عزیز اللہ خان کی تحاریر

لاہور پولیس کے شہزادے؟۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

لاہور پولیس کی پنجاب پولیس میں قربانیوں کی لمبی داستان ہے دہشت گردی سب سے زیادہ دھماکے اور پولیس ملازمین پر حملے بھی لاہور میں ہوئے لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے جرائم میں←  مزید پڑھیے

قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے←  مزید پڑھیے

ڈی آئی جی کا قتل۔۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

علیم ملزم کی جوڈیشل انکوائری کے بعد ایس ایس پی اعظم جوئیہ صاحب نے میری تعیناتی تھانہ کوٹ سبزل کر دی تھی تھانہ کوٹ سبزل پر میری یہ دوسری تعیناتی تھی سابقہ دور میں میں نے جو کام کیے تھے←  مزید پڑھیے

ڈرائی ڈراؤننگ(Dry drowning)۔۔عزیز اللہ خان

اُس وقت کے ایم پی اے اور آج کے منسٹر ایم این اے خسرو بختیار سے ایک بڑی جنگ کے بعد میری پوسٹنگ تھانہ صدر رحیم یار خان ہو گئی تھی مگر میری اس پوسٹنگ سے رانا سعید انسپکٹر مرحوم←  مزید پڑھیے

انسپکٹر چوہدری صادق گجر شہید کا قتل(آخری قسط)۔۔عزیزا للہ خان

بُرے کام کا بُرا نتیجہ ایس ایس پی اعظم جوئیہ کا فون سُنتے ہی ایک دفعہ تو میں پریشان ہو گیا مگر میں اپنی پریشانی اپنے ماتحتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اب تک جتنے بھی دہشت گردی←  مزید پڑھیے

انسپکٹر چوہدری صادق شہید کاقتل (قسط3)۔۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

اور جبار پکڑا گیا ہمیں پشاور آئے تقریباً 15 دن ہو چکے تھے اب پیسے بھی ختم ہو گئے تھے میں اور امیر خان مایوس ہو چکے تھے میں نے سوچا واپس چلے جاتے ہیں۔ پھر آجائیں گے یہ بات←  مزید پڑھیے

مرغی کی تین ٹانگیں۔عزیزخان ایڈوکیٹ لاہور

میں 2003 میں ایس ایچ او تھانہ شیدانی شریف ضلع رحیم یار خان تعینات تھا،   ایک دن  پُرانا ملازم فدا حسین آیا اُس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ تھا  ،کہنے لگا ،میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں←  مزید پڑھیے

انسپکٹر صادق گُجر شہید کا قتل (قسط دوئم)۔۔عزیز اللہ خان

اب یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ چوہدری صادق کو جبار ارائیں المعروف سندھی ، شاہسوار ، ابوبکر اور ستار ارائیں نے شہید کیا ہے مجھے صرف جبار کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ پشاور میں←  مزید پڑھیے

انسپکٹر صادق گجر شہید کا قتل(حصہ اوّل)۔۔عزیز اللہ خان

ستمبر 1997ء میں میری تعیناتی تھانہ کوٹ سمابہ تھی۔ ان دنوں لشکر جھنگوی، شیعہ فرقہ کے افراد کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کی دسترس سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ اب انھوں نے پولیس ملازمین کو بھی نشانہ بنانا←  مزید پڑھیے

کرپشن کی زنجیر اور پولیس۔۔عزیز اللہ خان ایڈوکیٹ

کوٹ سبزل تھانہ کی تعیناتی کافی مشکل تھی، روزانہ شام چار بجے سے رات دس بجے تک سنگین واردات ہونے کا خدشہ رہتا تھا اور تھانہ کے تمام ملازمین تیار ہوتے تھے کیونکہ سندھ کے بالکل قریب ہونے کی وجہ←  مزید پڑھیے

حنیف شہید بنام آئی جی سندھ۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ لاہور

سندھ پولیس کا ایک سب انسپکٹر حنیف کورونا کی بیماری سے شہید ہوگیا ،سب انسپکٹر سعید آباد پولیس ٹرینگ سکول میں اپر کلاس کورس کی ٹریننگ لے  رہا تھا، دوران ٹرینگ دوسرے ملازمین کے ساتھ اُسے ملیر کراچی میں “←  مزید پڑھیے

انسداد دہشتگردی عدالت میں گواہی۔۔عزیز اللہ خان

یہ 1991 کی بات ہے تھانہ سہجہ میں نے بہت محنت کی جس کی وجہ سے ہر میٹنگ میں SSP رحیم یار خان اور DIG بہاولپور رینج کی طرف سے ہزاروں روپے نقد انعام اور تعریفی اسناد ملا کرتی تھیں۔اس←  مزید پڑھیے

موت کے سوداگروں کے خلاف جنگ۔۔عزیز اللہ خان

تھانہ سہجہ خا ن پور سے 13کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔یہ تھانہ صدر خانپور اور اسلام گڑھ کے کچھ چکوک اور مواضعات کو ملا کر نیا بنایا گیا تھا۔علاقہ تھانہ کافی تعداد میں جرائم پیشہ افراد رہائش پذیر تھے جن←  مزید پڑھیے

ساڈا بابا؟۔۔عزیز اللہ خان

پرانی بات ہے الیکشن میں لغاری صاحبان کو اپنے مخالف لغاری کی ایک ویڈیو مل گئی جس میں لغاری صاحب ایک 15/16 سال کی لڑکی کے ساتھ انتہائی بے دردی سے  جنسی تعلق قائم کررہے تھے،   لغاری صاحبان نے←  مزید پڑھیے

ماہر نقب زن۔۔عزیز اللہ خان

لیاقت پور کی تعیناتی بہت اچھی تھی کچھ عرصہ بعد انسپکٹر طفیل وٹو صاحب کا تبادلہ تھانہ لیاقت پور سے ہو گیا اور ان کی جگہ چوہدری دلدار جو کہ قبل ازیں SHOظاہر پیر تھے لیاقت پور تعینات ہوگئے۔وہ مجھ←  مزید پڑھیے

ملاں طوطی کی ڈکیتی۔۔عزیز خان

یہ 1986 کی بات ہے ٹریفک پولیس سے مجھے سہالہ سپیشل ڈیوٹی کورس کے لیے بھجوا دیا گیا اایس ایس پی فیاض میر بہاولپور میں تعینات تھے چار ماہ سہالہ میں سخت جسمانی ٹرینگ کے بعد واپسی پر میری پوسٹنگ←  مزید پڑھیے

لنگوٹ پوش گینگ۔۔عزیز خان

یہ 1987 کی بات ہے میرا تبادلہ بہاولپور سے رحیم یار خان ڈسٹرکٹ میں ہوچکا تھا دس دن جوائننگ ٹائم گھر گزارنے کے بعد میں نے پولیس لائن رحیم یار خان میں اپنی حاضری کروائی ان دنوں مرزا یاسین SSPہوا←  مزید پڑھیے

سیاسی وڈیرے۔۔عزیز خان

جیل میں اور حوالات تھانہ کوتوالی میں 42دن گزارنے کے بعد میری تعیناتی سکیورٹی برانچ بہاولپورکردی گئی جہاں میاں عرفان اللہ سب انسپکٹر انچارج تھے۔میاں عرفان اللہ بہت سمجھدار پولیس آفیسر تھے انھیں میری ذہنی کفیت کا بھی اندازہ تھا←  مزید پڑھیے

“کرونا “حاضر ہو۔۔۔عزیز خان

جب سے حکومت نے لاک ڈاون کے احکامات جاری کیے میں گھر پر ہی رہا اس ہفتہ کسی بھی عدالت میں کوئی قابل ذکر کیس نہ تھا جج صاحبان اگلی تاریخیں دے رہے تھے مگر آج میرے عدالت عالیہ کے←  مزید پڑھیے

چھپے رُستم۔۔عزیز خان

علاقہ تھانہ سول لائنز بہاولپور میں منشیات فروشی بہت زیادہ تھی۔ ان دنوں ہیروئن کا نشہ نیا نیا متعارف ہوا تھا۔ اس کے بارے میں افسران بھی پریشان تھے اورمیری یہ کوشش ہوتی تھی کہ منشیات استعمال کرنے والوں کی←  مزید پڑھیے