پاکستان، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 266 )

میرے روحانی باپ میرے استاد جی۔۔عامر عثمان عادل

کل دنیا بھر میں فادرز  ڈے منایا گیا۔۔ سوچا کیوں نہ آج اس دن کو اپنے بہت پیارے استاد کے نام کر دوں کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ اسی کی دہائی  کی بات ہے مجھے پڑھائی←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا تحقیقی سفر اور علی عباس جلالپوری۔۔سیدہ ہما شیرازی

سماج کا علم و عمل اور غوروفکر سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر روزمرہ بولی جانے والی زبان میں بہت سے لفظ لاشوں میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے انسانیت، خدمت، ایثار، قربانی، حُب الوطنی،مقصدیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ←  مزید پڑھیے

اذان،مؤذ ن اور لاؤڈ سپیکر۔۔راؤ عتیق الرحمٰن

اذان کے لغوی معنی سنا دینا، خبر دار کر دینا اور پکارنا ہیں۔ امام نودی ؒ نے فرمایا اہل لغت کے نزدیک اذان کے معنی اعلام کے ہیں ,اعلام کا مطلب ہے  کسی چیز کے بارے میں لو گوں کو←  مزید پڑھیے

میرا باپ سوپر ہیرو(عالمی یوم والد)۔۔محمد ہاشم

یہ 2012 کی بات ہے جب پہلی بار کالج گئے تو کسی دن پروفیسر نے سب سے سوال کیا کہ سب بتائیں آپ کس شخصیت کی جدوجہد اور کامیابی سے متاثر ہیں یا کس نے اپنی محنت سے آپ کو←  مزید پڑھیے

بدمعاش۔۔ڈاکٹر فاخرہ نورین

شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں اور میرا باپ بہت شریف آدمی ہونے کے ناتے بڑا بدمعاش شخص تھا۔ساٹھ سال کی عمر میں جس کے پاس کردار اور رزق حلال کی گارنٹی خدا کی قسم کھا کر موجود ہو،←  مزید پڑھیے

قیدیوں کی زندگی میں انقلاب لانے والے سپرٹینڈنٹ جیل گجرات۔۔۔عامر عثمان عادل

پاکستان کی جیلوں بارے ہمارا گمان یہی ہے کہ یہ جرائم کی فیکٹریاں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل جانا کسی بھی ملزم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے یا تو وہ سچے دل←  مزید پڑھیے

بیچارے لڈن جعفری۔۔سید عارف مصطفیٰ

بلاشبہ لڈن جعفری کی شہرت اب چاردانگ عالم میں ہے کیونکہ وہ اب ایک دیومالائی کردار بن چکے ہیں یا بنائے جاچکے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کچھ انکے بارے میں ضمیر اختر نقوی بتاچکے ہیں←  مزید پڑھیے

میرے مسیحا کے نام۔۔سیدہ ہما شیرازی

میرے اس دنیا پر نمودار ہونے پر جو پہلی غذا میرے منہ کے ذریعے جسم کا حصہ بنی جسے ہمارے ہاں “گُھٹی” کہا جاتا ہے ہمارے پنجابی سماج میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

خطاط شفیق الزماں، مسجد نبوی کی لوحیں اور آنسو۔۔منصور ندیم

یہ کوئی چالیس  برس کے قریب  کی بات ہے، حسب معمول شفیق الزمان روزانہ کی طرح اپنے گھر سے ناشتہ کرکے اپنے کام پر نکل جاتے تھے، ان کا کام مختلف سڑکوں پر ہوتا تھا، انہوں نے اپنے بچپن سے←  مزید پڑھیے

آتے ہیں غیب سے سوال خیال میں۔۔عظمت نواز

سوشل میڈیا پر ہمہ قسم صاحبان علم اپنی عادت متواترہ سے مجبور علمی رائتہ نہایت خشوع و خضوع سے پھیلاتے ہیں ۔ گو یہ ہماری قومی عادات میں سے عادت صحیحہ ہے کہ ہم علمی خدمت میں ہرگز پیچھے نہیں←  مزید پڑھیے

گلزار کی ننھی منی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد←  مزید پڑھیے

میں ملحد کیوں ہوں ؟ از بھگت سنگھ ( حصہ اوّل )۔۔۔حسنین چوہدری

بھگت سنگھ نے یہ مضمون 1930 میں لکھا تھا البتہ بھگت سنگھ کی موت کے بعد اگلے سال 1931 میں شائع ہوا۔موضوع کے اعتبار سے مضمون کے دو حصے ہوسکتے ہیں۔ایک میں بھگت سنگھ نے ان الزامات کا جائزہ لیا←  مزید پڑھیے

حقیقی یوگ کیا ہے؟۔۔کوثر عظیمی

‎جسم کاروح سے اور روح کا رب سے ملاپ ،حقیقی یوگ ہے۔جو بندہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ جسمانی  ذہنی اور روحانی اپنے رب سے جڑا رہے وہ یوگی کہلائے گا۔ یوگ بندے کو خدا سے←  مزید پڑھیے

میں اور قرنطینہ۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

قرنطینہ کسی ہسپانوی حسینہ کا نام نہیں بلکہ قرنطینہ اُس علیحدگی کے دوارنیے کا نام ہے، جو ایک ممکنہ مریض پرلازم ہوجاتا ہے جب اس میں کسی وبائی مرض کی علامتیں ظاہر ہوں یا ظاہر ہونے کا امکان ہو۔ صاحبو!←  مزید پڑھیے

افلاطون کا نظریہ امثال۔۔عفت سلیم

افلاطون سقراط کا شاگرد ہے, افلاطون کو تصوریت پسند کہتے ہیں۔۔ افلاطون کے نزدیک حسی ادراک سے اشیا ء کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا بلکہ محض اس کے شہود و نمود کا علم ہوتا ہے۔ خان محمد چاولہ←  مزید پڑھیے

مغالطے ۔ سیاہ سفید، نتیجہ اور نروانا (قسط 4)۔۔وہاراامباکر

سیاہ اور سفید دو چیزوں کے بارے میں انتخاب اس طریقے سے سامنے رکھنا جیسے ان کے سوا کوئی بھی راستہ نہیں۔ اس کو غلط دوئی (false dichotomy) کا مغالطہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سطحی اور سادہ سوچ کا←  مزید پڑھیے

کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (حصہ چہارم)۔۔محمد علی شہباز

کیا نیلز بوہر اور ہائزنبرگ کی پیش کردہ کوانٹم میکانیات واقعی حقیقت ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی میکانکی فلسفہ تشکیل دیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا کہ جس نے گزشتہ صدی کی اولین دہائیوں میں عظیم←  مزید پڑھیے

حمی الاثرۃ، سعودی عرب کے مستقبل قریب کا سیاحتی خطہ۔۔منصور ندیم

سعودی عرب کے جنوب مغربی تاریخی علاقے نجران کے قریب ’حمی الاثرۃ‘ میں حالیہ کچھ نئی منقش چٹانیں دریافت ہوئی ہیں، جو یقیناً پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ  کھینچ   سکتی ہیں۔ یہ نجران سے 130 کلومیٹر شمال میں←  مزید پڑھیے

عینی آپا، کچھ یادیں، کچھ باتیں۔۔ستیہ پال آنند

آخری ملاقات ! قرۃ العین حیدر ( عینی آپا) سے آخری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ میں پاکستان کے ایک ماہ کے دورے سے لاہور، پنڈی، میر پور، پشاور، سرگودھا، کراچی ہوتاہو ا لوٹا تھا۔ دہلی میں سات دنوں کے لیے←  مزید پڑھیے

آج ہم کہاں ہیں؟ کیا کل بھی ہم یہیں کھڑے ملیں گے؟۔۔ذیشان راٹھور

ناسا  ،چاند اور دوسرے سیاروں پر زندگی بسانے کی غرض سے مسلسل سپیس مشنز پر کام کر رہا ہے، سائنس سر توڑ کوشش کر رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کے “جی” increase کر سکے، کووِڈ-19 کے آؤٹ بریک کے بعد دنیا←  مزید پڑھیے