شاہین کمال کی تحاریر

پھر سے(دوم،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

کیوپڈ کے ساتھ ساتھ قسمت کی دیوی بھی مہربان تھی سو یہ سنجوگ ہو کر رہا۔ ممی میری فطرت سے واقف تھیں، انہیں علم تھا کہ مجھے دیوار سے لگانے کا انجام کورٹ میرج کی صورت میں سامنے آئے گا←  مزید پڑھیے

پھر سے(حصّہ اوّل)۔۔شاہین کمال

آج میں نے صبح تڑکے بچوں کو  سکول روانہ کرتے ہی دن کے کھانے کی تیاری شروع کر دی کہ مصمم ارادہ یہی تھا کہ دنوں سے ٹلتے افسانے کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤں۔ آج آسانی یوں بھی تھی کہ←  مزید پڑھیے

کتا۔۔تحریر/شاہین کمال

کمدار دبے پاؤں چلتا ہوا آیا جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی کہ سائیں تھانیدار آیا ہے. میرے منہ کا مزہ کڑوا ہو گیا. اس وقت؟ تھانیدار ہاتھ باندھے اوطاق میں داخل ہوا اور میرے گھٹنوں کو عقیدت سے←  مزید پڑھیے

شاہ دولے کے چوہے۔۔شاہین کمال

میرا نام رخشندہ بٹ ہے۔ اسی سال میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج سے بی اے کیا ہے۔ خاندان میرا کچھ خاص بڑا نہیں، بےبے، ابا ،دو بھائی اور دو بہنیں۔ میرا یعنی رخشندہ کا نمبر دوسرا ہے، پہلے بھائی آفتاب،←  مزید پڑھیے

میرے یوسف کنعاں۔۔شاہین کمال

امی کے گھر سے یہ دستور رہا ہے کہ جس دن جس بچے کی سالگرہ ہوتی، اس دن اس بچے کا پسندیدہ کھانا پکتا اور امی اس کا صدقہ نکالا کرتی تھیں۔ اپنے گھر میں جاری اس رسم میں، میں←  مزید پڑھیے

مرے تھے جن کے لیے(2،آخری قسط)۔۔شاہین کمال

ایک دن بلقیس کچے گوشت کی بریانی اور میری پسندیدہ پڈنگ بنا کر لائی۔ میں نے اس کے ہاتھوں کے ذائقے کی تعریف کی تو خوب ہنسی اور کہنے لگی سب قادر سے سیکھا ہے کہ ان کی خواہش شیف←  مزید پڑھیے

مَرے تھے جن کے لیے(1)۔۔شاہین کمال

سترہویں فلور پر میرے سامنے والا خالی فلیٹ، کل شام آباد ہو گیا۔ بچوں کی چہکار سے بچوں والا گھر معلوم پڑتا ہے۔ کانوں میں اڑتی اڑتی آوازوں نے جہاں رس گھولا، وہی جی بھی شاد ہوا کہ گفتگو میں←  مزید پڑھیے

بھوک۔۔شاہین کمال

ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو←  مزید پڑھیے

چندر مکھی۔۔شاہین کمال

اب تو خیر وہ کیا ہی جیتی ہو گی اور جو بد قسمتی سے جیتی بھی ہوئی تو کوئی ہزار بار مر کر بھی نہ مانے گا کہ یہ پھونس بڑھیا کبھی اپسرا دیکھتی تھی۔ نہیں !! اب تو کمپیوٹر←  مزید پڑھیے

دوجی واری ماں نہیں مِلدی۔۔شاہین کمال

“امی”! یہ تین حرفی لفظ اپنی وسعت میں پوری کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ ماں کا وجود ایک شجر سائہ دار کی مانند۔ امی کی جس خوبی نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی بہادری اور صاف گوئی←  مزید پڑھیے

سیٹو اور سنی(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

ہمارے ڈائنگ ہال میں ایک مختصر قد و قامت اور جھلسی رنگت کا حامل عیسائی ہندوستانی بھی رہائشی تھا۔ وہ بنگال کے سحر آفریں شہر یعنی دارجلنگ کا باسی تھا اور عموماً وسیع ڈائنگ ہال کے پچھلی جانب، آتش دان←  مزید پڑھیے

سیٹو اور سنی(1 )۔۔شاہین کمال

کبھی کبھی کوئی یاد بجلی کی طرح کوندتی ہے۔ ایسے ہی آج بیٹھے بٹھائے ” سیٹو ” یاد آگئی۔ جاپانیوں کی اصلی عمر جاننا بھی کار دشوار ہے کہ یہ نہایت عمر چور ہوتے ہیں۔ ایسی ہی فنکار سیٹو بھی←  مزید پڑھیے

ملال دروں۔۔شاہین کمال

آنکھیں کھلیں اور ہاتھ میکانیکی انداز میں بیڈ سائیڈ پر پڑے سل فون کی طرف بڑھا۔ تازہ خبروں کی شہ سرخیاں پڑھتے ہی مجھے گویا چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ متوقع تو تھا مگر پھر بھی مجھے←  مزید پڑھیے

شادھینتی۔۔شاہین کمال

آدمیوں سے بھرے میدان میں ایسا گمبھیر سکوت کہ سوئی بھی گرے تو دھماکہ۔ وسط میدان میں لکڑی کی ایک سبز پوش میز اور اس پر قرینے سے دھرے قلم دان۔ اس میز کے ساتھ ہی ایستادہ دو سادی سی←  مزید پڑھیے

ہائی وے ۸۰۔۔شاہین کمال

میرے پیارے سلام محبت۔ اس ہفتے کا یہ دوسرا خط کہ تمہیں خوشخبری بھی تو سنانی ہے۔ ابوالقاسم تمہیں اپنا پہلا پوتا بہت بہت مبارک ہو ۔ تمہارا پوتا بالکل تمہاری تصویر ہے۔ ملتے تو تم پاب بیٹا بھی ہو←  مزید پڑھیے

گھگھو گھوڑا۔۔شاہین کمال

رحیم نے جب گھر میں قدم رکھا تو اس کی بےپناہ حیرت بجا تھی کہ صورت حال اس کی توقع کے عین برعکس۔ میز پر بھاپ اڑاتے اشتہا انگیز کھانے، صاف ستھرا ، قرینے سے سجا بنا نکھرا گھر اور←  مزید پڑھیے

جنت سے نکالے ہوئے لوگ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

سب مل ملا کر نتیجہ شدید سر درد اور طبیعت میں بے زاری اور چڑچڑاپن۔ گھر پہنچی تو نور بےچین، روئے جائے، روئے جائے۔ پیٹ کی مالش بھی کر دی، اسپنج باتھ بھی دے دیا۔ الٹا لیٹا کر ہلکے ہاتھوں←  مزید پڑھیے

جنت سے نکالے ہوئے لوگ(1 )۔۔شاہین کمال

سکول سے واپسی پر اپارمنٹ کے سامنے میدان میں کار پارک کر کے میری متلاشی نظریں بلی کی کھوج میں تھیں تاکہ لنچ باکس میں اہتمام سے رکھی ہوئی ہڈیاں اور چوتھائی بچی ہوئی سینڈوچ اس کے پیٹ پوجا کا←  مزید پڑھیے

اسنو مین (snow man)۔۔ شاہین کمال

وہ اتوار کی ایک مصروف صبح تھی۔ میں ڈسٹنگ کر رہی تھی کہ بیڈ روم کی ڈسٹنگ کے دوران میری نظر آنگن میں بیٹھے ہوئے باصر پر پڑی اور یہ کیا! میں وہیں منجمد ہو گئی ۔ باصر کے ہاتھوں←  مزید پڑھیے

تین م کی کہانی۔(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

میری زندگی کی سب سے پر مسرت گھڑی جب میری گڑیا ، میری گیتی اس دنیا میں آئی تھی۔ یہ پہلی چیخ اولاد کا واحد وہ “رونا” ہے جس پر ہر ماں ہنستی ہے۔ گیتی میری تتلی تھی، میری گوریا←  مزید پڑھیے