راز پر لب کشائی۔۔قسط نمبر 13 اور 14۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/مقدس مجید

معزز قارئین!
“Sharing  the  Secret”
بچپن میں جنسی زیادتی کی شکار خاتون جیمی اور ان کے تھراپسٹ ڈاکٹر سہیل کے مکالمے پر مبنی کتاب ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹرخالد سہیل نے اس کتاب کے ترجمے کی ذمہ داری مجھے سونپی۔ اس کے ہر باب سے میں بچپن میں زیادتی کے شکار لوگوں کی نفسیات اور تھراپی کے حوالے سے گہری اور دلچسپ معلومات حاصل کر سکی۔ چند باب آپ کی خدمت میں بھی پیش کرنا چاہوں گی!)  مقدس مجید
خط نمبر13
بحالی
محترمی جیمی!
میں بہت خوش ہوں کہ اب آپ بہتر محسوس کر رہی ہیں۔ آپ زندگی کے مشکل مراحل میں امید کا دامن چھوڑے اور خود کو نقصان پہنچائے بغیر بہادری سے سامنا کر رہی ہیں۔ اب آپ یہ جان گئی ہیں کہ یہ بھی بیت جائے گا.
مجھے لگتا ہے کہ آپ بطور ماں خود سے ناراض ہیں۔ میں نے گزشتہ کئی سالوں میں آپ کو خیال کرنے اور محبت کرنے والی شفیق ماں کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کے والد نے اپنے رویے میں کچھ سختی اپنائی تاکہ کچھ حدود کا تعین کر سکیں جو کہ آپ کے ٹین ایجر بچوں کو پسند نہ آئیں۔ بہت سے ٹین ایجرز کنڑول کیے جانا پسند نہیں کرتے۔ مشہور و بدنامِ زمانہ ناول نگار ہنری ملر نے کہا کہ
” ہم اپنے والدین سے اس لیے نفرت کرتے ہیں تاکہ خود کو آزاد کرا سکیں”۔
آپ کے بچے آپ کی انگلی چھوڑ کر چلنے کو تیار ہیں اور اب وہ ایسا کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس سب کو دل پر مت لیں۔ مجھے یقین  ہے کہ جانے کے بعد وہ لوٹ کر آپ کو یہ بتلانے ضرور آئیں گے کہ وہ آپ سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور آپ کو یاد کرتے ہیں۔ میں آپ کے لیے فکر مند ہوں اور آپ کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ آپ اپنے گھر کے خالی پن سے نمٹ سکیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے شوق اور خوابوں پر کام کریں اور چند قریبی دوست بنائیں تاکہ آپ اپنے ماں کے کردار کے علاوہ بھی اپنی زندگی کو بخوشی جی سکیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل
میں سائیکو تھراپی یونٹ میں آپ کے تجربات پڑھنے کا منتظر ہوں تاکہ سمجھ سکوں کہ آپ نے نفسیاتی بحران سے واپسی کا راستہ کیسے نکالا۔
مخلص
ڈاکٹر سہیل
*********** *********
خط نمبر14
اعتماد اور سچ
عزیز ڈاکٹر سہیل!
اس وقت تو مجھے احساس نہیں ہوا تھا مگر سائیکو تھراپی پروگرام کا آغاز درحقیقت میری زندگی میں ایک نئے باب کی شروعات تھی۔ ایک ایسے مرحلے کا آغاز تھا جو مجھے اپنے بچپن کے ناخوشگوار اور تکلیف دہ تجربے سے باہر نکلنے کے راستے پر لے گیا۔ وہ تجربہ جو مجھے پوری طرح سے یاد بھی نہیں تھا۔
اس صدمے سے نمٹنے کا پہلا قدم اپنی دونوں تھیراپسٹس کیتھی اور بیتھ پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھل کر بات کرنا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں صدمے کو یاد کر پاتی مجھے کیتھی اور بیتھ پر اعتماد کرنا تھا۔ مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ میں نے کیتھی سے کھل کر بات کی تھی۔ ہمارے سیشن کے آغاز میں ہی کیتھی بھانپ گئی تھی کہ میں افسردہ دکھائی دے رہی ہوں جیسے ابھی ابھی رو دوں گی۔ اس کی نظروں میں میرے لیے فکر اور لہجے میں نرمی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اگرچہ میں اندر سے کسی پر بھی بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہ تھی اس کے باوجود میں نے کیتھی پر بھروسا کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح پچھلی ماہرِ نفسیات نے مجھے اپنے دفتر سے جانے دیا اور یہ کہا کہ میں لوٹ آؤں گی حالانکہ میں بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ اب کبھی میری شکل نہیں دیکھے گی۔
“وہ مجھے ہسپتال میں داخل ہو جانے کی تجویز دے سکتی تھی مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اسے میری بالکل بھی پرواہ نہیں تھی” میں نے کیتھی کو بتایا۔ “میں اس کی طرف سے تھوڑی سی توجہ اور خیال ہی تو چاہتی تھی” میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا۔ “میں کسی کے لیے اہم نہیں۔ میں بے وقعت ہوں” میں نے روتے ہوئے کہا۔  کیتھی نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرم آواز میں کہا کہ ” تم اہم ہو!”۔ یہ وہ بات تھی جو سائیکو تھراپی پروگرام کے نو مہینوں میں اس نے کئی مرتبہ مجھ سے کہی اور یہ تمام وقت مجھے اس بات پر یقین کرنے میں لگا۔
پہلی مرتبہ میرا بیتھ سے بات کرنا ارادتاً نہیں تھا۔ مجھے ایک یاد ستا رہی تھی جس کو میں صحیح سے سمجھ بھی نہیں پا رہی تھی۔ یہ میرے جسم کے ذاتی حصوں   کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کی تصویر تھی۔  بار بار یہ تصویر میرے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ یہ میرے ڈاکٹر کے متعلق بھی ہو سکتی تھی جو میری ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو سیدھا کر رہا تھا جب میں نو سال کی تھی۔ لیکن کسی وجہ سے یہ تصویر ڈاکٹر والے واقعے سے کہیں زیادہ خوفناک محسوس ہوتی تھی اور میں اس احساس سے نکل نہیں پا رہی تھی۔ میں بہت ڈری ہوئی اپنے بستر میں چھپی ہوئی تھی۔ بیتھ کے ساتھ میرے سیشن میں دیری ہو رہی تھی۔ وہ آئی اور مجھ سے میٹنگ روم میں ملنے کا کہا۔ جب میں اس سے میٹنگ روم میں ملی تو میں فوراً سے صوفے پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور خرگوش نما تکیے کو زور سے گلے لگا لیا۔ بیتھ سمجھ گئی کہ کچھ تو گڑبڑ تھی لہٰذا اس نے احتیاط سے پوچھا “تمہارا ننھا دوست کون ہے؟”
خرگوش کو مزید قریب کرتے ہوئے میں بولی ” تھمپر”۔
“جیمی تم یہاں پر محفوظ ہو” بیتھ نے نرمی سے کہا۔ “کوئی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ تم بہت ڈری ہوئی ہو۔ کیا تم بتا سکتی ہو کہ ایسا کیا ہے جو تمہیں خوفزدہ کر رہا ہے؟”
آنسو میری گالوں پر لڑھکنے لگے۔ میں نے سرگوشی کی
 “ایسا لگتا ہے کہ کوئی مجھے چھو رہا ہے”.
بیتھ مجھے یقین دلاتی رہی کہ میں محفوظ ہوں۔ پھر وہ یاد مجھ پر واضح ہونے لگی اور مجھے احساس ہوا کہ میں درحقیقت کہاں پر کس کے ساتھ تھی۔ اپنی آنکھوں میں میرے لیے احساس لیے بیتھ لگاتار مجھے دیکھے جا رہی تھی۔ میں نے نظریں جھکا لیں۔ مجھے اپنے آپ کو زور سے  خرگوش کو گلے لگائے دیکھ شرمندگی ہوئی۔ “میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟” میں نے ایک بچے کی طرح محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
بیتھ نے وضاحت دی کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے کوئی جسم سے متعلق یاد کوئی body memoryآ رہی ہو۔ ہمارا جسم یادوں کو محفوظ کر لیتا ہے اور کچھ لمحات میں ان کو عیاں کرنے لگتا ہے۔ ایسا اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب یادیں بہت تکلیف دہ ہوں اور ذہن ان سے دور بھاگنا چاہتا ہو۔ مجھے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ جو ہاتھوں کی تصویر میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی وہ ایک پرانی یاد بھی ہو سکتی ہے۔
اس یاد کا سب سے مشکل حصہ یہ تھا کہ میں ایک پانچ سے چھ سال کی بچی کی طرح محسوس کر رہی تھی۔ “آخر ہوا کیا تھا میرے ساتھ؟” میں نے اپنے آپ سے پوچھا۔ مگر میں جواب سے خوفزدہ تھی۔ میں نے بیتھ کو بتایا کہ مجھے کچھ بہت ہی برا محسوس ہوتا ہے مگر میں یاد نہیں کر پاتی کہ آخر یہ کیا تھا؟ ان دونوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ ” جب تمہارا ذہن تیار ہو گا اس وقت تم سمجھ سکو گی کہ صحت مند ہونے کے لیے تم کیا یاد کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔”
صحت مند ہونے کی طرف یہ میرا پہلا قدم تھا۔ کیتھی اور بیتھ پر اس قدر اعتماد کر پانا کہ میں کھل کر اپنے احساسات، ڈر اور خوفناک یادیں بیان کر سکوں جو مجھے عمر بھر ڈراتی رہیں اور میرے ذہن کو الجھاتی رہیں۔ جیسا کہ آپ نے اپنے پچھلے خط میں لکھا تھا کہ “تین قدم آگے تو ایک قدم پیچھے”. میرے معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
مخلص
جیمی

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply