کم عمری کا اپنا ہی ہڑونگا پن ہے۔ اس وقت ماں باپ کی قربانیوں اور ان کی جد وجہد کا شعور نہیں ہوتا۔ اولاد بجائے احسان مند ہونے کے ان آسائشوں کو ان کی محبت نہیں بلکہ اپنا حق گردانتی← مزید پڑھیے
اسلام آباد کی فضا سے مون سون کے بادل چھٹ چکے تھے ۔ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں تھی ۔ سورج کی کرنیں تیز پڑ رہی تھیں۔ کہیں کہیں سڑک پر سراب ہماری آنکھوں کوخیرہ کردیتا۔ یہ منظر ہمارے قریب← مزید پڑھیے
مدھم مدھم دھیرے دھیرے صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں نالاں ، شاکی اپنے ترچھے سایوں کی پسپائی پر اب سبک سبک کر اُلٹے پاؤں چلتے چلتے دور افق میں ڈوب گئی ہیں ایک نئی ہلکی ’ ’ سُر← مزید پڑھیے
معزز قارئین! “Sharing the Secret” بچپن میں جنسی زیادتی کی شکار خاتون جیمی اور ان کے تھراپسٹ ڈاکٹر سہیل کے مکالمے پر مبنی کتاب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹرخالد سہیل نے اس کتاب کے ترجمے کی ذمہ داری مجھے← مزید پڑھیے
کسی کتاب پر تبصرہ لکھنا اتنا آسان نہیں۔ تبصرہ یا ریویو لکھنے کے لئے بہت اچھا قاری ہونا اور کتاب کے حرفوں اور لفظوں سے مخلصانہ محبت جو مصنف کی دوستی کو بالاۓ طاق رکھ کر کی جاۓ۔ اس← مزید پڑھیے
ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے بادلوں کی ردا اوڑھ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ← مزید پڑھیے
پوسٹ کلونیلزم (مابعد استعماریت یا مابعد نوآبادیت) کا تصور ہمارے ذہنوں میں آتے ہی کلونیلزم (استعماریت یا نوآبادیت) کا تصور بھی ساتھ میں آتا ہے۔کیوں کہ مابعد استعماریت، استعماریت کے بعد والا ہی ڈسکورس اور زمانہ ہے۔اس لیے مابعد استعماریت← مزید پڑھیے
بغیچے کے لئے دل جل رہا ہے، چمن کو رو رہی ہوں میں، کسی کو فکرِ گل کیوں ہو؟ وہ مچھلی مر رہی دیکھو، کوئی کیوں مان لے، یہ گلستاں، گھٹ گھٹ کے مرتا ہے، کہ سورج کی تمازت سے← مزید پڑھیے
2007ء میں دوستوں کے ساتھ مری سیر و تفریح، آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے گیا۔ مال روڈ، کشمیر و پنڈی پوائنٹ، نتھیا گلی، اپرٹوپہ،لوئر ٹوپہ، بھوربن، پتریاٹہ، ایوبیہ کی جی بھر کے سیر کی۔ بائیں کندھے پر جعلی← مزید پڑھیے
مصنف کا تعارف: خدائے بزرگ و برتر دین کی خدمت کے لیے جن کا انتخاب فرماتا ہے انہیں ایسی صلاحیتوں سے نوازتا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ آج جس شخصیت کا تعارف پیش کیا جارہا ہے وہ← مزید پڑھیے
اِک ہری چُگ وسوسوں میں غرق وہمی شخص تھاوہ سوچتا رہتا تھا، پیدا کیوں ہُوا ہے اور اگر ہو ہی گیا ہے اس پراگندہ زمیں پر ایسے ژولیدہ زماں میں کیوں ہُواہے؟ کیا دساور میں کوئی ابنِ سبیل ایسا علاقہ← مزید پڑھیے
فرحین خالد کے توسط سے ملنے والا ناولٹ ”دی فادر، دی سن اینڈ دی ہولی گھوسٹ“پڑھنے کو ملا،ایک نشست میں پڑھ ڈالا۔ مجھے اوروں کا معلوم نہیں میں جب بھی کوئی کتاب پڑھنے کے لیے ہاتھ میں تھامتا ہوں تو← مزید پڑھیے
ملک الطاف حسین میرا انٹرمیڈیٹ کے وقت کا دوست تھا۔انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سرگودھا میں انگریزی کا پروفیسر تھا۔ ہم لوگ دس سال بعد ملے تھے۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں کہیں نصف رات← مزید پڑھیے
پاکستان منتقل ہونے کے بعد بہت سی علمی محفلوں میں شرکت کی تو اندازہ ہوا کہ جو آج کی نئی نسل ہے وہ تو بہت آگے چلی گئی ہے ۔ مذہب کے حوالے سے دو انتہائیں پائی جاتی ہیں اور← مزید پڑھیے
چاند کے سنگ اک، تارا ہردم دیکھا ہے چپکے، چپکے رین کتھا، جو کہتا ہے منزل ،منزل دیکھ، کٹھن ہے جیون کی ہر اک گام پہ ، کالا اژدر ، بیٹھا ہے رشتوں کے پھولوں پہ، لوبھ کا بھنورا ہے← مزید پڑھیے
A Short Note about the poem MALAMATI …… ملامتی In 1982 while supervising a doctoral student’s work on the poetry of the Puritan period in England, I was so engrossed in the subject that I started my search for self-abnegating← مزید پڑھیے
چند برس اُدھرہی کا تو ذکر ہے ۔ ہمہ اطراف خُشک سالی برس رہی تھی۔ ایسی کہ بڑے بڑے منحرفین بھی نمازی ٹوپیوں اور تسبیحوں سے لیس ہو کر درگاہوں اور مسجدوں میں اُتر آئے ۔ جو نذر نیاز کوعقیدے← مزید پڑھیے
ادبی جریدہ اثبات کے مدیر ،شاعرو ادیب اشعر نجمی کا ناول صفر کی توہین اس وقت زیر بحث ہے ۔ ایسے حسّاس موضوع پر قلم اٹھانا ہمت کا کام ہے اشعر نجمی نے اس ناول کے ذریعے قاری کے ذہن← مزید پڑھیے
ادب کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں ۔ کسی نے ادب کو محض حِظ پہنچانے کا ذریعہ قرار دیا ہے اور کوئی اسے سماج میں تبدیلی کا ایک ہتھیار سمجھتا ہے۔ لیکن یہ بات اب طے ہے کہ ادب کا← مزید پڑھیے
شاعری الہام کی صورت دلوں میں اترتی ہے اور جذبوں کے سیلِ رواں کی لفظوں میں ترتیب و تنظیم کرتی جاتی ہے۔ شاعری عطا ہے، خاص ودیعت ہے جو ہر دل پر مہرباں نہیں ہوتی۔ جن پر یہ دیوی مہربان← مزید پڑھیے