آج بلوچستان کا ہر فرد موت سے لڑ رہا ہے، ساری کائنات کا آقا پیسہ ہے۔ مغل صاحب لکھتے ہیں ”ساٹھ برسوں سے غلام ابِن غلام جو حقیر نیچ ،اچھوت ،رذیل ہیں۔ یہ سب اس سے بھوک کروارہی ہے، بھوک← مزید پڑھیے
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جوتے کی قیمت 1999 روپے کیوں ہے؟ دو ہزار کیوں نہیں؟ کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟ ایک روپے سے فرق تو نہیں پڑنا چاہیے لیکن پڑتا ہے۔ اس کو بائیں طرف والے← مزید پڑھیے
لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھیر کی ریکارڈنگ ہورہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔ طارق عزیز نے اُن سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں← مزید پڑھیے
کچھ نہ کچھ تو ہونا تھا۔تخلیق اپنی وجہ اور وجود سے منکر ہو گئی۔ ارض و سما استعارے اور اشارے بن کر رہ گئے ۔ پہاڑوں کو سر کرنے کی روایت ٹوٹ گئی۔ شہرِذات کی فصیلیں اب تعمیرہونے لگیں۔ نیتیں← مزید پڑھیے
کل دنیا بھر میں فادرز ڈے منایا گیا۔۔ سوچا کیوں نہ آج اس دن کو اپنے بہت پیارے استاد کے نام کر دوں کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ اسی کی دہائی کی بات ہے مجھے پڑھائی← مزید پڑھیے
سماج کا علم و عمل اور غوروفکر سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر روزمرہ بولی جانے والی زبان میں بہت سے لفظ لاشوں میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے انسانیت، خدمت، ایثار، قربانی، حُب الوطنی،مقصدیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ← مزید پڑھیے
اذان کے لغوی معنی سنا دینا، خبر دار کر دینا اور پکارنا ہیں۔ امام نودی ؒ نے فرمایا اہل لغت کے نزدیک اذان کے معنی اعلام کے ہیں ,اعلام کا مطلب ہے کسی چیز کے بارے میں لو گوں کو← مزید پڑھیے
لاعلمی کی دلیل فلاں چیز اس لئے ٹھیک ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ یہ غلط نہیں ہے۔ “چونکہ ہمیں نہیں پتا کہ وہ روشنی کس وجہ سے تھی تو یقیناً یہ خلائی مخلوق کی اڑن طشتری ہو گی”۔ کئی← مزید پڑھیے
یہ 2012 کی بات ہے جب پہلی بار کالج گئے تو کسی دن پروفیسر نے سب سے سوال کیا کہ سب بتائیں آپ کس شخصیت کی جدوجہد اور کامیابی سے متاثر ہیں یا کس نے اپنی محنت سے آپ کو← مزید پڑھیے
شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں اور میرا باپ بہت شریف آدمی ہونے کے ناتے بڑا بدمعاش شخص تھا۔ساٹھ سال کی عمر میں جس کے پاس کردار اور رزق حلال کی گارنٹی خدا کی قسم کھا کر موجود ہو،← مزید پڑھیے
پاکستان کی جیلوں بارے ہمارا گمان یہی ہے کہ یہ جرائم کی فیکٹریاں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل جانا کسی بھی ملزم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے یا تو وہ سچے دل← مزید پڑھیے
بلاشبہ لڈن جعفری کی شہرت اب چاردانگ عالم میں ہے کیونکہ وہ اب ایک دیومالائی کردار بن چکے ہیں یا بنائے جاچکے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کچھ انکے بارے میں ضمیر اختر نقوی بتاچکے ہیں← مزید پڑھیے
اُس وقت کے ایم پی اے اور آج کے منسٹر ایم این اے خسرو بختیار سے ایک بڑی جنگ کے بعد میری پوسٹنگ تھانہ صدر رحیم یار خان ہو گئی تھی مگر میری اس پوسٹنگ سے رانا سعید انسپکٹر مرحوم← مزید پڑھیے
میرے اس دنیا پر نمودار ہونے پر جو پہلی غذا میرے منہ کے ذریعے جسم کا حصہ بنی جسے ہمارے ہاں “گُھٹی” کہا جاتا ہے ہمارے پنجابی سماج میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ← مزید پڑھیے
یہ کوئی چالیس برس کے قریب کی بات ہے، حسب معمول شفیق الزمان روزانہ کی طرح اپنے گھر سے ناشتہ کرکے اپنے کام پر نکل جاتے تھے، ان کا کام مختلف سڑکوں پر ہوتا تھا، انہوں نے اپنے بچپن سے← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا پر ہمہ قسم صاحبان علم اپنی عادت متواترہ سے مجبور علمی رائتہ نہایت خشوع و خضوع سے پھیلاتے ہیں ۔ گو یہ ہماری قومی عادات میں سے عادت صحیحہ ہے کہ ہم علمی خدمت میں ہرگز پیچھے نہیں← مزید پڑھیے
(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد← مزید پڑھیے
ایک صاف ستھرے محلے کی ،کھلی اور ہوا دار گلیوں کے دونوں اطراف مکانات تھے جن کے صحن کو مٹی گارے سے لیپا گیا تھا اور ان میں لکڑی کے ڈربے بھی بنائے گئے تھے۔جن میں زیادہ تر مرغیاں،خرگوش وغیرہ← مزید پڑھیے
بھگت سنگھ نے یہ مضمون 1930 میں لکھا تھا البتہ بھگت سنگھ کی موت کے بعد اگلے سال 1931 میں شائع ہوا۔موضوع کے اعتبار سے مضمون کے دو حصے ہوسکتے ہیں۔ایک میں بھگت سنگھ نے ان الزامات کا جائزہ لیا← مزید پڑھیے
جسم کاروح سے اور روح کا رب سے ملاپ ،حقیقی یوگ ہے۔جو بندہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ جسمانی ذہنی اور روحانی اپنے رب سے جڑا رہے وہ یوگی کہلائے گا۔ یوگ بندے کو خدا سے← مزید پڑھیے