سانول عباسی کی تحاریر
سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

خدا اور انسان۔۔سانول عباسی

خدا ہے یا نہیں اس کے حق میں ان گنت دلائل دئے جا سکتے ہیں اور اُن دئے گئے دلائل کا اسی شدومد کے ساتھ رد بھی کیا جا سکتا ہے یعنی جتنے دلائل ہیں ان سے کہیں زیادہ رد←  مزید پڑھیے

اکابرین و ہمارا رویہ۔۔سانول عباسی

ہمارا المیہ ہے کہ اپنے لئے کچھ معیار رکھتے ہیں اور دوسروں کے لئے کچھ ،اپنی ذات میں ہم انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں اور باقیوں کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک کہ وہ اپنی ذات←  مزید پڑھیے

سوچنا گناہ نہیں۔۔سانول عباسی

انسان کائنات میں خدا کا شاہکار ہے اس نے اپنے اس شاہکار کی ہر ضرورت کے خیال کے لئے اتنی بڑی کائنات کو سجا رکھا ہے مادی ضروریات کے ساتھ ساتھ فکری و روحانی تسکین کے لئے رب العالمین نے←  مزید پڑھیے

صفائیاں جو واجب بھی نہیں تھیں۔۔سانول عباسی

کافی دنوں سے نگوڑے کرونے نے مقید کیا ہوا ہے ،سارا گھر چڑچڑا ہوا پڑا ہے، بیگم ہر وقت مجھے اور بچوں کو ڈانٹتی رہتی ہے کہ سارا دن گھر میں دھماچوکڑی مچائی ہوتی ہے، ساری چیزوں کو ادھر اُدھر←  مزید پڑھیے

خودکشی حرام ہے۔۔سانول عباسی

تمام مسلمانوں سے درخواست ہے آپ چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کا نعم البدل کچھ بھی نہیں اور جو مسلمان احتیاط نہیں کرے گا اس کی موت خودکشی تصور←  مزید پڑھیے

گندے لوگ۔۔سانول عباسی

ذہن و دل کے نہاں خانوں سے مجھے اکثر ہچکیوں کی آوازیں آتی ہیں ،جیسے زنداں میں حیات و موت کی کشمکش سے دوچار کوئی ملزم زندگی کی آخری سانسوں میں کسی مسیحا کا منتظر ہو، ایک لمحے کو اجنبیت←  مزید پڑھیے

علم عقل حکمت اور جہالت۔۔سانول عباسی

کل استاد محترم جناب ادریس آزاد صاحب نے عقل (Intelligence)و حکمت (Wisdom)پہ ایک پوسٹ کی جو مکالمہ پر بھی شائع ہوئی ، حکمت اور ذہانت میں فرق۔۔ادریس آزاد ۔۔تو اس کے مطالعے کے بعد مستقل اسپِ خیال کی سمت اسی فکر←  مزید پڑھیے

سماجی نوحہ۔۔سانول عباسی

خدایا تیری دنیا میں کسی انسان کی وقعت نہیں کوئی عجب وحشت سی چھائی ہے پَڑھے لکھّوں کی کثرت ہے فقط انساں  نما تو ہیں مگر انسانیت سے دور ہیں سارے بہت سی ڈگریوں کا بوجھ لادے اپنے کاندھوں پر←  مزید پڑھیے

لکیر کے قفیر۔۔۔سانول عباسی/اختصاریہ

یہ ہمارا عمومی رویہ ہے جب بھی کوئی بات کرتے ہیں تو اپنی بات کو باوزن کرنے کے لئے مختلف حوالوں کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ میں بہت سے انسانوں نے اپنی علمی استعداد کے مطابق پُرخلوص محنت کی ہے←  مزید پڑھیے

پاک بزمِ احباب میسعید قطر۔۔۔۔سانول عباسی

٢٨ جولائی ٢٠١٩ بروز اتوار پاک بزمِ احباب قطر نے پاکستان سے تشریف لائے بہترین عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادب نواز سماجی شخصیت لاہور ادبی تنظیم “قرطاس” کے سربراہ جناب توقیر احمد شریفی صاحب کے اعزاز میں شعری نشست اور←  مزید پڑھیے

الوداعی تقریب۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ:-           ساؔنول عباسی        انفارمیشن سیکریٹری شائقینِ فن دوحہ ١٠جولائی ٢٠١٩ بروز بدھ شائقینِ فن دوحہ قطر کی جانب سے جناب محمد عرفان حیدر گریوال فنانس سیکریٹری “شائقینِ فن دوحہ ” کے اعزاز میں←  مزید پڑھیے

شخصیت پرستی شرک ہے۔۔۔سانول عباسی

علماء و مشائخ سبھی انسان تھے کوئی مافوق الفطرت ہستیاں نہیں تھے ان کا فہم کوئی حرف آخر نہیں تھا، دین میں جتنی آزادی سوچنے سمجھنے کی ان کو حاصل تھی ہر شخص کو اتنی آزادی کا حق حاصل ہے،←  مزید پڑھیے

ٹوٹے دلوں کی محفل۔۔۔۔۔سانول عباسی

١٣ جون ٢٠١٩ بروز جمعرات ” مسعید پاکستانی کمیونٹی” کے زیرِ انتظام و انصرام عید کی مناسبت سے “البانوش کلب مسعید” میں ایک شاندار “عید ملن پارٹی” کا انعقاد کیا گیا۔تقریب انتظامی حوالے سے اپنے اندر انفرادیت سمیٹے ہوئے تھی←  مزید پڑھیے

وہ جو پردیس رہتے ہیں۔۔۔سانول عباسی

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے←  مزید پڑھیے

بل ھم اضل۔۔۔۔۔۔ساؔنول عباسی

آج کے ہوس پرستانہ حالات کے تناظر میںاہلِ  ذوق دوستوں کی نذر   نظم “بَلْ ھُمْ اَضَل” مجھے اکثر یہ لگتا ہے کہ دنیا میں کہیں انساں نہیں باقی یہ جو انسان لگتے ہیں فقط آدم نما ہیں سب کوئی خصلت←  مزید پڑھیے

“شائقینِ فن دوحہ” قطر کے زیرِ اہتمام تقریبِ یومِ پاکستان وعالمی مشاعرہ۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ از ساؔنول عباسی انفارمیشن سیکریٹری  شائقینِ  فن دوحہ قطر ٢٨ مارچ ٢٠١٩ بروز جمعرات ادبی و ثقافتی تنظیم “شائقینِ فن دوحہ” کے زیرِاہتمام ٧٩ویں یومِ پاکستان کے سلسلہ میں ” البنوش کلب مسیعید ” میں پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔←  مزید پڑھیے

کتاب۔۔۔سانول عباسی

بچپن میں درسی کتابوں کے سرورق کے بعد پہلے صفحہ پر اکثر ایک لائن لکھی ہوتی تھی” کتاب بہترین ساتھی ہے” اسے ضائع ہونے سے بچائیے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو←  مزید پڑھیے

بےبسی….سانول عباسی

ایک نظم “بےبسی” اپنے لوگوں کے نام مرے لوگو!! کہیں پر کچھ نہیں بدلا یہ دنیا ظالموں کی تھی یہ دنیا ظالموں کی ہے یہ جنّت بےحسوں کی تھی یہ جنّت بےحسوں کی ہے اٹھا کے دیکھ لو تاریخ ساری←  مزید پڑھیے

انسانیت آنکھ موندے کہیں سو گئی۔۔۔۔۔سانول عباسی /نظم

اے خدا سن صدا بن کے انساں کبھی تو زمیں پر تو آ آج دنیا میں انسان کے روپ میں اِس طرف اُس طرف ہر طرف ہیں خدا ہی خدا وہ جو رہتا تھا دنیا میں انساں کبھی اب نہ←  مزید پڑھیے

گستاخِ رسول کون۔۔۔۔۔۔۔ سانول عباسی

قلم کو لے کے ہاتھوں میں یہ پہروں سوچتا ہوں میں کہ کیا لکھوں شرم سے ڈوب جاتا ہوں کبھی سوچا ہے نادانو محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان تو دیکھو خدا کے وہ مقَرّب ہیں فرشتے سر جھکاتے←  مزید پڑھیے