سانول عباسی کی تحاریر
سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

پاک بزمِ احباب میسعید قطر۔۔۔۔سانول عباسی

٢٨ جولائی ٢٠١٩ بروز اتوار پاک بزمِ احباب قطر نے پاکستان سے تشریف لائے بہترین عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادب نواز سماجی شخصیت لاہور ادبی تنظیم “قرطاس” کے سربراہ جناب توقیر احمد شریفی صاحب کے اعزاز میں شعری نشست اور←  مزید پڑھیے

الوداعی تقریب۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ:-           ساؔنول عباسی        انفارمیشن سیکریٹری شائقینِ فن دوحہ ١٠جولائی ٢٠١٩ بروز بدھ شائقینِ فن دوحہ قطر کی جانب سے جناب محمد عرفان حیدر گریوال فنانس سیکریٹری “شائقینِ فن دوحہ ” کے اعزاز میں←  مزید پڑھیے

شخصیت پرستی شرک ہے۔۔۔سانول عباسی

علماء و مشائخ سبھی انسان تھے کوئی مافوق الفطرت ہستیاں نہیں تھے ان کا فہم کوئی حرف آخر نہیں تھا، دین میں جتنی آزادی سوچنے سمجھنے کی ان کو حاصل تھی ہر شخص کو اتنی آزادی کا حق حاصل ہے،←  مزید پڑھیے

ٹوٹے دلوں کی محفل۔۔۔۔۔سانول عباسی

١٣ جون ٢٠١٩ بروز جمعرات ” مسعید پاکستانی کمیونٹی” کے زیرِ انتظام و انصرام عید کی مناسبت سے “البانوش کلب مسعید” میں ایک شاندار “عید ملن پارٹی” کا انعقاد کیا گیا۔تقریب انتظامی حوالے سے اپنے اندر انفرادیت سمیٹے ہوئے تھی←  مزید پڑھیے

وہ جو پردیس رہتے ہیں۔۔۔سانول عباسی

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے←  مزید پڑھیے

بل ھم اضل۔۔۔۔۔۔ساؔنول عباسی

آج کے ہوس پرستانہ حالات کے تناظر میںاہلِ  ذوق دوستوں کی نذر   نظم “بَلْ ھُمْ اَضَل” مجھے اکثر یہ لگتا ہے کہ دنیا میں کہیں انساں نہیں باقی یہ جو انسان لگتے ہیں فقط آدم نما ہیں سب کوئی خصلت←  مزید پڑھیے

“شائقینِ فن دوحہ” قطر کے زیرِ اہتمام تقریبِ یومِ پاکستان وعالمی مشاعرہ۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ از ساؔنول عباسی انفارمیشن سیکریٹری  شائقینِ  فن دوحہ قطر ٢٨ مارچ ٢٠١٩ بروز جمعرات ادبی و ثقافتی تنظیم “شائقینِ فن دوحہ” کے زیرِاہتمام ٧٩ویں یومِ پاکستان کے سلسلہ میں ” البنوش کلب مسیعید ” میں پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔←  مزید پڑھیے

کتاب۔۔۔سانول عباسی

بچپن میں درسی کتابوں کے سرورق کے بعد پہلے صفحہ پر اکثر ایک لائن لکھی ہوتی تھی” کتاب بہترین ساتھی ہے” اسے ضائع ہونے سے بچائیے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو←  مزید پڑھیے

بےبسی….سانول عباسی

ایک نظم “بےبسی” اپنے لوگوں کے نام مرے لوگو!! کہیں پر کچھ نہیں بدلا یہ دنیا ظالموں کی تھی یہ دنیا ظالموں کی ہے یہ جنّت بےحسوں کی تھی یہ جنّت بےحسوں کی ہے اٹھا کے دیکھ لو تاریخ ساری←  مزید پڑھیے

انسانیت آنکھ موندے کہیں سو گئی۔۔۔۔۔سانول عباسی /نظم

اے خدا سن صدا بن کے انساں کبھی تو زمیں پر تو آ آج دنیا میں انسان کے روپ میں اِس طرف اُس طرف ہر طرف ہیں خدا ہی خدا وہ جو رہتا تھا دنیا میں انساں کبھی اب نہ←  مزید پڑھیے

گستاخِ رسول کون۔۔۔۔۔۔۔ سانول عباسی

قلم کو لے کے ہاتھوں میں یہ پہروں سوچتا ہوں میں کہ کیا لکھوں شرم سے ڈوب جاتا ہوں کبھی سوچا ہے نادانو محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان تو دیکھو خدا کے وہ مقَرّب ہیں فرشتے سر جھکاتے←  مزید پڑھیے

انسان سے افضل فقط خدا۔۔۔سانول عباسی

انسان سے افضل جو ذات بابرکت ہے، وہ وحدہ لاشریک، خدائے بزرگ و برتر، رب العالمین ہے، اس کا مقام و مرتبہ، ذات و صفات انسانی پروازِ بیان سے کہیں آگے ہے اس معاملے میں انسان مجبور ہے، وہ ہر←  مزید پڑھیے

جدت کا انکار کیوں۔۔۔سانول عباسی

ہر دور کے مسائل و ترجیحات مختلف ہوتے ہیں سماجی حالات و مسائل اپنا ارتقائی سفر طے کرتے ہوئے فی زمانہ جس نہج پہ آتے ہیں ان حالات کی بہتری و مسائل کے حل کے لئے اصلاحات کا بھی بعینہ←  مزید پڑھیے

قافکو پاک کمیونٹی تقریبِ استحسان و مشاعرہ۔۔۔۔۔سانول عباسی/تقریب کا احوال

پاک قافکو کمیونٹی کی جانب سے 13 جولائی 2018 بروز جمعہ بمقام البنوش کلب مسعید میں تقریبِ استحسان و پذیرائی اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں دوحہ قطر میں قیام پذیر انڈیا، نیپال اور پاکستان کے بہترین شعراء←  مزید پڑھیے

حوروں کی پریشانی ۔ سانول عباسی

زمین پہ افراتفری کا عالم ہے ہر شخص جنت میں جانے کا خواہاں ہے ۔ حور و غلمان کی طلب نے انسانوں کے حواس کو بےقابو کیا ہوا ہے اور یہ طلب اتنی شدید ہے کہ دنیا میں ایک دوسرے←  مزید پڑھیے

کیا ہم انسان کہلانے لائق ہیں؟۔۔۔۔سانول عباسی

ہمارا سماج جس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے وہ ناقابل بیان ہے یعنی من حیث القوم ہمارے تمام کے تمام افعال انسانیت کے گراف کی نچلی سطح سے بھی نیچے گر چکے ہیں, بےحسی و درندگی اس حد تک←  مزید پڑھیے

دیکھنے میں تو غنڈے لگتے ہو۔۔۔سانول عباسی

آج کچھ اور لکھنا تھا مگر یکایک کچھ پل ایسے گزرے کہ اسپِ خیال ماضی کے دھندلکوں میں محو سفر ہو گیا اونچی نیچی گرم سرد یادوں سے ہوتا ہوا یاد کے اس مزار پہ آ کے رک گیا جہاں←  مزید پڑھیے

سقراطیت ۔ بیوی کے قدموں کی دھول۔۔سانول عباسی

سقراط علم و عرفان کا سمندر، تاریخی انسانی کا عظیم کردار ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب درس و تدریس کے کام میں مشغول ہوتا تو اسے دنیا جہان کی کوئی خبر نہ ہوتی ۔بےخودی کے←  مزید پڑھیے

عوام بے قصور ہے۔۔سانول عباسی

ہمارا مسئلہ نہ تو صوبائی ہے نہ لسانی، نہ مذہبی، نہ قومی اور نہ ہی رنگ و نسل بلکہ سماج میں ان تعصبات کو مصنوعی طور پہ پیدا کیا جاتا ہے تاکہ عوام الناس کے شعور کو منتشر کیا جا←  مزید پڑھیے

بےگوروکفن انسانیت۔۔سانول عباسی

ہم اس دورِ پرفتن میں سانس لے رہے ہیں جس میں انسان ہونا نہ صرف باعث ندامت ہے بلکہ کبیرہ گناہ شمار ہوتا ہے اور ہر انسان اس کبیرہ گناہ کی پاداش میں جسمانی و روحانی کرب سے دوچار ہے←  مزید پڑھیے