میں 1832 میں پہنچے تھے۔ وہ کرسچن کمیونیٹی کے مذہبی راہنما تھے اور ان کا ایک اپنا ہی خیال تھا۔ “برٹش سرکار نے ہندوستان سے کوہِ نور ہیرا لے لیا ہے۔ اس کا قرض چکانا ہے← مزید پڑھیے
جب میں کہتا ہوں مجھے سوشل میڈیا پر چوبیس سال ہوگئے تو لوگ حیران ہوتے ہیں کیونکہ میں ۔۔۔١٩٩٦ سے استعمال کرہا ہوں ،یہ ہے وہ سافٹ وئیر جو سب سے پہلے استعمال کرنا سیکھا، کیفے میں بیٹھے ہوئے ← مزید پڑھیے
جیسے جسم کو روح کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی معاشرے کو عقلمندوں اور دانشوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں دانشور کا کردار انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ دانشور حضرات اپنے علم کی← مزید پڑھیے
عصر کے بعد پھر مجلس برپا ہوئی۔دانش ور نے شہر میں علم و عالم کی توقیر و تکریم کا ذکر بڑے زور وشور سے کیا ۔ابوالحسن خاموشی سے سنتا رہا۔پھر یوں گویا ہوا۔ دانش ور، علم کو منصب سے جوڑ← مزید پڑھیے
شائستہ کا شوہر جمال ایک محنتی، ایمان دار، اپنے کام سے کام رکھنے والا کم گو اور ذرا سخت مزاج انسان تھا جو گھر گرہستی کی ذمہ داریاں بغیر کہے پوری کر دیتا۔ بیوی بچوں کی ضروریات، گھر کا راشن،← مزید پڑھیے
صبر رشتے جوڑ سکتا ہے۔ بے صبرا انسانوں کی بستی میں نہیں رہ سکتا، اسے تو خدا نے باغِ بہشت میں نہیں رہنے دیا تھا۔ صبر جواب آں غزل ہے جو آسمان سے تیر و نشتر نچھاور کرتے ہوۓ سیدھا← مزید پڑھیے
ہوا میں خوشبو کس سفرکی ہے ہوامیں خوشبو کس سفر کی ہے ہواکا ڈھنگ بدلابدلا سا ہے ہوا کے سنگ حالات کے رقص قہقہے لگاتے ہیں جب پیڑوں کی زنجیریں در و دیوار سےہمکلام ہوتی ہیں درو دیوار اونچے محلوں← مزید پڑھیے