باتیں۔۔سعید احمدؔ آفریدی

انسان کی عُمر ختم ہو جاتی ہے لیکن باتیں نہیں ختم ہوتیں۔ قبر میں باتیں، حشر میں باتیں، جنت اور جہنم میں باتیں۔ بندوں سے باتیں، اللہ سے باتیں۔ اور تو اور ہوا سے باتیں، آسمان سے باتیں،دیواروں سے باتیں اور جب بات کرنے کے لیے کوئی نہ ہو تو اپنے آپ سے باتیں۔ انسان کو باتیں بنانا کتنا مرغوب ہے اس کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اسے پرندوں میں سب سے زیادہ طوطا پسند ہے ۔ وہ طوطا جو باتیں کرتا ہو۔

انسان اور دیگر انواع میں جہاں اور بہت سے فرق ہیں وہاں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ انسان ہی وہ واحد نوع ہے جواپنے شوقِ کلام میں قطع  کلامی کرتی ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ یہ دوسرے تمام انسانوں کا کلام مستقل قطع  کردے۔ غور کریں تو انسان اس لیے دولت کے ڈھیر نہیں لگاتا کہ اُس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ بلکہ صرف اس لیے کہ زیادہ دولت زیادہ قطع  کلامی کا حق دیتی ہے۔ بد قسمتی یا خوش قسمتی سے یہاں جس کا کلام مستقلاً قطع  ہو جائے وہ شاعر بن جاتا ہے۔ شاعر بننے کے بعد وہ انسانوں کو چھوڑ کر باقی ساری فطرت سے باتیں کرنے لگتا ہے ۔ ایسے ہی تو شاعر نے نہیں کہا تھا کہ ۔
’’رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے‘‘۔

ساری باتیں، ساری تقریریں، سارے کلام ،اُمید کے ایندھن سے رواں ہوتے ہیں۔جہاں اُمید ختم ہوتی ہے ، ٹھیک وہیں سے خاموشی کا آغاز ہوتاہے۔ فطرت نے مایوسی یوں ہی تخلیق نہیں کی۔ کیونکہ مایوسیوں کے بعد ہی کُھلتا ہے کہ فقط باتوں سے قلعے فتح نہیں ہوتے۔ایسی ہی کسی مایوسی پر شاعر نے کہا تھا:۔
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس اُمید پہ کہیئے کہ آرزو کیا ہے

اور یہ بھی کہ ۔
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

اس مایوسی بھری لمبی چُپ کے بعد بھی شاعر فقط اِتنا ہی تو کہتا ہے ۔
میں بھی منہ میں زباں رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مُدّعا کیا ہے

مایوسی کی یہ بریکیں انسان کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ نہ ہوں تو انسان اپنی ذات سے بالکل ہی غافل ہوجائے۔ کیونکہ چشمِ گفتار خارج میں سفر کرتی ہے اور چُپ کی آنکھیں مَن کھوجتی ہیں۔
کم لوگ ہی ایسے ہیں جو خاموشی کے اِن عظیم لمحوں کو غنیمت جان کر سوچ کی وادیوں کا رُخ کرتے ہیں ۔ ورنہ اکثریت انہی لوگوں کی ہے ، جو کلامِ مُسلسل کے شوق میں بات سے بات نکال کر قصّے کو طول دیئے جاتے ہیں۔ انہی لوگوں میں کچھ وہ بھی ہیں جو ذرا سی بات کو زیبِ داستاں کے لیے بڑھائے چلے جاتے ہیں ۔اور کچھ وہ جو بِلا وجہ بات کا بتنگڑ بنانے کے شائق ہوتے ہیں۔ اسی جہانِ حیرت میں جہاں بہت سے لوگ باتوں سے روپیہ کماتے ہیں وہیں کچھ ایسے نایاب لوگ بھی ہیں جو خاموشی کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

اب ہونا تو یہ چاہیے کہ باتوں کی اس عظیم بِھیڑ میں جو معدودے چند گونگے ہیں ، اُن کا احترام کیا جاتا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ اُن کی کوئی عزت نہیں کرتا ۔ اس لیے نہیں کہ وہ بولنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ بلکہ   صرف اور صرف اس لیے کہ وہ سُن نہیں سکتے۔ گونگوں سے بات کرنا، بھینس کے آگے بین بجانے سے بھی زیادہ غیر نتیجہ خیز عمل ہے۔

عورتیں بہت جلد باتوں میں آجاتی ہیں اور پھر اس سے بھی جلدی باتیں عورتوں  میں آجاتی ہیں۔ اِن کے مقابل وہ مرد کامیاب تصوّر کیا جاتا ہے جو عورت کی باتوں کو ہوا میں اُڑا دے۔ چونکہ عورت کی جائے قرار آج بھی زیادہ تر گھر ہی ہے ۔ اس لیے کیا ہی اچھا ہو کہ گھر وں میں باتھ روم کے ساتھ ساتھ ’’بات روم ‘‘ بھی مخصوص ہوں۔ علامہ کا فرمایا مستند کہ ’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ علامہ کے پیشِ نظر خاموش عورت تھی۔ ورنہ روائتی عورت کے لیے علامہ کے مذکورہ مصرعے میں رنگ کی جگہ بھنگ یا جنگ شامل کرنا زیادہ قرینِ انصاف ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *