ہماری سوچی سمجھی رائے ہے طاقتور حالات کے جبر کا شکار ہو چکے ہیں اور سیاستدان بے بسوں کی مجبوری اور بے بسی بھانپ چکے ہیں۔ہم نہیں سمجھتے دیوالیہ معیشت میں کوئی سیاستدان بھلے زرداری ہوں یا شہباز شریف حکومت← مزید پڑھیے
مجلسِ مذاکرہ جاری تھی۔ موضوع تھا “خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سَحَر پیدا۔” اس مصرعے کی روشنی میں محقق محمد بشیر دولتی نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی۔ اُن کی گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آج← مزید پڑھیے
طوفان یونس جس کی رفتار 100 میل فی گھنٹہ کی ہے، کے باعث جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حکومت نے موسم کی شدت کے باعث فوری طور پر سکولوں میں چھٹی کر دی ہے، اور فوج کو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مستعد کر دیا ہے← مزید پڑھیے
عمران خان اگر چاہیں کہ حزب اختلاف کا وجود ہی ختم ہو جائے، گلیاں سنجیاں ہو جائیں اور ان گلیوں میں صرف وفاقی وزراء پھرا کریں، تنقید کرنے والا کوئی نہ ہو اور ہر سو مرحبا مرحبا کی آوازیں ان← مزید پڑھیے
پٹرول کی قیمتوں میں اکٹھے ہی بارہ روپوں کے اضافے نے غریبوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں، میں ٹھوکر نیاز بیگ پر احتجاج کرنے والے سینکڑوں رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ تھا جن کی قیادت مجید غوری کر رہے تھے، مجھے← مزید پڑھیے
مقتل سے براہِ راست (3،آخری حصّہ)۔۔محمد وقاص رشید/احساسِ زیاں ہے کہ جو دل سے جاتا ہی نہیں ہے۔ سلامتی کے مذہب کے نام پر بننے والے ایک ملک میں سلامتی ہی کو خطرہ لا حق ہے اور وہ بھی رحمت للعالمین کی عظیم ترین ہستی اور مقدس ترین فلسفے کو گزند پہنچا کر← مزید پڑھیے
جو بعض انتہاپسند تنظیموں کے پلیٹ فارم سے چوبیس قرآنی آیات کے اخراج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ (اس معاملےنے لکھنؤ کے ایک مشکوک کردار کوابھی حال میں اتنا بے چین کیا کہ اس نے اپنا شیعہ مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنا لیا۔ بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اور باستثناء حضرت علی تمام مقدس ہستیوں بشمول رسالتمآب ﷺ کے لیے دشنام گوئی پر اتر آیا← مزید پڑھیے
ماؤزے تنگ کا خیال تھاکہ:"زمیندار طبقے اوربیوروکریٹک سرمایہ داروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے ساتھ،مزدور طبقے اورقومی سرمایہ دار کے درمیان تضاد چین میں بنیادی تضاد بن چکا ہے۔← مزید پڑھیے
مخصوص ایجنڈے اور ذہن سازی پر مامور کچھ دانش ور اور صحافی ہر چند دن بعد اپنی زنبیل سے نت نئی گھڑی ہوئی خبریں نکالتے ہیں کبھی حکومت کے جانے کی ،کبھی میاں صاحب کی واپسی کی، کبھی کرسی اور← مزید پڑھیے
وہ نیک لڑ کی تھی صلح کل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی، لپٹائی باکرہ اک غریب گھر کی کنواری کنیا ذرا سے اونچے، امیر گھر میں بیاہی آئی تو اپنے شوہر کے لڑ← مزید پڑھیے
مقتل سے براہِ راست (2 )۔۔محمد وقاص رشید/زندگی بھی ایک کھلیان ہے جو بویا جائے گا اس سے مختلف کاٹےجانے کی توقع کا انجام وہی ہوتا ہے جو ہمارا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں جو بونے والے ہیں وہ کاٹنے والے نہیں اور جو کاٹنے والے ہیں انکے پاس بونے کا نہ شعور ہے نہ اختیار۔ ← مزید پڑھیے
سعودی عرب کا ایک معروف تحقیقی اِدارہ "مرکز برائے تحقیق و علمی ابلاغ" Centre for Research and Knowledge Communication ہے، یہ گاہے گاہے کئی علمی تحقیقات پر کام کرتا ہے← مزید پڑھیے
انہیں چولستان کے دیگر قلعے، اوچ شریف کے مقبرے، بھونگ مسجد، کوٹ مٹھن میں درگاہ خواجہ فریدؒ، مسجد سکینہ الصغریٰ اور پتن مینارہ جیسے مقامات بھی دکھائیں لیکن نجانے حکومت کا ملتان و بہاولپور سے ایسا کیا مفاد جڑا ہے جو وہ یہاں سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے۔← مزید پڑھیے
سانحہ تلمبہ ابھی بالکل تازہ تھا۔ مقتول کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا۔ اس کی کٹی ہوئی انگلیوں سے خون رِس رہا تھا۔ میرے کالم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ گذشتہ کالم کو ابھی چند گھنٹے← مزید پڑھیے
الجھنوں کے ساتھ جیتے دیکھیں گے تو اس بات کا امکان پیدا ہوگا کہ آپ اس کی فردیت ، اس کی یکتائی ، اس کے چھوٹے چھوٹے دکھ سکھ ، اس کی جنسی زندگی سچائی اور جھوٹ ، اس کی← مزید پڑھیے
سترہ جنوری کی رات حرکت قلب کچھ دیر کے لیے بند ہو گئی۔ میں بستر پر نیم بے ہوش ساکت پڑا رہا ، لیکن پھر ایک جھٹکےسےدل کی دھڑکن استوار ہو گئی۔ اس دوران میں ذہن ماؤف تھا یہ موت← مزید پڑھیے
خدا “رب العالمین ” ہے۔ رب العالمین کے ان الفاظ پر غور فرمائیے۔ ۔یعنی سارے جہانوں کا ایک پروردگار ۔ اب آئیے ایک قدم آگے بڑھتے ہیں, خدا کے دین کا نام اسلام ہے, اسلام کے لفظ پر توجہ مرکوز← مزید پڑھیے
اس کالم کو میں نے جو عنوان دیا ہے ابھی اس پر گفتگو نہیں کروں گا۔ فی الحال تو ان اسباب و عوامل پر کچھ اجمالی روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو اس عنوان اور اس کالم کا محرک← مزید پڑھیے
لخت لخت کہانی (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔آغرؔ ندیم سحر/ کالم لکھنے کا سفر ۲۰۰۸ء سے شروع ہوا’آج چودہ برس بیت گئے۔یہ چودہ برس بہت یادگار رہے’ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑا’اچھے اور برے دونوں۔← مزید پڑھیے
بعض باتیں ہم غیر محسوس طور پر نظر انداز کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ہمارے معاشرے اور اس معاشرے کی اقدار میں کیا بنیادی تبدیلی آ رہی ہے‘ یہ سب کچھ غیر محسوس انداز میں ہورہا ہے۔ ایک رائے← مزید پڑھیے