یہ بغاوتوں کی رونمائی ہے۔۔رابعہ الرّباء

ہوا میں خوشبو کس سفرکی ہے

ہوامیں خوشبو کس سفر کی ہے
ہواکا ڈھنگ بدلابدلا سا ہے
ہوا کے سنگ
حالات کے رقص
قہقہے لگاتے ہیں جب
پیڑوں کی زنجیریں در و دیوار سےہمکلام ہوتی ہیں
درو دیوار اونچے محلوں کو سیراب کرنے والے لہو سے پوچھتے ہیں
ہوا میں خوشبو سفرکی کہاں آئی ہے
یہ سکوت کی ندی میں آگ کس نے لگائی ہے
یہ سہما سہما سا بغاوت کا جھونکا
یہ روٹھا روٹھا غیرت کا پل
یہ بہکےبہکے گیتوں کے سُر
یہ اٹھی نگاہیں زمیں سے کیسے
یہ زنجیر پائل بنی کیسے
یہ آفتاب شرما کیوں رہا ہے
یہ مہتاب مسکرا کیوں رہا ہے
یہ ہوا سفر کی ہےکیسے
یہ امید کے تارے جوٹانک گئی ہے
اس کو جرات یہ کیسے ہوئی ہے
یہ بہکے بہکے نظاروں کی باتیں
یہ دل اوردلداروں کی باتیں
یہ راہ اور کناروں کی باتیں
مجھ کو بتاؤ یہ کیسے چلی ہیں
ہوا میں خوشبو، یہ کیسے ملی ہے
بدلی کہاں سے آ کے رکی ہے
خوف کا پل پائل کا زنگ بن کر
زخم رستے میں مانگ بنائے
اور سندرتا چمن میں بو کے
اس نے مانگ سے سیراب کیے ہیں
اب وہ سب پھو ل بن گئے
خوشبو ان کی ہوا سے ہم کلام ہوتے ہوتے
کہانی غلامی کی غلام ہوتے ہوتے
ہوا سے جا ملی پیغام ہوتے ہوتے

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

ہوا میں خوشبو یہاں سے آئی ہے
محل کی مٹی لہو سےجگمگائی ہے
ہوا میں خوشبو سفر کی آئی ہے
یہ بغاوتوں کی رونمائی ہے
ہوا میں خوشبو سفر کی آئی ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply