کوانٹم میکانیات اور فلسفہ (حصہ سوم)۔۔محمد علی شہباز

اب ہم اس مسئلے کی طرف چلتے ہیں جس نے کوانٹم میکانیات کو تمام اہل فلسفہ و اہل ادب, حتی کہ اہل مذہب کے لئے بھی دلچسپ بنا ڈالا ہے۔ او ر وہ یہ ہے کہ دو مختلف  مشاہدات کے مابین کیا ہوتا ہے، اس ابہام کا تعلق شعور کے ساتھ ہے۔ یعنی شعور کی اپنی کیفیت و طریقہ کار کے مطابق حقیقت اپنا اظہار کرتی ہے۔فلسفہ میں اسے موضوعیت پسندی کا رجحان کہا جاتا ہے۔اس کے لئے ہمیں دو سوراخی تجربہ دیکھنا ہوگا۔ اس تجربے میں ایک روشنی کی شعاع کو دو قریبی سوراخوں میں سے گزارا جاتا ہے اور اسکا نتیجہ کسی فاصلے پر رکھی سکرین پر دیکھا جاتا ہے۔ کلاسیکی تصور کے مطابق سکرین پر موجود اثرات ، دونوں سوراخوں سے یکے بعد دیگرے  گزرنے والی شعاؤں  کے اثرات کی جمع کے برابرہوگا۔لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ اور سکرین کے نتائج دونوں شعاؤں کے باہمی تال میل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یعنی یہ مبہم ہوجاتا ہے کہ کونسی  شعاع کس سوراخ سے ہو کر گزری ہے۔لیکن اسی تجربے میں اگر ہم ایک کیمرے کے ذریعے شعاؤں کے تال میل  کا پتا چلانے کی کوشش کریں کہ کونسے سوراخ سے کونسی شعاع گزر رہی ہے تو ہمارا پہلا والا نتیجہ سکرین پر سے غائب ہو جاتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شعاؤں کو دیکھنے کے عمل نے انہیں باخبر بنا دیا ہو اور یوں شعاؤں  نے اپنا ر د عمل تبدیل کر لیا ہو۔ یعنی دیکھنے والے مشاہد نے مشاہدے کے حقائق تبدیل کر دیے۔ اسے معروضی حقائق میں موضوعیت کا دخل کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہاں موضوعیت سے مراد انسانی ذہن نہیں بلکہ ہمارے تجربے میں موجود کیمرہ ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ  تجربہ کرتے وقت اگر ہم باقی دنیا سے رابطہ منقطع کر لیں تو تجربے کے نتائج مختلف ہو جاتے ہیں۔حقیقت مختلف نظر آتی ہے۔لہذا آج تک کے تجربات سے جو بھی علم حاصل ہوا ہے وہ مکمل یا حتمی طور پر معروضی نہیں ہے کیونکہ ہم نے تجربہ کرتے وقت باقی کائنات سے رابطہ منقطع کر لیا تھا۔ایک سائنسدان کا مشہور جملہ یاد آگیا۔ وہ کہتا ہے “فطرت انسان سے پہلے موجود تھی۔اور انسان فطرت کے علم سے پہلے موجود تھا”۔ یعنی فطرت کا علم حاصل کرتے ہوئے انسان کے داخلی شعور نے بھی حصہ ڈالا ہے اور اسی لیے مکمل و مطلق معروضیت ممکن نہیں ہے۔

اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سائنس میں کسی بھی پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے  کے لئے اسے سادہ ترین حالت میں لایا جاتا ہے۔ اور سائنسی معروضیت کا نکتہ یہی ہے کہ ہمارا معروض باقی دنیا سے منقطع ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہی واقعہ میں درپیش لاکھوں وجوہات میں سے ہم صرف انہی وجوہات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کا فوری اور شدید اثر محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ کے دیگر وجوہات سے درگزر کیا جاتاہے۔ اسے ہم مطلوبہ حالات (Controlled Conditioning) کہتے ہیں۔کلاسیکی طبیعات میں ہونے والے تجربات اسی نہج پر ترتیب دیے جاتے تھے اور انکے نتائج قابل فہم و قابل عمل ہوتے تھے۔ اور اسی نہج پر سائنس نے ترقی کی اور نت نئی ایجادات ہوئیں۔ لہذا ہمارا کلاسیکی فلسفہ بھی اسی نہج کو تسلیم کرتا رہا ہے۔ لیکن جدید آالات سے جب ہم خوردبینی ذرّات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہاں یہ نہج ہمیں درست نتائج مہیا نہیں کرتی۔ گویا سائنسی طریقہ کار ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ بالکل جیسے سماجیات یا تاریخ کے معاملے میں سائنسی طریقہ کا اطلاق ناکافی ہوتا ہے کیونکہ انسان اور اسکا سماج  کثیر الجہت عناصر پر مشتمل ہے اور تمام جہتوں کا تعین ممکن نہیں لہذا سائنسی منہاج سے بھی سماج کا مطالعہ  مکمل معروضی  حقائق آشکار نہیں کرتا۔ اب یہی معاملہ خود فزکس جیسی معروضی سائنس کے ساتھ درپیش ہے۔ اگرچہ یہ اس درجے کی خرابی نہیں ہے جیسی کہ سامجی سائنس میں ہے۔لیکن بہرحال مکمل معروضیت پر ایک سوال پیدا ہوچکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہرحال ڈیکارٹ  کی مادے و ذہن کی ثنویت پر کانٹ کی تنقید زیادہ معتبر ہے۔ کانٹ کے مطابق معروض کی ایک ایسی جہت بھی ہے کہ جس کا ادراک انسانی ذہن کے لیے ممکن نہیں جسے وہ شے فی الذات کہتا ہے۔ورنر ہائزنبرگ نے خود کہا تھا کہ ہم فطرت کا فی الذاتہ مشاہدہ نہیں کرتےبلکہ فطرت کا مشاہدہ اپنے طریق کے مطابق کرتے ہیں۔اور جیسا کہ بوہر نے کہا تھا کہ قدیم حکمت کے  مطابق زندگی میں توازن کی تلاش کے لئے ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کھیل میں کھلاڑی بھی ہم ہیں اور تماشائی بھی ہم ہی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مکمل معروضیت یا دوسرے الفاظ میں مطلق  مادیت  ممکن نہیں  ہے؟ اور کیا انسانی عقل  ہمیں حقیقت کا کُلی ادراک نہیں دے سکتی؟ اور یہ بھی کہ کیا تمام کائنات کو کسی ایک اصل یا اصول کی مدد سے جانا جا سکتا ہے؟ کوانٹم میکانیات کے بعد ان سوالوں کو یوں بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا امکانی لہروں کا وجود معروضی ہے یا موضوعی؟ کیا روایتی   سائنسی طریقہ کار درست ہے یا نہیں ؟ اور کیا تمام مظاہر کائنات کو ریاضی کی مدد سے کسی ایک مساوات یا قانون فطرت کی شکل میں سمجھا جا سکتا ہے؟

پہلے سوال کا تعلق ریاضیاتی تجرید اور فنی تجرید کے مابین  فرق سے متعلق ہے۔ کیونکہ آرٹ یا فن میں تجرید کے جس پہلو سے کام لیا جاتا ہے اس میں فطرت کے کلی مشاہدہ کے لئے انسانی حواس سمیت ذہن انسانی کی ایک جامع صورت عمل میں آتی ہےجس میں احساس ، جذبات اور عقل سب ایک وحدت کی صورت عمل کرتے ہیں ۔ اس تجرید میں کسی قاعدے یا روایت کی پابندی احسن عمل تو ہو سکتا ہے لیکن لازمی امر نہیں ہے۔جبکہ ریاضیات میں تجرید کا عمل مسلم قاعدوں یا منطقی اصولوں کی مدد سے کیا جاتا ہے جس میں جذبات کا عمل دخل اصولی طور پر شامل نہیں ہوتا۔دوم یہ کہ ریاضیاتی تجرید کا سائنس میں استعمال تبھی ممکن ہے اگر اس تجرید سے کسی مشاہدے یا واقعے کی تسلی بخش وضاحت یا پیش گوئی ممکن ہو جسے بارہا دہرایا جا سکے اور عمومی بنایا جا سکے تاکہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت میں ایک ہی نتیجہ پیدا کرے۔چونکہ امکانی لہروں کا مجرد تصور ایسے نتائج پیدا کر چکا ہے لہذا اس میں معروضیت کی مقدار بہرحال موضوعیت سے بہت زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ افلاطون یونانی بھی مادے سے زیادہ حقیقی ریاضی کو سمجھتا تھا۔ ایسے ہی فیثا غورث کا مقولہ  کہ اشیاء در اصل اعداد ہیں۔  یعنی کائنات کی اصل مادی یا ایٹمی نہیں بلکہ ریاضیاتی  امثال ہیں۔بہرحال ذرات و اشیاء سے زیادہ بنیادی یہ ریاضیاتی امثال یا امکانی لہریں ہیں۔گویا وجود سے بھی زیادہ اصل امکان ہے۔

اس سے فوری طور یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے ، جیسا کہ منطقی اثباتیت والوں نے کیا، کہ ریاضی یا منطق ہی کو تمام علوم کا اعتبار کا معیار قرار دے دیا جائے۔ کیونکہ منطق بذات خود مظاہر فطرت سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ اور وقت کے ساتھ اس میں بھی ارتقاء ہوا ہے۔ جیسے کہ اقلیدس کے اصول آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی میں کوئی معنی پیدا نہیں کر پاتے۔ منطقی اثباتیت سائنسی طریقہ کار میں رکاوٹ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ جیسا کہ ہائزنبرگ کے اصول عدم تعین کے مطابق کسی شے کا مقام اور رفتار علیحدہ سے متعین شدہ معنی نہیں رکھتے ۔اگرچہ انکی تعریف نیوٹن کے مطابق منطقی تھی لیکن اب یہ اتنی واضح نہیں رہی۔

دوسرے سوال کے جواب میں کہ  کیا انسانی عقل ہمیں مکمل علم مہیا کر سکتی ہے ، کوانٹم میکانیات میں امکانی لہروں کی کیفیت دو مشاہدات کے درمیان کیا ہوگی ، پر منحصر ہے۔ بہرحال ابھی تک کی تاریخ جیسا کہ کانٹ نے واضح کیا تھا کہ حقیقت کی اصل سے واقفیت کے لئے عقل سے زیادہ معتبر کسی کو قرار نہیں دے سکی اور عقل محض بھی شے فی الذات یا امکانی لہروں یا ساخت  کے بارے خاموش ہے۔ ہاں اگر ہم اپنے معروض میں کل کائنات کے تعلقات کو بھی شامل کر لیں  تو ایسے تجربات سے ہم اپنے معروض کا مکمل ادراک حاصل کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈیوڈ بوہم جو کہ کوپن ہیگن کی کوانٹم میکانیات کا مخالف تھا، نے کافی کام کیا تھا لیکن اسکی نوعیت سائنسی سے زیادہ مابعدالطبیعی یا روحانی تھی۔اور اس نے سائنسی دنیا میں ابھی تک قابل قدر نتائج پیدا نہیں کیے جو کوپن ہیگن کو رد کر سکے۔

جہاں تک تیسرے سوال کا تعلق ہے تو کوانٹم میکانیات نے بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے کہ کسی ایک واحد نظریہ کائنات تک پہنچا جا سکے۔ کوانٹم میکانیات کا اطلاق آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے ساتھ کرتے ہوئے اس معاملے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور بہت سے کائناتی مسائل کو سمجھا جا چکا ہے اور اب تو اس کا عملی اطلاق بھی سامنے آرہا ہے۔ اس معاملے میں دونوں قسم کے گروہ، قدیم یونانیوں کی طرح، ابھی بھی موجود ہیں ۔ ایک گروہ قائل ہے کہ ہم واحد الاصل کائنات کو سمجھ پائیں گے اور یہ واحد اصل ایک مساوات ہوگی۔ جبکہ دیگر ایسے ہیں جو تمام اساسی فطری قوتوں کی یکجائی کے قائل نہیں ہیں اور کثیر الاصل کائنات کے حامی ہیں۔ بہرحال کوانٹم میکانیات نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ کلاسیکی تصورات محدود ہیں اور فطرت کی تفہیم کے لئے ناکافی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ خیال مزید مضبوط ہوا ہے کہ انسان کا بنایا ہوا کوئی بھی فلسفہ حتمیت پر منتج نہیں ہوتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف یہ کہ ہمارے تصورات میں بہتری آتی ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ہمارا علم محدودیت کے ساتھ چلتا ہے۔ کوانٹم میکانیات نے کلاسیکل میکانیات کی حدود واضح کی ہیں۔ حتی کہ وہ مطلق تصوار ت جن پر سوال نہیں اٹھا یا جاتا تھا جیسے مادیت پسندی، معروضیت اور قانون علیت وغیرہ بھی اپنی حدود میں رہ کر ہی قابل عمل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح الفاظ کے معنی بھی متعین نہیں ہیں ان میں بھی ایک طرح کی محدودیت پائی جاتی ہے۔کسی خاص متن کے مکان اور سیاق کے ذریعے الفاط کے معنی محدودیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جیسے الیکٹران کا لفظ ایک ذرہ ہے یا لہر، اسکا  مکمل تعین نہیں ہو سکتا۔آج کا سب سے قابل عمل فلسفہ نتائجیت (Pragmatism) کا فلسفہ ہے۔ ہم اپنے مطلوبہ نتائج کے لئے خاص حالات کے متقاضی ہیں ۔ حالات کی تبدیلی نتائج کو تبدیل کر دیتی ہے۔

ایک روایت کے مطابق کوانٹم میکانیات کا بانی ورنر ہائزنبرگ  جب بھارت کے دورے پر گیا تو وہاں اس کی ملاقات مشہور نوبل انعام یافتہ ادیب رابندر ناتھ ٹیگور سے ہوئی۔ اور ٹیگور کے ساتھ مکالمے میں ہائزنبرگ کو محسوس ہوا کہ کوانٹم میکانیات کے حیران کن انکشافات   اور اصول عدم تعین کا گہرا رابطہ قدیم ہندی ثقافت سے ہے۔ اسی طرح نیلز بوہر کے بھارتی دورے میں اسکی ملاقات بدھ مت  اور تاؤ مت کے پیروکاروں سے ہوئی جنہوں نے اسے بہت متاثر کیا اور بوہر نے اپنے ادارے کے لئے جو مونوگرام بنوایا اس میں تاؤ مت کا ین یانگ بھی شامل ہے جو  کہ  کائنات کے دوہرے پن میں پائی جانے والی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ حیرت نہیں کہ کوانٹم میکانیات کا ایک اور بڑا نام ڈیوڈ بوہم بھی ان روایات سے متاثر تھا اور مشہور سادھو جے کرشن مورتی اور بوہم کے مابین مکالمے چلتے رہے جو ایک کتاب کی صورت میں شائع بھی ہوئے۔ ان تمام روایات  کے باوجود واضح رہے کہ کوانٹم میکانیات کسی طرح کی روحانیت نہیں ہے۔یہ ایک عقلی نتیجہ ہے جس کے لئے دہرائے جانے والے تجربات موجود ہیں اور اسکی عملی شکل جدید ٹیکنالوجی ہے۔ روحانیت  کے برعکس کوانٹم کے مطابق معروض اپنے موضوع کا اثر قبول تو کرتا ہے لیکن اس میں ضم نہیں ہوتا اور وحدت سے مراد وجودی وحدت نہیں بلکہ ایک عقلی  اصول ہے جو دونوں کے مابین ایک تعلق کی شکل میں موجود ہے۔صوفی روایت یا پھر دیگر بدھ مت یا پھر تاؤ مت میں جس وحدت کا ذکر ہے اس سے کوانٹم کا کوئی سروکار نہیں ہے۔اور ایسے تمام تصوارت جو کوانٹم کو کسی بھی قسم کی روحانیت سے متعلق کرتے ہوں وہ صریح غلطی کا شکار ہیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *