پرانے گودام کے تنکے؟ (8)۔۔وہاراامباکر

”برٹش انڈیا جتنا طاقتور آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ ہر طرف امن و سکون ہے۔ قانون کی بالادستی ہے۔ ملک محفوظ ہے۔ لوگ خوش ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں میں برٹش راج اور ہندوستانی عوام نے بہت ترقی کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اتنا مضبوط اور اتنا سنہرا دور پہلے نہیں آیا۔ اس کے درمیان میں ہندوستان میں علامتی بادشاہت کو مزید برقرار رکھنا ایک مذاق ہو گا۔ دہلی کا شاہی گھرانہ ہر لحاظ سے غیرمتعلقہ ہو چکا ہے۔ اس کے جانے پر کوئی مسلمان بھی افسوس نہیں کرے گا”۔ برٹش انڈیا کے گورنر جنرل چارلس کیننگ نے یہ رپورٹ 1856 میں لکھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخری مغل بادشاہ کے ولی عہد مرزا فخرو کا انتقال 10 جولائی 1856 کو ہیضے کی وجہ سے ہوا۔ اس سے اگلے روز برٹش ریزیڈنٹ سائمن فریزر بادشاہ سے افسوس کرنے گئے تو بادشاہ نے درخواست کی کہ انہیں اپنی مرضی کا جانشین منتخب کرنے دیا جائے۔ فریزر کے ذہن میں کچھ اور ہی تھا۔

فریزر نے اس سے پہلے گورنر جنرل کو کہا تھا کہ، “کوئی بھی شہزادہ اس قابل نہیں کہ اسے اگلا بادشاہ بنایا جائے۔ نہ ان میں کوئی خوبی ہے اور نہ صلاحیت۔ سوائے خاندانی دولت پر عیش و عشرت کے سوا کچھ کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ مغلیہ خاندان کے اختتام کی تیاری کر لیں جو بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا اور وہ وقت دور نہیں”۔ گورنر جنرل کیننگ نے فریزر سے اتفاق کیا تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے doctorine of lapse کا طریقہ شروع کیا تھا۔ اس کے مطابق، اگر کوئی مقامی حکمران فوت ہو جائے جس کا کوئی مرد وارث نہ ہو یا حکمرانی کے قابل نہ ہو تو کمپنی اس علاقے پر براہِ راست کنٹرول ھاصل کر لے گی۔ سمبل پور، ناگپور، جھانسی، جیت پور اور آرکٹ کی ریاستیں اس طریقے سے برٹش کنٹرول میں آئی تھیں۔ یہ سب بہت چھوٹی ریاستیں تھی لیکن گورنر جنرل نے دہلی کے بارے میں بھی فیصلہ لے لیا تھا کہ تاریخی اور بڑا قدم لینے کا وقت آ گیا ہے۔ اب تین صدیوں سے زیادہ جاری مغلیہ بادشاہت کو ختم کر دینے کا وقت ہے۔ مرزا فخرو کی وفات کے بعد نیا ولی عہد بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کیننگ کی یہ خوداعتمادی اس وجہ سے تھی کہ برٹش سرکار کا رابطہ ہندوستانی عوام سے کٹ چکا تھا اور رائے عامہ کا اندازہ نہیں رکھتا تھا۔ دہلی میں یہ پیغام دے دینے کا مطلب یہ تھا کہ مغل خاندان کی رہی سہی کوئی امید بھی دم توڑ گئی۔ یہ وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ انہیں جلد ہی بھگتنا پڑنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہادر شاہ ظفر کو مرزا فخرو کی موت اور برٹش کا اودھ کی ریاست کو براہِ راست کنٹرول میں لے لینے کے بعد مغل خاندان کا اختتام نظر آ رہا تھا۔ اکاسی سالہ بادشاہ کی خواہش اب یہی رہ گئی تھی کہ جتنا ان کے پاس ہے، آگے وراثت میں دے جائیں۔ انہوں نے لارڈ ڈلہوزی کو خط لکھا تھا کہ “میری زندگی تو زیادہ نہیں بچی۔ میری خواہش صرف یہ ہے کہ میرے بعد میرے خاندان کو تکالیف کا سامنا نہ ہو”۔ ڈلہوزی نے سیکرٹری کے ذریعے جواب لکھوایا کہ ”آپ اپنی زندگی میں بیگمات اور شہزادوں کو جو معیارِ زندگی دے رہے ہیں، وہ اس کے بعد جاری نہیں رہ سکتا”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابراہیم ذوق کو بہادر شاہ ظفر نے استاد مقرر کیا تھا۔ ان کی وفات 1854 میں ہوئی۔ ان کے بعد بادشاہ نے یہ عہدہ مرزا غالب کے پاس آیا۔ غالب دہلی میں مغلوں کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں تھے۔

غالب نے ملکہ وکٹوریا کو ایک خط لکھا جس میں ان کی مدح سرائی کے بعد کہا کہ “آپ ہند کی روایات سے واقف نہیں۔ تاریخ کے عظیم حکمران شاعروں اور نکتہ وروں کا منہ موتیوں سے بھر دیتے تھے، انہیں سونے سے تول دیا کرتے تھے، جاگیریں عطا کرتے تھے۔ اب یہ عظیم حکمران ملکہ وکٹوریا کا فرض ہے کہ غالب کو مہرخوان کا لقب دیں،خلعت عطا کریں۔ اور کچھ نہیں تو اپنے خزانوں میں سے بس ایک تھوڑا سا حصہ دے دیں جس کو انگریزی میں پنشن کہا جاتا ہے”۔

غالب اس خط کے جواب کا انتظار کرتے رہے، اس کا جواب جنوری 1857 میں آ گیا کہ ان کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔ نہ مہرخوان کا لقب ملا، نہ جاگیر عطا ہوئی اور نہ پنشن ملی لیکن اس جواب نے اس سب سے زیادہ اہم کام کیا۔ چند ماہ بعد، اس نے غالب کی جان بچا لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غالب کی مایوسی کی ایک وجہ یہ تھی کہ عام دہلی والوں کے برعکس وہ مغربی سائنسی ترقی سے واقف تھے جو انہوں نے کلکتہ میں خود دیکھی تھی۔

سرسید احمد خان مغل شان و شوکت پر لکھ رہے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے آئینِ اکبری کا اردو میں ترجمہ لکھا اور مرزا غالب کو دیباچہ لکھنے کو کہا۔ غالب نے احمد خان کو نہ صرف منع کر دیا بلکہ ساتھ مشورہ دیا کہ یہ بے کار کی کاوش ہے۔ ماضی کو دیکھنا ختم کریں، آنے والے وقت کی فکر کریں۔

“ان برطانوی صاحبوں کو دیکھیں۔ یہ ہمارے مشرقی آباء سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ ان کے بحری جہازوں نے ہوا اور لہر کی ضرورت ختم کر دی ہے۔ یہ آگ اور بھاپ سے انہیں چلاتے ہیں۔ یہ مضراب کے بغیر موسیقی بجا لیتے ہیں۔ ان کے جادو سے لفظ پرندوں کی طرح ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں (ٹیلی گراف)۔ انہوں نے ہوا میں آگ لگا لی ہے۔ بغیر تیل کے چراغوں کے شہر روشن کر دئے ہیں۔ ان کے قوانین نے ہمارے قوانین کو فرسودہ کر دیا ہے۔ پرانے گودام سے تنکے چننے کا کیا فائدہ جب موتیوں کا خزانہ سامنے پڑا ہو۔

اکبر کے آئین کی تعریف اس وقت کرنے کا کیا فائدہ جب نئی دنیا کا آئین کلکتہ میں لکھا جا رہا ہے”۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر مرزا غالب کی۔ یہ ان کی واحد محفوظ تصویر ہے جو ان کے دوست بابو شیو نارائن کے پاس تھی۔ ان کی پڑپوتی سنتوش مدہور نے اسے پبلک کیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *