مقتل سے براہِ راست(1)۔۔محمد وقاص رشید

خدا “رب العالمین ” ہے۔  رب العالمین کے ان الفاظ پر غور فرمائیے۔ ۔یعنی سارے جہانوں کا ایک پروردگار  ۔ اب آئیے ایک قدم آگے بڑھتے ہیں, خدا کے دین کا نام اسلام ہے, اسلام کے لفظ پر توجہ مرکوز فرمائیے۔ ۔ اسکا مطلب سلامتی ہے ۔اب ایک قدم اور بڑھائیے یہ دین جس ہستی پر ایک تربیتی کورس کی شکل میں تکمیل کو پہنچا ان کو خدا نے “رحمت للعالمین ” کا خطاب دیا ۔رحمت للعالمین کے ان الفاظ پر تدبر کیجیے, طالب علم کی نگاہ میں ان تین الفاظ کے مجموعہ کی درست تفہیم انسان کو اسلام کی روح کا اصل فہم عطا کرنے کے لیے کافی ہے ۔

تمام جہانوں کے خدا نے انسان کو متنوع خصوصیات مگر ایک مشترک فطری اخلاقیات کے ساتھ دنیا پر بھیجا۔ اس عارضی زندگی کےلیے زمین پر اپنی عبودیت کے اظہار کے کچھ ضوابط اور کچھ بقاءِ باہمی کے اصولوں کو  مجتمع کر کے ایک دین تشکیل دیا جسکا نام “سلامتی ” رکھا۔ اس سلامتی کے دین کو انسانیت پر ایک تعلیم و تربیت کے علمی سلسلے سے گزارا، کتابیں نازل فرمائیں، لاکھ ہا انبیاء کو مبعوث فرمایا اور پھر اپنے آخری پیغمبر ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ان پر ایک ہدایت کی کتاب اتاری اور اسکی حفاظت کا ذمہ خود لیا۔ تاکہ انسان اس ابدی زندگی کے لیے خود کو تیار کر سکے۔ جس کا فیصلہ اسی عارضی زندگی کی بنیاد پر خدا نے روزِ محشر اپنی عدالت میں کرنا ہے ۔۔اور بس!

فرض کیجیے!  آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھ رکھی کہ “وما ارسلنک الا رحمت للعالمین ” کہ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے  اور آپ رسالت ماب ﷺ  کی حیاتِ طیبہ کو پڑھنے اور جاننے لگتے ہیں، کہیں پتھر کھا کر لہو لہان کیے جانے کے بدلے دعا، کہیں بد ترین رویے کے جواب میں احسان، کہیں سالہا سال کی بد سلوکی کے ردِعمل میں صلہ رحمی،کہیں جانی دشمنی کے وار کے مقابل عفو و درگزر اور کہیں ہجرت تک پر مجبور کر دیے جانے کے جواب میں فاتح بن کر بھی ذاتی انتقام نہ لینے کا اعلان اور عام معافی کا اعلان ۔ان اعلیٰ  ترین انسانی کرداری عظمتوں کو پڑھ کر ہم یقینا ً اس نتیجے ہی پر پہنچیں گے کہ نبی کریم ﷺ واقعی عالمین کے لیے رحمت تھے اور ہیں ،کیونکہ انکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کیا جانا ممبرِ رسول ﷺ  پر تشریف فرما ہستی کو اپنے رحمت للعالمین کے عہدے کا اتنا پاس تھا اتنا تیقن اور ارتکاز حاصل تھا کہ ساری حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو ہر واقعہ ہر قصہ اور ہر سنت اسی بات کی غمازی کرتی ہے کہ آپ ﷺ  سارے جہانوں کے خدا کے سلامتی کے دین کے وہ آخری پیغمبر تھے جن کی رحمت صرف پیروکاروں اور مسلمانوں تک محدود نہیں تھی عالمین یعنی سارے جہانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

ممبرِ رسولﷺ  سے اس رحمت کے وہ بیج بوئے گئے کہ جزیرہ نما عرب کے صحراؤں میں سلامتی کے مذہب کے پھول کھل اُٹھے ،محبت کی کلیاں مہکنے لگیں،  انسانیت کی فصل لہلہانے لگی،انسانیت کے خزاں رسیدہ چمن میں اسلام یعنی سلامتی کی بہار آ گئی اور جنابِ رحمت للعالمین، محسنِ انسانیت کہلائے۔  جن کی سنت یعنی رحمت خدا نے قیامت تک کے لیے ایک نمونہ قرار دے دی۔

“لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ”
پھر وقت کے پُلوں کے نیچے سے 15 صدیوں کا پانی بہہ گیا۔  برصغیر کے مسلمانوں نے بھی یہ سوچا کہ اس بہار آفریں گلستان کی پیروی میں ایک چمن ہم بھی آباد کریں گے ،مگر افسوس کہ ہم ایسا کرنے کا نعرہ تو بلند کرتے رہے لیکن اپنی جغرافیائی روایات کے عین مطابق نعرہ بازی ہی تک محدود رہے۔ ملک تو بن گیا لیکن جو کردار ان نعروں کو عملی شکل میں ڈھالنے کے لیے درکار تھا وہ ہر فیصلہ کن سطح پر نا پید تھا اور ہے۔

پھر اس ملک پاکستان کو بنے ہوئے بھی 70سال بیت گئے ۔ ممبرِ رسول ﷺ  جس سے تب یوں رحمت بانٹی گئی تھی کہ سلامتی کے دین کا بول بالا ہوا ، اب ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے اپنے فرقہ وارانہ اور سیاسی مفادات کی خاطر اسے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ نیت کی تطہیر کا دین تو خیر ادنیٰ ترجیحات کے حامل محدود ذہنیت رکھنے والوں کی غلط تفہیمات کا شکار ہو کر ظاہری نمودو نمائش کا مذہب صدیوں سے بنا ہی دیا گیا تھا ، لیکن رحمت للعالمین کی ہستی اور پاکستانی سماج کے تشخص کو طالبِ علم کے ناقص مشاہدے کے مطابق کسی نے اپنی سیاست کی خاطر اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا خادم رضوی صاحب نے ۔ خدا انکی مغفرت فرمائے!

عشق تو بہت ارفع و اعلیٰ جذبہ ہے،محبت کی سیڑھی کا اخروی پڑاؤ،انسان اگر کسی سے چاہت بھی رکھتا ہو تو بھی ہمیشہ کوشاں رہتا ہے اپنے محبوب کی پسند میں ڈھل جانے کے لیے ۔ عشق تو پھر اپنی ذات کی مکمل نفی ہوتی ہے ۔عشقِ رسول ﷺ بھی ایسی ہی کیفیت کا نام ہے۔  رسول اللہ ﷺ  کی سنت کو اللہ نے ہر مسلمان کے لیے ایک نمونہ قرار دیا۔ مسلمان کے لیے تو آپ ﷺ  کی محبت ایمان کی بنیاد ہوئی ،انکی عزت و احترام سب سے بڑھ کر ہوئی،لیکن اگر کوئی رحمت للعالمین کے عشق کا دعویٰ  کرے گا تو اسکا مطلب اسکا دعویٰ  ہے کہ وہ اپنی ذات کی مکمل نفی کر کے رحمت للعالمین کے اس اسوہ حسنہ کے رنگ میں رنگا جا چکا یعنی اسکے افعال و اعمال میں سے بھی اپنی بساط اور جستجو کے مطابق رحمت ہی چھلکے گی ۔ ۔وہ بھی محسنِ انسانیت کا عاشق بن کر اب انسانیت کے اوپر اپنی وسعت کے حساب سے احسان کر رہا ہے، عفو و درگزر ، عدل و انصاف ، دیانتداری ، اخلاصِ نیت ،نرم خوئی ،خوش خلقی ، سچائی ،امانت داری ، صلہ رحمی ، بھلائی اور عظمتِ کردار اسکے کردار میں بھی یوں سما گئے کہ اسکو دیکھ کر ہر کوئی کہتا ہے کہ آپ رحمت للعالمین کے عاشق لگتے ہو۔

لیکن یہاں عشق کی تعریف ایک بار پھر جغرافیائی حدود و قیود میں بند ہو کر روایتی و مروجہ ریاکاری میں ملفوف ہو کر دوسروں پر اپنے ایمان کی دھاک بٹھانا قرار پائی اور یہاں تک بھی چلو کسی نہ کسی حد تک سماجی گزارہ ہو ہی رہا تھا لیکن مولانا خادم حسین رضوی صاحب نے اس پر بھی اکتفا نہ کیا اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب کے بہیمانہ قتل سے اس عشقِ رسول ﷺ  کے من پسند معانی و تفہیم کے وہ بیج سماجی کھلیان میں بونے شروع کر دئیے آج پوری قوم جسکی خون آلود فصل کاٹ رہی ہے ۔افسوس صد افسوس کہ پچھلی ایک دہائی میں ہی یہ تبدیلی رونما ہوئی اور اپنے ملک میں پہلے سے جاں بہ لب انسانیت اور زندگی کو اب نزع کی ہچکیاں لیتے دیکھنا بہت ہی روح فرسا ہے خصوصا تب جب طالب علم بھی ان چند آوازوں میں شامل تھا جنہوں نے اپنے اپنے طور پر متنبہ کیا تھا کہ یوں یہ سرزمین مقتل بن جائے گی۔

(دوسری   قسط میں پچھلے دس برسوں کی اس خون آلود داستان کی جزئیات کا جائزہ لیں گے ۔ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑے الفاظ بنا کر کاغذ کی دیوار میں چُن دیں گے )

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply