شاہین کمال کی تحاریر

چند لمحوں کی محبت/شاہین کمال

ہنستے ہنستے یک دم ہنسی کو بریک لگ جاتا تھا اور پسندیدہ کھانا کھاتے ہوئے ٹیسٹ بڈ ذائقے سے نا آشنا ہونے لگتے تھے۔ وجہ! وجہ انہونی کا ہراس جو سب کے دل پر کاسنی سانپ کی طرح لپٹا ہوا←  مزید پڑھیے

در بدری/شاہین کمال

ہجرت دل سے ہو یا زمین سے ہمیشہ باعثِ آزار۔۔ یہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد در بدری کی دل سوز کتھا ہے جب مجبوراً ہمیں اپنی جنم بھومی چھوڑنی پڑی تھی۔ہم لوگ یعنی پاپا، امی، آپا ، زرین اور←  مزید پڑھیے

صندل/شاہین کمال(2)

اب میں اپنے اجڑے دل کے ساتھ، سونے در و دیوار کے بیچ پہروں بیٹھی سوچتی ہوں کہ ہم لوگ آنے والے بچے کے لیے لفظ “مہمان “کیوں استعمال کرتے ہیں؟ مہمان کو تو جلد یا بدیر رخصت ہی ہونا←  مزید پڑھیے

صندل/شاہین کمال(1)

آج کی صبح بھی روز ہی جیسی چبھتی ہوئی تھی۔ وہی غصیلا قہر برساتا سورج، نروٹھی ساکت ہوا اور کائیں کائیں کرتے ہوئے سمع خراش کؤے۔ شہر ہے یا کنکریٹ کا جنگل، درخت ناپید سو کانوں کا مقدر چڑیوں کی←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)پانچویں /آخری قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)چوتھی قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)تیسری قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)دوسری قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)پہلی قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

رُکا ہُوا فیصلہ/شاہین کمال

امی !قیصر صاحب کون ہیں ؟ چھوٹی کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا جس نے مجھے چونکا دیا ۔ کیا؟ کون قیصر ؟           میں اچھنبے میں تھی۔ بہت ذہن دوڑایا، یاداشت کو کھنگالا پر←  مزید پڑھیے

شام سے پہلے/شاہین کمال

میں نے عید کی چھٹیوں کے ساتھ اضافی چھٹیاں بھی لے لیں تھیں تاکہ اس بار گھر جا کر ابّا جان کا مفصل چیک اپ کروا سکوں۔ پچھلے ٹرپ پر ابّا جان مجھے نسبتاً زیادہ خاموش اور کمزور لگے تھے←  مزید پڑھیے

عیدِقرباں مبارک/شاہین کمال

بچپن کا تو دور ہی سہانہ و شہانہ تھا،خواہشات بھی چھوٹی چھوٹی اور پورا کرنے کو مہربان والدین ہر دم تیار۔ تمنا و آرزوئیں ایسی کہ با آسانی بر آ جائیں۔ امّی ہر تہوار بہت اہتمام اور ذوق و  شوق←  مزید پڑھیے

مورکھ من/شاہین کمال

وہ  انسان کسی کو سمجھنے کا دعویٰ کیا کرے جو خود ہی کو نہ جان پایا ہو۔ مجھے یاد ہے میں بر دِکھوّئے پر زینت کے گھر گیا تھا۔ زینت کے بیٹھک میں داخل ہوتے ہی، ہر چیز گویا کھل←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-3،آخری قسط/شاہین کمال

میرے اس دور کا ایک کردار ربانی چچا بھی تھے۔ یہ ریلوے میں گارڈ تھے، جسمانی طور پر نہایت نحیف پر روحانی طور پر بہت قوی۔ خالتہ پاجامہ پر قمیص پہنتے اور بے تحاشہ چائے اور سگریٹ پیا کرتے تھے۔←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-2 /شاہین کمال

نواب صاحب بلاشبہ ہیرو آف ٹائیگر پاس تھے۔ اس ریسکیو آپریشن کا سہرا، نیوی کے کمانڈر اسلم اور بیس بلوچ رجمنٹ کے کپتان حفیظ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے کئی گھنٹوں  کی  جدوجہد کے بعد ڈھاکہ ہیڈ کوارٹر سے←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-قسط1/شاہین کمال

برسات مجھے بہت پسند ہے پر سردیوں کی بارش میں اداسی بہت۔ بحیثیت مجموعی مجھے دسمبر ہی بہت اداس کرتا ہے۔ آدھی رات گزر چکی ہے اور صبح کا اجالا چاند کی آدھی مسافت طے کرنے کا منتظر۔ میں بند←  مزید پڑھیے

لہو بولتا بھی ہے/شاہین کمال

22 جنوری 1957 کی ٹھٹھرتی ہوئی صبح تھی جب ایک بچی نے اس عالمِ حیرت میں آنکھیں کھولیں۔ موہنی صورت اور ستارہ آنکھیں ۔ باپ نے دلار سے اس چمکتی کالی آنکھوں والی گڑیا کا نام پروین رکھا۔ 1967 میں←  مزید پڑھیے

ہاں ! میرا جسم میری مرضی/شاہین کمال

اللہ تعالیٰ نے خاکی پُتلے  میں روح ڈال کر جہاں اسے کمال و اختیار دیا وہیں معلّم اور منشور سے بھی مستفیض کیا۔ ڈھالنے والے نے خاک کے پُتلے کو سو سو رنگ میں ڈھالا۔ اس کا فرمان کہ انسان←  مزید پڑھیے

اتنی مداراتوں کے بعد(2،آخری قسط)-شاہین کمال

میں ابا کو محسوس کرتا ہوں گو کہ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ ہاں فوج کی طرف سے آیا وہ خط جس میں ابا کی شہادت کی اطلاع تھی اسے اماں نے ہمیشہ تعویذ جاں رکھا اور وہ اب←  مزید پڑھیے

اتنی مداراتوں کے بعد/شاہین کمال

بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے۔ منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے۔←  مزید پڑھیے