مغالطے ۔ سیاہ سفید، نتیجہ اور نروانا (قسط 4)۔۔وہاراامباکر

سیاہ اور سفید
دو چیزوں کے بارے میں انتخاب اس طریقے سے سامنے رکھنا جیسے ان کے سوا کوئی بھی راستہ نہیں۔ اس کو غلط دوئی (false dichotomy) کا مغالطہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سطحی اور سادہ سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

“اگر آپ مسئلے کا حل نہیں ہیں تو آپ خود مسئلے کا حصہ ہیں”۔ یہاں معصوم راہگیر کا امکان ختم کر دیا گیا ہے)۔

“آپکو یقین کس پر ہے؟ سائنس پر یا مذہب پر؟” یہاں مغالطہ یہ ہے کہ ایک پر یقین کا لازمی مطلب دوسرے سے انکار ہے اور کوئی بیک وقت دونوں پر یقین نہیں رکھ سکتا۔ ایسا بھی ضرور ممکن ہے کہ کسی کو خود ایک یا چند جگہوں پر ٹکراوٗ نظر آتا ہو، لیکن اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ ایک کے لئے دوسرے سے انکار ضروری ہے۔ بہت سے لوگ بیک وقت دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ایک مثال: بہت سے لوگ بیک وقت ان دونوں پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا نے کائنات بنائی اور یہ کائنات فطری اصولوں پر کام کرتی ہے جن کو سائنس دریافت کرتی ہے۔

“اگر فلاں نظریے کے مخالف نہیں، تو جاہل ہو”۔
“اگر فلاں کے حق میں ہو تو ایجنٹ ہو”۔
“اگر فلاں کے خلاف ہو تو غدار ہو”۔

اسی سے ملتا جلتا ایک اور مغالطہ جھوٹا تسلسل ہے۔ دو چیزوں کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل نہیں ہوتی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چیزوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ رات اور دن کے درمیان کا وقت ہے جب یہ اس وقت کو رات یا دن کی کیٹگری میں نہیں ڈالا جا سکتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رات اور دن بامعنی ترکیب نہیں۔ اسی طرح religion اور cult میں حدِ فاصل خواہ شارپ نہ ہو لیکن ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں الگ ہیں۔ سائنس اور سوڈوسائنس کا بھی یہی معاملہ ہے۔
“کئی بار سائنسدان اپنے اصول توڑتے ہیں، سیمپل سائز ٹھیک نہیں رکھتے، غیرمعیاری طریقہ استعمال کرتے ہیں، اپنے تعصب کی بنیاد پر نتیجہ نکلالتے ہیں، اس لئے میری سوڈوسائنس اور ان میں فرق نہیں”۔ “اس کی دوا کئی بار تجربات میں اچھے نتائج نہیں دیتی، میرا معجون نتائج میں کبھی اچھے نتائج نہیں دیتا۔ ایک ہی بات ہے”۔ نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتیجے سے دلیل
اس دلیل میں کاز اور ایفیکٹ کا الٹا دیا جاتا ہے۔ کسی کاز کی “وجہ” اس کا ایفیکٹ کو کہا جاتا ہے۔ مثال: اگر کسی کا ارتقا کا علم ابھی زیادہ گہرا نہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ کہے کہ پرندوں میں پروں کا ارتقا اس وجہ سے ہوا کہ وہ اڑ سکیں۔ یہاں پر کاز اور ایفیکٹ کو الٹا دیا گیا ہے۔ پرندے اڑتے اس وجہ سے ہیں کیونکہ ان کے پر ہیں، نہ کہ پر اس وجہ سے ہیں تا کہ وہ اڑ سکیں۔ ابتدائی پر اڑنے کے لئے نہیں تھے، غالباً انسولیشن فراہم کرتے تھے۔

اس کی ایک اور مزیدار مثال کرسچن کری ایشنسٹ کی طرف سے دی جانے والی دلیل ہے۔ “ارتقا غلط ہے کیونکہ اگر یہ ٹھیک ہو اس کا نتیجہ اخلاقیات کی خرابی ہو گا”۔ اس دلیل میں مسئلہ یہ ہے اخلاقیات کا خراب یا بہتر ہو جانا ارتقا کو غلط یا ٹھیک کہنے کی دلیل نہیں۔ (یہ الگ بات کہ اخلاقیات کی خرابی خود میں ہی لیا جانے والا غلط مفروضہ ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نروانا کا مغالطہ
سائنس میں غلطیاں ہوتی ہیں؟ سائنس بے کار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کچھ نہیں پتا۔
چہرے کا ماسک لگانا کووڈ سے بچنے کی سو فیصد گارنٹی نہیں؟ ماسک پہننا بے کار ہے۔
تعلیم کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی ڈھیروں جاہل نکل رہے ہیں؟ تعلیم بے کار ہے۔
فورم پر بار بار بتانے کے باوجود علم سے لڑنے والے لوگ ختم نہیں ہو رہے؟ فورم بے کار ہے۔

سائنس میں غلطیاں ہوتی ہیں، ہو سکتی ہیں۔ لیکن سائنس سے ہمیں بہت کچھ معلوم ہو چکا ہے۔ اور کچھ نہیں تو اس وقت آپ کا یہ مضمون پڑھنا اس کا ثبوت ہے کہ ہم دنیا کو کس قدر جان چکے ہیں۔
اگر سب چہرے پر ماسک ٹھیک لگائیں تو وبا کے پھیلاوٗ کو روکنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اور ہر پبلک ہیلتھ کے اقدام کا یہی مقصد ہوتا ہے۔
تعلیم کے نظام کی خرابیوں کا مطلب یہ نہیں کہ بہت سے لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔
فورم پر بار بار بتانے سے بہت سے لوگ سیکھ لیتے ہیں۔ اور یہی بہت ہے۔

“اگر سب کچھ پرفیکٹ نہیں، تو سب بے کار ہے” بہت ہی بے کار دلیل ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *