نظم کہانی۔۔۔(3)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اُنگلی مالا

ایک ضروری نوٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگلی مالا کی کتھا بُدھ کی تعلیمات کا ایک خاص باب ہے۔ یورپی، جاپانی اور امریکی بودھوں نے کہا ہے کہ انسانی تہذیب میں زنداں (جیل) کو ایک اصلاح خانہ کا پہلا سبق اس کتھا سے ملتا ہے۔جیل کو ایک اصلاح خانے میں تبدیل کرنے اور قیدیوں کوعملی تعلیم و تربیت دے کر انہیں پیشہ ورانہ مہارت سکھانا اس کتھا کی بنیاد ہے۔ بدھ جب وسط ہندوستان میں گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویاکھیان دیتے پھر رہے تھے تو انہیں اس رہزن کے بارے میں پتہ چلا، جو مسافروں کو لوٹ کر انہیں قتل کر دیتا تھا اور پھر ان کی انگلیاں کاٹ کر اپنی مالا میں پرو لیتا تھا۔ کسی کو بھی، یہاں تک کہ پڑوسی راجاؤں کو بھی یہ حوصلہ نہیں تھا کہ وہ فوج بھیج کر اس کی بیخ کنی کریں۔ مہاتما بُدھ اکیلے چلتے ہوئے اس ڈاکو تک پہنچے۔ انسانی برادری کے خلاف اسے کیا شکایت تھی جس کا بدلہ وہ انجان مسافروں کو قتل کر کے لے رہا تھا، اس کی زبانی یہ کہانی سنی۔ اپنی بات چیت سے اسے قائل کیا کہ اس راستے کو چھوڑ کر ان کے آشرم (سنگھ) میں شامل ہو جائے اور انسانی بہبودی کے لیے کچھ کام کرے۔ وہ اسے بچوں کی طرح انگلی سے پکڑ کر اپنے آشرم میں لے آئے۔ جو کام اسے دیا گیا اس میں وہ ماہر تھا۔ چونکہ وہ سوئی دھاگے سے مردہ لوگوں کی انگلیاں اپنی مالاؤں میں پرویا کرتا تھا، اور سینے پرونے کا کام اسے آتا تھا تو اسے بھکشوؤں کے پھٹے ہوئے چولے مرمت کرنے کا کام دیا گیا۔جو وہ خوشی خوشی کرتا رہا ۔۔ جب قریبی راجہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بھی آشرم تک پہنچا تا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ قیدیوں کو سدھارنے کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔۔(لیکن یہ ایک الگ کتھا ہے!)

ستیہ پال آنند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچتا رہتا ہوں اکثر میں تتھا گت
اِس جنم سے آنے والے اُس جنم تک
اُنگلی مالا کو گر معمول کے جنموں کی مالا میں پروئی
اگلی پیدائش تلک جانے دیا جاتا، تو اس میں کیا غلط تھا؟َ
یعنی اپنی ساری کرتوتوں کا پھل وہ بھوگتا ۔۔۔
بھوگتا اک ایک ہتیا ۰ کے عوض اک ایک بدتر زندگی ۰ہتیا بمعنی قتل
تو کیا غلط تھا؟‘‘
شائبہ سا ایک ہلکی مسکراہٹ کا (لگا آنند کو)
جیسے تتھا گت کے لبوں پر ، لمحہ بھر کو آ کے
اوجھل ہو گیا ہو۔

’’ہاں، تتھا گت ۔۔۔ کیا غلط تھا؟‘‘
بھولے بچے کی طرح آنندؔ اپنی ہٹ پہ قائم
خود کو ہی دہرا رہا تھا
ایک پہلو سے تو ، اے آننؔد
یہ بالکل بجا ہے
پر کسی مجرم کو اس کے جرم کی ایسی سزا دینا
کہ جس سے منصفی ہو جائے، لیکن
پھر وہی ملزمم بچارہ، اپنی اگلی زندگی میں بھی سزا جھیلے
کئی جنموں تلک؟
ایسی منطق حاشا و وکلا غلط ہے۔
جرم اک ہو تو سزا بھی ایک ہونی چاہیے، نا؟
اور تم شاید نہ جانو، میں تو سب کو جانتا ہوں
سارے بھکشو، کب کہاں نردوش ہوتے ہیں
ہمارے سنگھ میں آنے سے پہلے

بے ضرر، معصوم، صالح، بھولا بھالا تھا
۔۔۔۔لفظ تو کافی تھے، جو
آنندؔ کو سوجھے، مگر وہ کچھ نہ بولا

ہاتھ چھِل جائے ہمارا
چوٹ آ جائے کہیں پاؤں میں۔۔۔یا پھر
روگ لگ جائے کوئی تو
ہم دوا دارو تو کرتے ہیں۔۔۔
اگر اک داغ لگ جائے کہیں دامن کو ، تو دھو کر
اسے بھی صاف کر لیتے ہیں فورا

۔۔۔پاپ بھی اک داغ ہے جو آتما کو مسخ کر دیتا ہے، بھکشو
اور اس کو اِس جنم میں ہی کسی حد تک مٹا لینا
گناہوں پر انابت اور خجالت
اور باقی زندگی میں نیک رہنا۔۔۔۔
کیا غلط ہے اس میں بھکشو؟

اور جب آننؔد تھوڑی دیر تک بھی کچھ نہ بولا
تو تتھا گت نے کہا
وہ سامنے دیکھو ہمارا اُنگلی مالا
ہاں ، وہی، دیرینہ قاقل ۔۔۔اب ہمار ا اک نیا چیلا
کہ جو بیٹھا ہوا سب بھکشوؤں کے لمبے کُرتے
سوئی تاگے سے مرمت کر رہا ہے
ہر نیا بخیہ جو اس کے ہاتھ سے لگتا ہے
اس کے درجنوں پاپوں کے بخیے کھولتا ہے

پھر لگا آنندؔ کو جیسے ذرا سا شائبہ مُسکان کا
ان کے لبوں پر اپنی ہلکی چھب دکھا کر اُڑ گیا ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(2)

دو دنوں تک گفتگو کا یہ سفر ساکت رہا ۔۔۔ لیکن تتھا گت
خود بھی شاید گو مگو کی کیفیت میں تھے۔۔۔
یقینا ًچاہتے تھے بات کو آگے بڑھانا

اس لیے آنند کو تب تیسرے دن خود تتھا گت نے بلایا

آج بھی تم دل میں کچھ پوشیدہ رکھ کر
یوں تردد سے پریشاں پھر رہے ہو، بات کیا ہے؟

’’ہاں، تتھا گت، اس تذبذب میں رہا ہوں
انگلی مالا کو گر اس آشر میں شرن  دینے کی جگہ
سیدھا ہی بندی گھر
میں رکھتے تو بھلا اس میں بُرائی کیا تھی، گُرو ور؟’

’کچھ برائی تو نہیں تھی اس میں، لیکن

کچھ اچھائی بھی نہیں تھی
بندی گھر میں قید ہو جانے کا تو بس ایک ہی مقصد ہے
ملزم اپنی آزادی کو کھو دے تو
بھلا وہ جرم کیسے کر سکے گا؟
ہاں، مگر
آنند بھکشو، تم نے کیا سوچا کہ وہ کوئی بھی دیگر کام
ایسا کر نہیں پائے گا، جس میں
بہی خواہی، رحم، خدمت
، درد مندی کا بھی کچھ عنصر ہو، بھکشو
ترس کھانا، سیوا کرنا
اشک شوئی، آنسوؤں کا پونچھنا بھی ایک بخشش ہے
مگر یہ کام بندی گھر میں رہ کر سیکھنا، اس پر عمل کرنا
کہاں ممکن ہے اک بے رحم قاتل کے لیے ۔۔۔
کیوں ہے نا سچی بات، بھکشو؟

’’ہاں، تتھا گت‘‘

اور ہمارے آشرم میں سیکھنے کو کیا نہیں ہے؟
خلق کی خدمت کا جذبہ
مہرباں ہونا، سبھی سے پیار رکھنا، صلح کل رہنا
سخاوت، خیر خواہی، نیک اندیشی، عنایت
یہاں تو ہر طرف ان کی حکومت ہے، نہیں کیا؟
۔۔۔ یہ سبھی انسانیت کے ایسے گُن ہیں
جو کوئی بھی انگلی مالا سا مجرم
سیکھ سکتا ہے ہمارے آشرم میں ۔۔۔
پر حکومت کے بنائے بندی گھر میں
تو فقط نا ترس ہونا، بربریت میں یقیں رکھنا
درندہ صفت، وحشی، سنگدل
بے رحم ہونے کا سبق سیکھے گا قیدی
کیا تمہیں تسلیم ہے یہ بات بھکشو؟

’’ہاں، تتھا گت !‘‘

’’طے ہوا کہ کوئی قیدی
بندی گھر میں قید رہنے سے سدھر سکتا نہیںہے ۔۔۔۔
اور جب وہ قید سے نکلے گا تو ویسے کا ہی ویسا
لوٹ جائے گا اُسی دنیا میں، یعنی
اس پرانے جرم کی دنیا میں
جس سے وہ گیا تھا بندی گھر میں!

’’ہاں، تتھا گت!‘‘

طے ہوا بھکشو، کہ عادی مجرموں کو
ہم اگر اُن قید خانوں میں رکھیں ، جن میں انہیں
کچھ کام کی شِکھشا، ہنر مندی کی تربیت ملے تو
ان کے لیے اچھا رہے گا
اورجب پھر کوئی پیشہ ، کا م کا کوئی ہنر وہ سیکھ جائیں
تو انہیں اک اور موقع دے دیا جائے کہ وہ اب
لوٹ جائیں ۔۔۔اور یہ ثابت کریں
وہ اچھے شہری بن چکے ہیں

چُپ رہے کچھ دیر تک، پھر سوچ کر
بولے تتھاگت
عین ممکن ہے کہ اُن میں سے کئی اک بار پھر بھٹکیں ، مگر یہ
تجربہ اچھا رہے گا ۔۔۔۔کچھ تو سُدھریں گے، یقینا

’’ہاں، تتھاگت‘‘

’’انگلی مالا کے تئیں اب سوچ کیسی ہے تمہاری؟‘‘

اور تب آنند نے پرنام کے انداز میں سر جھکایا
پر اُسے ایسا لگا اک بار پھر
جیسے تتھا گت کے لبوں پر
شائبہ ُمسکان کا
ہلکی سی اپنی چھپ دکھا کر اُڑ گیا ہو

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *