خدا اور انسان۔۔سانول عباسی

خدا ہے یا نہیں اس کے حق میں ان گنت دلائل دئے جا سکتے ہیں اور اُن دئے گئے دلائل کا اسی شدومد کے ساتھ رد بھی کیا جا سکتا ہے یعنی جتنے دلائل ہیں ان سے کہیں زیادہ رد بھی موجود ہیں۔

جس طرح انسانی جذبات کو لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے انسان کے جذبات جیسے جیسے اپنی انتہاوں کو چھوتے ہیں ویسے ویسے اس کی زبان گنگ ہوتی چلی جاتی ہے لفظ اپنے اپ میں بےوقعت و لایعنی ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم کوشش کے باوجود بھی اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور جس کے سامنے ہم اپنے جذبات کو بیان کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں وہ اگر ہمارے جذبات کو اسی وارفتگی محبت و اپنائیت سے محسوس نہ کرے تب تک اسے کچھ سمجھ نہیں آتا۔

یہ دو طرفہ معاملات ہیں جیسے بیان کرنے والا اپنے جذبات کو جیسے بیان کرتا ہے اگر اس میں وہ وارفتگی و شدت نہ ہو تو محسوس کرنے والے پہ بھی ان کا ویسا اثر ویسا والہانہ پن پیدا نہیں ہوتا اور اگر جذبوں میں صداقت ہو تو لفظوں کی سیڑھیاں بےوقعت ہو جاتی ہیں اور اگر لفظوں کا جامہ پہنانے کی اپنی سی کوشش کی بھی جائے تو اس وقت

لفظ جذبات کی صداقت کو پراگندہ کر رہے ہوتے ہیں۔

خدا اور انسان کا تعلق لفظوں سے ماوراء اس احساس کی مانند ہے جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر بیان نہیں کیا جا سکتا اور یہ احساس جب تک انسان اپنے اندر ڈوب کے صدقِ دل و خلوص نیت کے ساتھ محسوس نہ کرے یہ احساس اس سے پردہ کئے رکھتا ہے اور جونہی انسان اپنی تلاش کو خالص کرتا ہے وہ رب ذوالجلال اس پہ اپنا نور منکشف کر دیتا ہے۔

خدا دلیلوں سے نہیں محبت سے محسوس ہوتا ہے۔

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *