میرے جانے کے دن آ گئے پوچھو، کیوں؟ پوچھو، کب؟ ہاں، کسی ایک شب جب اندھیرا نہ ہو ہاں ، کسی ایک دن جب سیہ دھوپ ہو میں چلا جاؤں گا اک ہیولےٰ سا، آبی بخارات سا میں چلا جاؤں← مزید پڑھیے
حیرت سرائے پاکستان، ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری کی دوسری کتاب ہے۔ ڈاکٹر صاحب پیشے سےایک ”ریڈیالوجسٹ“ ہیں لیکن گزشتہ کئی برسوں سے مختلف اخبارات، رسائل اور جرائد سمیت سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھتے آرہے ہیں۔ ان← مزید پڑھیے
ایک مصنف ہر صورت ان تجربات زندگی اور ان سے پیدا ہونے والے تمام احساسات کی بھٹی میں آتش نمرود کی طرح رضاکارانہ طور پر چھلانگ لگاتا ہے اور اپنے دور کےا براہیم علیہ السلام میں پیروکاروں میں سے ایک ہوتا ہے۔ اس تپتی بھٹی میں وہ درون بینی مشاہدے سے بھی گزرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے جوتے بھی کر پہن کر دیکھتا ہے اور پھر عمومی قضیے نمٹاتا ہے۔ کہنا ضروری ہے کہ اس کو یہ قضیۓ نمٹانے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے جب دوسروں کے جوتوں میں اس کے پاؤں زخمی ہوتے ہیں تو بلبلا کر اسے پہلے اپنا درد محسوس ہوتا ہے تو یوں وہ دوسروں کے غم اور خوشی سے آشنا ہوتا ہے ۔یہیں سے اس کے تخلیقی قطرہ ہاۓ انفعال شان کریمی کا نزول بنتے ہیں اور ایک کتاب وجود میں آتی ہے تب یہ ہوتا ہے کہ مصنف کسب حلال کو اس کی اشاعت پر لگاتا ہے تو اس بات کا مستحق بن جاتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے ساتھ منظر عام پر آۓ اور قلم کے ساتھ جہاد کرنے والے کو غازی مان کر اس کے کام کو سراہا جاۓ۔ اور یہی کتاب کا حق ہے.← مزید پڑھیے
گونگے صحرا میں کئی جنموں سے بھٹکا ہوا تھا ایک اسوار۔۔ جو اَب بچ کے نکل آیا ہے ڈھونڈتی پھرتی ہیں اس کو یہ دو روحیں کب سے ایک کہتی ہے ، مرے پچھلے جنم میں تم نے مجھ← مزید پڑھیے
سرائیکی قوم پرست عبید خواجہ صاحب نے ازراہِ محبت اپنی ترجمہ کردہ کتاب “مقدمہ سرائیکستان” بھیجی ـ یہ معروف سرائیکی دانش ور ریاض ہاشمی کی کتاب “Brief for Bahawalpur province” کا اردو ترجمہ ہے ـ۔ ریاض ہاشمی نے بہاولپور اور← مزید پڑھیے
1-اندر آنا منع ہے اپنے محل کے دروازے کے اوپر اس تختی کو لٹکا کر شاید تم یہ معمولی سی بات بھی بھول گئے ہو جھکّڑ، آندھی، طوفاں، بارش بھوکے ننگے لوگ، گداگر ڈاکو، چور ۔۔۔۔ آوارہ کُتے بالکل ناخواندہ← مزید پڑھیے
حال ہی میں ایک کتاب “نامے میرے نام” زیرِ مطالعہ رہی ۔ یہ نامے دراصل ان مشاہیر کے خطوط ہیں جو اردوادب کی لیجنڈ رضیہ فصیح احمد کو لکھے گئے۔ ۱۹۴۸ءمیں رسالہ عصمت میں کہانی کی اشاعت سے اپنےقلمی سفر← مزید پڑھیے
متوازن تھے، احسن صورت خوش وضعی میں ایک برابر ہم بچپن سے کچھ کچھ کج مج، عدم توازن ہم نے خود ہی ڈھونڈھ لیا ادھواڑ عمر میں نستعلیق، کتابی صورت ۔۔اور اکمل کردار ہمارا شاید قائم رہ پاتے لیکن جانے← مزید پڑھیے
زندگی کا ہر دیا , دے گی بجھا , تم دیکھنا ایک دن زہراب , بستی کی ہوا , تم دیکھنا پہلے شک کی بوند ٹپکے گی,وفا کی جھیل میں پھر غرورِ دوستی ہو گا فنا ,ثم دیکھنا دھوپ کے← مزید پڑھیے
تخلیقی ادب میں الفاظ، متن اور علامتیں ان محسوسات کی نمائندہ ہوتی ہیں جو تخلیق کار کے اندر کہیں جنم لے کر اس تخلیق کے ظہور کا سبب بنتی ہیں اور ایک لمبی ریاضت کا جواز بھی لیکن بعض اوقات← مزید پڑھیے
مصنف، موت اور اس کی دہشت ، تخلیقی متن، قاری، مابعدالطبیعاتی تبدیلی،موت کا سوگ اور جشن، افسانہ نگاری ۔ موت تبدیلی لانے والا مظہرہے۔ موت سب کچھ تبدیل دیتی ہے۔ جو شخص مرتا ہے وہ جسمانی طور پر تبدیل ہوتا← مزید پڑھیے
گرۂ زیست میں کہ اک وجود کارگاہ شیشہ گری میں کانچ کا ٹکڑا کوزۂ محبت لا حاصل جنم دن ہے آج جس کا برسوں پہلے آج ہی کے دن کیلنڈر پر درج ہوا میرا جنم جب کاسۂ بے بسی بنا← مزید پڑھیے
فوک دانش کے نقوش ہائے دوام رسو ل حمزہ توف کی کتاب”میرا داغستان“ ”آنکھ کھلتے ہی بستر سے اس طرح اٹھ کر نہ بھاگو جیسے کسی چیز نے تمہیں ڈنک مار دیا ہو سب سے پہلے اس خواب کے بارے← مزید پڑھیے
مصنف، موت اور اس کی دہشت ، تخلیقی متن، قاری، مابعدالطبیعاتی تبدیلی،موت کا سوگ اور جشن، افسانہ نگاری ۔ موت کیا آگہی زندگی کی سب سے بڑی سچائی اور حقیقت ہے اس بات سے انکار ممکن نہیں۔ موت ہمیں نیند،← مزید پڑھیے
حزیمت اب یہ بھی اٹھانا پڑے گی در صنم پہ گردن جھکانا پڑے گی سوے دیر دیکھو اجالا بہت ہے اہل حرم، یہ خفت مٹانا پڑے گی اندھیرے مٹا نہ سکا نور خورشید شمع اک نئی اب جلانا پڑے گی← مزید پڑھیے
خط اُس سبزہِ نو رُستہ کو ہی نہیں کہتے جس کی آمد پر ماں نورِ نظر کو معمول کا تھپڑ جڑتی ہے ، پھر یہ فیصلہ نہیں کرپاتی کہ لاڈلا دوشاخہ آواز میں رو رہا ہے یا کم بخت کورس← مزید پڑھیے
گزشتہ شب خواب میں حضرتِ اقبالؒ کی زیارت ہوئی۔مجھ پر نظر پڑتے ہی مُسکرائے، اور شعرپڑھا، خلوَتِ اُو در زغالِ تیرہ فام اندر مغاک جلوَتَش سوزَد درختے را چو خس بالائے طُور (اسکی (یعنی روشنی کی)خلوت (غیر موجودگی) میں یہ← مزید پڑھیے
کم مایہ، مسکین، چیتھڑوں میں لپٹی وہ نظم فقط دس بارہ سطروں کی حامل تھی جب آئی غزلوں کی محفل میں تو جیسے جھجک گئی۔ پھر ڈرتی ڈرتی بیٹھ گئی اور دائیں بائیں دُزدیدہ نظروں سے دیکھا سجی دھجی تھیں،← مزید پڑھیے
انعام رانا سے پہلا تعارف ان کی’’مکالمہ‘‘سوشل میڈیا کی ایک پاپولر ویب سائٹ سے ہوا۔ مضمون بھیجا۔فوراً چھاپا ہی نہیں گیا،بلکہ چند خوبصورت سطور بھی تعارفی طور پر شامل کی گئیں۔ مکالمہ سے تعلق کا آغاز ہوا تو کبھی کبھی← مزید پڑھیے
ہے ارتفاق یا اقران یا اخوان الزماں کہ جس میں حاضر و موجود بھی ہیں زنگ آلود رواں دواں کو بھی دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ منقضی ہے، فراموش کردہ، ما معنیٰ اگر یہی ہے ، “رواں”، “حالیہ” اے← مزید پڑھیے