• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حمی الاثرۃ، سعودی عرب کے مستقبل قریب کا سیاحتی خطہ۔۔منصور ندیم

حمی الاثرۃ، سعودی عرب کے مستقبل قریب کا سیاحتی خطہ۔۔منصور ندیم

سعودی عرب کے جنوب مغربی تاریخی علاقے نجران کے قریب ’حمی الاثرۃ‘ میں حالیہ کچھ نئی منقش چٹانیں دریافت ہوئی ہیں، جو یقیناً پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ  کھینچ   سکتی ہیں۔ یہ نجران سے 130 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ یہاں چٹانوں پر جس قسم کے نقوش بنے ہوئے ہیں وہ انسان کی جانب سے رسم الخط کی پہلی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ حمی الاثرۃ اس وقت ان 10 مقامات میں سے ایک ہے جنہیں یونیسکو، سعودی وزارت سیاحت کی درخواست پرعالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر چکی ہے۔ اور سعودی عرب کے سیاحتی ویژن 2030 کے مطابق یہاں سعودی حکومت کافی دلچسپی سے سیاحوں کی آمد و رفت اور توجہ کے لئے مختلف تعمیراتی منصوبے بنا رہی ہے۔ اور سعودی حکومت ان چٹانوں کے نقوش کے حوالے سے یہاں دنیا کا سب سے بڑا انٹرنیشنل اوپن میوزیم بنانے کا عزم کرچکی ہے ۔

نجران سعودی عرب کے جنوب مغربی سمت میں واقعی ہے، جو یمن کے سرحدی علاقے سے متصل ہے، آبادی کے لحاظ سے گزشتہ 5 دہائیوں میں تیزی سے مقامی آبادی کے بڑھنے والے شہروں میں اس کا شمار ہوتا ہے، سنہء 1974 میں یہاں کی آبادی فقط 47500 نفوس پر تھی، سنہء 1992 میں یہ بڑھ کر 90٫980، سنہء 2004 تک ،2.47 ملین اور آج یہ 5 ملین سے بھی بڑھ چکی ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی آثار قدیمہ اور سیاحت کے محکموں کے حوالے سے خطے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ نجران ماضی میں تاریخی اعتبار سے متعدد تمدنوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سو سے زیادہ تاریخی آثار دریافت ہوچکے ہیں، بلکہ حال ہی میں سعودی اور بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ نے متعدد ایسے آثار دریافت کیے ہیں جن کا تعلق حجری دور کی تہذیبوں سے ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق نجران میں ماضی کے اعتبار سے ایسے انسانی تمدن کے شواہد ملے ہیں جن کا تعلق قدیم ترین حجری دور سے لگتا ہے۔ آثار کے مطابق اس خطے میں کبھی قد جھیلیں بھی ہوا کرتی تھیں جن کے اب آثار مٹ چکے ہیں۔ ماہرین اور مورخین کے مطابق یہ علاقہ سبز نخلستان پر کنٹرول کرنے کی خواہشمند قدیم عرب ریاستوں کے درمیان کشمکش کا محور بھی بنا رہا تھا۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق اور تاریخ سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نجران کا محل وقوع بےحد اہم رہا تھا ۔ یہاں سے مغربی اور وسطی جزیرہ عرب کے قبائل گزرا کرتے تھے۔ یہ قدیم تمدنی ریاستوں کے درمیان واقع تھا۔ قدیم تجارتی شاہراہ کا اہم مرکز رہا تھا۔ عراق، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، العلا، الپٹرا، شام اور مصر کے درمیان تجارتی کارواں یہاں سے ہوکر گزرتے تھے۔ نجران میں بازنطینی ، اموی خلافت اور عباسی عہد خلافت کے بھئ اہم آثار موجود ہیں۔ ان آثار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تجارتی اور زرعی اعتبار سے بے حد اہم خطہ تھا اور اس کی تمدنی حیثیت بھی تھی۔

اس سے قبل سنہء 2002 میں جاپانی ماہرین آثار قدیمہ ’الجایکا‘ کے تعاون سے نجران میں نوے کے قریب تاریخی نقوش دریافت کیے تھے۔
نجران میں ایک تاریخی مقام ’حمی الاثرۃ‘ ابھر کر سامنے آیا ہے اور مملکت بھر میں چٹانوں پر نقوش کا سب سے بڑا علاقہ بن چکا ہے

حمی الاثرۃ کو کچھ پہلے سے ہی تاریخی حیثیت مل چکی ہے جب یہاں ایک مقام پر ایسے سات کنویں ملے تھے، یہ کنویں اس وقت کانوں کو تراش کر بنائے گئے تھے۔ یہ کنویں آثار قدیمہ کی تاریخ اور تمدن میں خاصی اہم علامت ہیں۔ ان کنوؤں کے اطراف غاروں اور پہاڑوں کا سلسلہ ہے، تمام اطراف سے یہ ڈھکے ہوئے ہیں، صرف مشرقی حصہ ایسا ہے جو کھلا ہوا ہے۔ اور ان غاروں اور پہاڑوں میں انسانوں اور جانوروں کے نقوش چٹانوں پر کندہ بھی ہیں۔ جو یہاں پر پرانے وقتوں میں کسی تہذیب کا اشارہ دیتے ہیں۔ سعودی عرب نے فرانس کے ماہرین آثار قدیمہ کے تعاون سے یہاں پائے جانے والے نقوش کا ریکارڈ تیار کرلیا ہے۔ ان آثار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس دور کے لوگ شکار اور کاشتکاری سے اپنی غذا حاصل کرتے تھے، پانی کے لئے وہ کنویں کھودتے تھے، ان میں جنگ اور ہتھیاروں کا تصور بھی تھا ، اس کے علاوہ ایسے آثار بھی ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رقص کا شوق رکھتے تھے۔

نوٹ : یہ معلومات کے حوالے ‘الطلال’ سے لئے گئے ہیں، جو سعودی عرب سے آثار قدیمہ پرتحقیقی مقالے کے مجلہ ’اطلال‘ میں شائع ہوتے ہیں۔ اس کے 14 ویں اور 18 ویں شماروں میں نجران میں گزشتہ 50 برسوں کے دوران دریافت ہونے والے قدیم عرب و اسلامی مقامات سے متعلق مستند معلومات موجود ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *