عزیز اللہ خان کی تحاریر

جسے اللہ رکھے (قسط 9)۔۔عزیز اللہ خان ایڈووکیٹ

دو دن بڑی بے چینی میں گزرے اس دوران حمیدہ فوجی کے موبائل نمبر کا ڈیٹا بھی آچکا تھا جس میں اس کی لوکیشن مُلتان شریف کی آرہی تھی کبھی کبھی علی پور اور راجن پور کی بھی لوکیشن تھی-←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط 8)۔۔عزیز اللہ خان ایڈووکیٹ

میں جھانگڑہ پتن پر رات کو اپنے تھانہ کے اور ایلیٹ کے ملازمین کے ساتھ بلو حسام کی فون کال کا انتظار کر رہا تھا- وقت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا-رات کے بارہ بج گئے مگر علو حسام کی کال←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط 7)۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

اپنی ذاتی کلاشنکوف اور نشہ آور گولیاں بلو حسام کو دینے کے بعد میں نے اُسے معراج خان Asi کے ہمراہ موٹرسائیکل پر روانہ کر دیا معراج خان Asi کو سختی سے تاکید کی کہ اس بات کا کسی سے←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط6)۔۔عزیزاللہ خان

میں رحصت اتفاقیہ پر ملتان گھر گیا ہوا تھا معراج خان Asi کی مجھے کال آئی کہ وہ شفیع ماتم کو جام پور سے ٹرانسفر کروا کر تھانہ نوشہرہ پنہچ گیا ہے- میں نے اپنے تمام ذاتی کام ترک کر←  مزید پڑھیے

کیامیں بھی اشتہاری ہوں؟۔۔عزیزخان ایڈوکیٹ

آج ایک ریٹائرڈ سیشن جج ثنااُللہ نیازی صاحب کی تحریر “اشتہاری پولیس افیسر” نظروں سے گزری تحریر پڑھنے کے بعد مجھے جج صاحب کی علمی اور قانونی قابلیت پر حیرت ہوئی ہے کہ یہ جج صاحب اس منصب پر کیسے←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط5)۔۔عزیزاللہ خان

میں اور میرے ہمراہی ملازمین جھانگڑہ جلالپور روڈ پر ایک موڑ میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے سرکاری گاڑی بھی تھوڑی دور ایک طرف چھپا کر کھڑی کی ہوئی تھی تاکہ نظر نہ آئے-موٹرسائیکلوں کی آوازیں اور روشنیاں قریب آرہی←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط4)۔۔عزیزاللہ خان

مجھے نہ دن کا چین تھا نہ رات کا سکون بس ایک ہی دھن تھی کہ خود پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کو ٹریس کرنا اور اُنہیں اس کی سزا دینا؟ اس سلسلہ میں معراج خان Asi میری بھرپور←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے (قسط3)۔۔عزیزاللہ خان

فائرنگ کی آواز سے پورے بیٹ کا دریائی علاقہ گونج رہا تھا فائرنگ کی آوازوں سے لگ رہا تھا کہ ہم پر فائرنگ کرنے والے مختلف قسم کا اسلحہ استعمال کر رہے تھےمیں نے چیخ کر فدا کو کہا ایک←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے(قسط2)۔۔عزیز اللہ خان ایڈووکیٹ

ڈڈلی حسام کے پولیس اور عوام سے مقابلے میں مارے جانے کے بعد علاقہ میں کُچھ امن ہو گیا تھا چوری چکاری بھی کم ہو گئی تھی جب بھی کسی تھانہ کے علاقہ میں کوئی بڑا جرائم پیشہ شخص پولیس←  مزید پڑھیے

جسے اللہ رکھے(قسط1)۔۔عزیز اللہ خان ایڈووکیٹ

“ڈڈلی حسام ” میں تیسری دفعہ تھانہ کوٹ سبزل تعینات ہوا تھا یہ 2005 کی بات ہے اچانک ایک پالیسی کے تحت پورے پنجاب میں انسپکٹرز کے تبادلے مختلف اضلاع میں کر دیے گئے بہاولپور رینج کے انسپکٹرز کے تبادلے←  مزید پڑھیے

وزیراعظم عمران خان متوجہ ہوں۔۔عزیزخان ایڈووکیٹ

وزیر اعظم عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ اگر وہ حکومت میں آ گئے تو اس مُلک میں کرپشن ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کو ،خاص طور پر پولیس کے محکمہ←  مزید پڑھیے

لاہور پولیس کے شہزادے؟۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

لاہور پولیس کی پنجاب پولیس میں قربانیوں کی لمبی داستان ہے دہشت گردی سب سے زیادہ دھماکے اور پولیس ملازمین پر حملے بھی لاہور میں ہوئے لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے جرائم میں←  مزید پڑھیے

قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے←  مزید پڑھیے

ڈی آئی جی کا قتل۔۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

علیم ملزم کی جوڈیشل انکوائری کے بعد ایس ایس پی اعظم جوئیہ صاحب نے میری تعیناتی تھانہ کوٹ سبزل کر دی تھی تھانہ کوٹ سبزل پر میری یہ دوسری تعیناتی تھی سابقہ دور میں میں نے جو کام کیے تھے←  مزید پڑھیے

ڈرائی ڈراؤننگ(Dry drowning)۔۔عزیز اللہ خان

اُس وقت کے ایم پی اے اور آج کے منسٹر ایم این اے خسرو بختیار سے ایک بڑی جنگ کے بعد میری پوسٹنگ تھانہ صدر رحیم یار خان ہو گئی تھی مگر میری اس پوسٹنگ سے رانا سعید انسپکٹر مرحوم←  مزید پڑھیے

انسپکٹر چوہدری صادق گجر شہید کا قتل(آخری قسط)۔۔عزیزا للہ خان

بُرے کام کا بُرا نتیجہ ایس ایس پی اعظم جوئیہ کا فون سُنتے ہی ایک دفعہ تو میں پریشان ہو گیا مگر میں اپنی پریشانی اپنے ماتحتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اب تک جتنے بھی دہشت گردی←  مزید پڑھیے

انسپکٹر چوہدری صادق شہید کاقتل (قسط3)۔۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

اور جبار پکڑا گیا ہمیں پشاور آئے تقریباً 15 دن ہو چکے تھے اب پیسے بھی ختم ہو گئے تھے میں اور امیر خان مایوس ہو چکے تھے میں نے سوچا واپس چلے جاتے ہیں۔ پھر آجائیں گے یہ بات←  مزید پڑھیے

مرغی کی تین ٹانگیں۔عزیزخان ایڈوکیٹ لاہور

میں 2003 میں ایس ایچ او تھانہ شیدانی شریف ضلع رحیم یار خان تعینات تھا،   ایک دن  پُرانا ملازم فدا حسین آیا اُس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ تھا  ،کہنے لگا ،میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں←  مزید پڑھیے

انسپکٹر صادق گُجر شہید کا قتل (قسط دوئم)۔۔عزیز اللہ خان

اب یہ بات تو کنفرم ہو چکی تھی کہ چوہدری صادق کو جبار ارائیں المعروف سندھی ، شاہسوار ، ابوبکر اور ستار ارائیں نے شہید کیا ہے مجھے صرف جبار کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ پشاور میں←  مزید پڑھیے

انسپکٹر صادق گجر شہید کا قتل(حصہ اوّل)۔۔عزیز اللہ خان

ستمبر 1997ء میں میری تعیناتی تھانہ کوٹ سمابہ تھی۔ ان دنوں لشکر جھنگوی، شیعہ فرقہ کے افراد کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کی دسترس سے کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ اب انھوں نے پولیس ملازمین کو بھی نشانہ بنانا←  مزید پڑھیے