• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (حصہ چہارم)۔۔محمد علی شہباز

کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (حصہ چہارم)۔۔محمد علی شہباز

کیا نیلز بوہر اور ہائزنبرگ کی پیش کردہ کوانٹم میکانیات واقعی حقیقت ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی میکانکی فلسفہ تشکیل دیا جا سکتا ہے؟

یہ وہ سوال تھا کہ جس نے گزشتہ صدی کی اولین دہائیوں میں عظیم سائنسدانوں کو اپنے اثر میں لے رکھا تھا۔ اور اس حوالے سے بوہر ہائزنبرگ میکانیات کا سب سے بڑا مخالف کوئی اور نہیں بلکہ آئن سٹائن تھا۔ایسا نہیں ہے کہ آئن سٹائن جیسا عظیم ذہن اپنے عقائد یا کسی بغض کا شکار ہوگیا تھا ۔ بلکہ یہی تو وہ شخص ہے کہ جس نے 1905ء اور 1915ء میں اپنے نظریہ اضافیت خصوصی و عمومی اور 1916ء میں فوٹان جیسے عجیب و جدید تصورات متعارف کروائے۔پھر کوانٹم نظریہ کے عجائبات پر آئن سٹائن کیوں معترض ہوا؟

آئن سٹائن نے 1912ء میں لکھا تھا کہ ‘کوانٹم نظریہ روز بروز بیوقوفانہ ہوتا جا رہا ہے’۔نومبر 1925ء میں ستیندر ناتھ بوز بھارت سے برلن گئےتو انہوں نے بتایا کہ آئن سٹائن کوانٹم نظریہ میں شدید دلچسپی رکھتا تھا۔ حتٰی کہ 1928ء میں آئن سٹائن نے شروڈنگر اور ہائزنبرگ کے لئے نوبل انعام کی سفارش بھی کی۔جب پہلی مرتبہ جولائی 1925ء میں ہائزنبرگ کا پرچہ شائع ہوا تو آئن سٹائن نے اس پر کافی غور کیا اور اس میں ریاضیاتی سکیم کی تعریف بھی کی۔لیکن اصول عدم تعین کے فلسفیانہ مضمرات اسقدر عجیب تھے کہ آئن سٹائن نے اسے حتمی نہیں جانا اور ہائزنبرگ کی میکانیات کو نئے نظریے کی تشکیل میں ایک عارضی پڑاؤ خیال کیا۔اس نے شروڈنگر کو اس حوالے سے کام پر لگایا کہ وہ کوانٹم نظریہ کی توسیع کرے ۔لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ شروڈنگر کی مساوات بھی ہائزنبرگ والے نتائج پیدا کرتی ہے۔بلکہ شروڈنگر کی ویو فنکشن سکیم ہائزنبرگ کی میٹرکس سکیم (Matrix Mechanics) سے بھی زیادہ فطری سکیم ثابت ہوئی۔ یہ خود شروڈنگر کے لئے حیران کن بات تھی جو کہ بوہر کے کوانٹم نظریہ کا مخالف تھا۔

کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (حصہ سوم)۔۔محمد علی شہباز

شروڈنگر کے مطابق ویو فنکشن دراصل برقی بار کا ایک ذخیرہ تھا لیکن اسکی یہ بات بھی درست ثابت نہ ہوسکی۔ ویو فنکشن بذات خود محض ایک ریاضیاتی تجرید تھا جس کو حقیقت کے معنی میکس بورن نے امکانی لہروں کی شکل میں پہنائے جیسا کہ بوہر نے کہا تھا۔دسمبر 1926ء میں آئن سٹائن نے میکس بورن کو لکھا کہ “کوانٹم میکانیات واقعی بہت دلکش ہے۔ لیکن میرے اندر کی آواز کہتی ہے کہ ابھی یہ پورا سچ نہیں ہے۔یہ نظریہ اگرچہ بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن یہ پرانے والے نظریہ کے کسی راز کو افشا نہیں کر رہا۔میں ہر لحاظ سے قائل ہوں کہ خدا پانسہ نہیں پھینک رہا”۔اس کے قریب 40 سال بعد میکس بورن نے لکھا کہ آئن سٹائن پرانے فلسفوں کا شکار تھا جب کہ ہم نوجوان نئے فلسفے کی تلاش میں تھے۔

آئن سٹائن نے ہائزنبرگ کی میکانیات کے برخلاف خود ایک پرچہ لکھنے کی کوشش کی جس میں وہ شروڈنگر کے ویو فنکشن کو امکانی لہر کی بجائے متعین حرکت کی شکل دینا چاہتا تھا۔ مئی 1927ء کے میکس بورن کے نام ایک خط میں اس نے اس سوچ کا اظہار بھی کیا۔ اس نے غیر اقلیدسی جیومیٹری (Non Euclidean)کی مدد سےکسی ذرے کی ولاسٹی یا رفتار کو شروڈنگر کے ویو فنکشن کی شکل میں لکھاتاکہ ذرے اور لہر کی دوئی کو ختم کر سکے۔ لیکن والدر بوتھے (Walther Bothe) نامی سائنسدان نے دکھایا کہ جب کسی بھی سسٹم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو پورے سسٹم کا ویو فنکشن ان دونوں حصوں کے ویو فنکشنز کے حاصل ضرب میں ڈھل جاتا ہے اور اس طرح کوئی بھی مخفی متغیرات (Hidden Variables) آپس میں ایک دوسرے پر منحصر ہو جاتے ہیں۔لہذا آئن سٹائن کا پرچہ جو شائع ہوا تھا اس نے واپس لے لیا۔آئن سٹائن کے علاوہ لوئی دی بروئے نے بھی ایسی ایک کوشش کی۔ جس میں اس نے کہا کہ لہریں اور ذرات آپس میں منحصر ہو سکتے ہیں اگر ایک لہر کسی ذرے کے لئے رہبر (Guide) کا کام کرے۔لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہوا کیونکہ ہر سسٹم میں دو مختلف حصے یعنی ایک لہر اور ایک ذرہ ایک دوسرے سے آزاد نہیں پائے گئے۔حتٰی کہ 1932ء میں ژاں وان نیومین (Jon Von Neumann) نے ثابت کیا کہ کوانٹم نظریہ میں کوئی مخفی متغیرات ایسے نہیں ہیں جو امکان کو ختم کر سکیں۔

ویو فنکشن سے حاصل ہونے والی معلومات میں کسی قسم کا اضافہ مخفی متغیرات سے ممکن نہیں ہے۔ بوہر اور ہائزنبرگ نے اس بیان پر کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا اور اس وجہ سے یہ ایک محض رائے ہی رہی حتٰی کہ وان نیومین نے اس کا ثبوت فراہم کیا۔ میکس جیمر نے اپنی کتاب “کوانٹم میکانیات کا فلسفہ” میں اس کو تفصیل سے لکھا ہے۔ وان نیومن کا تھیورم چار مختلف قضیوں پر مشتمل تھا جس میں سب سے اہم یہ تھا اگر ہم دو مختلف متغیرات جیسے R اور S کی پیمائش کو باہم ملا کر کسی تیسرے متغیر کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ تھیورم جن عمومی قضیوں پر قائم تھا وہ خود اتنے مضبوط ثابت نہ ہوئے۔ کچھ دوسرے لوگ جیسے ڈیوڈ بوہم وغیرہ نے بھی مخفی متغیرات پر کام کیا اور وان نیومن کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس دلائل فراہم کیے ۔ اس کی تفصیلات میں جائے بغیر ہم آئن سٹائن کے حوالے سے آخری اہم دلیل پیش کریں گے جس نے اگرچہ بوہر کے نظریہ کو رد تو نہ کیا مگر کوانٹم میکانیات کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

1935ء میں آئن سٹائن نے مزید دو سائنسدانوں پوڈولسکی اور روزین کے ساتھ مل کر گزشتہ صدی کا سب سے اہم پرچہ لکھا جسے ای پی آر (EPR) کے نام سے جانا جاتا ہے۔پوڈولسکی پرنسٹن یونیورسٹی میں علامتی منطق (Formal Logic) کے حوالے سے ماہر گرادنا جاتا تھا اور اس نے یہ پرچہ کافی تکنیکی زبان میں لکھا اور ساتھ ہی اسے اخبارات کی زینت بھی بنا دیا جس پر آئن سٹائن کافی خفا ہوگیا اور پوڈولسکی سے رابطہ ختم کر لیا۔ اسی اثناء میں ڈیوڈ بوہم نے اپنا نظریہ پیش کرتے وقت ای پی آر کے پرچے کو سپن 2/1 کے ذرات کی مثال سے سمجھایا جو کہ کافی سود مند ثابت ہوا۔ شروڈنگر نے بھی ای پی آر کے حوالے سے ایک پرچہ لکھا جس کے باعث فزکس والوں میں اس دلیل کا نام ای پی آر تناقض (EPR Paradox) مشہور ہو گیا۔

آئن سٹائن کی اس دلیل کے مطابق کائنات میں اگر دو ماتحت کوانٹم نظام ایسے ہوں جو کہ مکانی اعتبار سے ایک دوسرے سے انتہائی فاصلے پر ہوں تو یہ ممکن ہے کہ ایک نظام پر ہونے والے افعال سے دوسرے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوں۔بیل نامی سائنسدان نے بعد ازاں اس میں مزید اضافہ کیا۔ اس کے مطابق یہ دو ماتحت نظام صرف مکانی بعد نہیں رکھتے بلکہ علیت کے اعتبار سے بھی الگ ہیں۔ یعنی جیسے نظریہ اضا فیت کے مطابق دو نظاموں کے مابین معلومات کا تبادلہ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح دو کوانٹم نظاموں کے درمیان بھی ایسا رابطہ نا ممکن ہے اگر وہ علیت کے اعتبار سے الگ ہیں۔ بغیر رابطے کے ایک نظام کے اثرات دوسرے پر نہیں ہوسکتے۔ لیکن آئن سٹائن کے اس پرچے میں یہی تناقض سامنے آیا تھا کہ ایسا ہونا اصولی طور پر ممکن ہے۔

ریاضیاتی طور پر یوں سمجھیں کہ دو نظاموں کے ویو فنکشن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں کو علیحدہ علیحدہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اس لیے جب ایک نظام کے ویو فنکشن سے کچھ معلومات اخذ کی جا رہی ہوں گی، تو لازمی طور پر دوسرے نظام کے ویو فنکشن میں تبدیلی ہو جائے گی جب کہ کلاسیکل فزکس میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ بوہر کے مطابق پیمائش سے پہلے کسی مقدار کی قیمت کا تعین نہیں ہوسکتا۔ آئن سٹائن اس دلیل میں ثابت کر رہا ہے کہ ایک سسٹم کی پیمائش دوسرے سسٹم کو ایک متعین مقدار میں تبدیل کر دیتی ہے اور یوں دوسرے سسٹم کی پیمائش سے پہلے ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی مقدار کی قیمت کیا ہوگی۔ یہ کوانٹم میکانیات میں پیمائش کے کردار کی نفی کرتا ہے۔یعنی پیمائش سے سسٹم پر فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم صرف مقدار معلوم کرتے ہیں اسے تبدیل نہیں کرتے۔ یا یوں کہیے کہ اگر ہم پیمائش کے بغیر کسی مقدار کی قیمت معلوم کر لیں تو حقیقت میں اس شے کی قیمت پائی جائے گی۔ اس طرح ہمارا مستقبل پہلے ہی سے متعین اور معلوم ہو سکتا ہے جو کہ بوہر کے نظریہ امکان کی نفی ہے۔ یعنی ہماری امکانی لہر میں کچھ ایسے مخفی متغیرات بھی ہیں جن کا ہمیں علم نہیں تھا اگر انہیں معلوم کر لیا جائے تو پھر کسی سسٹم کو مکمل طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ گویا کوانٹم میکانیات نامکمل نظریہ ہے!

آئن سٹائن نے ثابت کرنا چاہا کہ کوانٹم میکانیات ایک نامکمل نظریہ ہے ۔پیمائش کے عمل میں سسٹم کی مقداریں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ہم انہیں مکمل طور پر متعین نہیں کر پاتے۔ لہذا کچھ مخفی مقداروں کا وجود لازمی ہے تاکہ کوانٹم نظریہ مکمل ہو سکے۔ بوہر کے مطابق یہ ایک مکمل نظریہ ہے۔پیمائش کے عمل سے سسٹم کی مقداریں تبدیل ہو جاتی ہیں اس لیے قبل از پیمائش ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ای پی آر کا پرچہ بوہر اور آئن سٹائن کی بحث کا نقطہ عروج تھا جس کے بعد دنیا بھر کے سائنسدانوں نے بوہر کے نظریہ کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا کیونکہ مخفی مقداروں کا وجود نہیں ہے جسے کافی ٹھوس دلائل سے ثابت کیا جا چکا ہے ۔ اگرچہ ڈیوڈ بوہم سمیت چند دیگر سائنسدان بھی آئن سٹائن کے موقف کی تائید کرتے رہے لیکن ان کو اسقدر پذیرائی نہ مل سکی اور اینٹگلمنٹ کی دریافت جو کہ ای پی آر کے پرچے کا نتیجہ تھا اس نے کوانٹم میکانیات میں بے پنا ہ ترقی کے دروازے کھو ل دیے ہیں جن میں کوانٹم کمپیوٹر سر فہرست ہے۔

اینٹگلمنٹ کے مطابق دو نظام اگر باہم جڑے ہوئے ہوں اسطرح کہ انہیں جدا نہ کیا جا سکے یعنی وہ مرکب نہ ہوں تو ایک پیمائش سے دونوں کو مرکب نظام (Composed System) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ اس عمل کو جدائی کا عمل (Decoherence) کہا جاتا ہے۔گویا پیمائش کے عمل نے کسی نظام کی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ وہی نتیجہ ہے جو بوہر اور ہائزنبرگ کی میکانیات کا ہے۔ یعنی کوانٹم تھیوری مکمل ہے!

لہذا اب سب سے اہم مسئلہ یہ سمجھنا ہے کہ پیمائش کے عمل میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ مقداریں تبدیل ہو جاتی ہیں ؟ اس سوال کا تسلی بخش جواب ابھی تک مہیا نہیں کیا جا سکا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ مختلف دلائل سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھا نہیں جا سکا ہے۔اگلی اور آخری قسط میں ہم کچھ فلسفیانہ نظریات پر بات کریں گے جو کہ کوانٹم نظریہ کی آمد کے بعد سے سامنے آتے رہے ہیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *