انسپکٹر چوہدری صادق شہید کاقتل (قسط3)۔۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

اور جبار پکڑا گیا

ہمیں پشاور آئے تقریباً 15 دن ہو چکے تھے اب پیسے بھی ختم ہو گئے تھے میں اور امیر خان مایوس ہو چکے تھے میں نے سوچا واپس چلے جاتے ہیں۔ پھر آجائیں گے یہ بات میں نے ایس ایس پی صاحب کو بھی کردی مگر ایس ایس پی اعظم جوئیہ نے ہماری ہمت بندھائی اور کہا حوصلہ نہ ہاریں جبار ضرور پکڑا جائے گا اُن کا فون سُننے کے بعد ہماری مایوسی کُچھ ختم ہوئی اور حوصلہ ہوا میں اور امیر خان نیازی اُرمڑ میانہ روانہ ہوگئے راستہ بھر میں سوچتا رہا اب شاہسوار بھی گرفتار ہوچکا ہے اگر جبار نہ پکڑا گیا تو کیا مُنہ لے کر واپس جاوں گا پولیس ڈپارمنٹ میں ہمیشہ سے مقابلہ بازی چلتی ہے اُس وقت بھی میرے خیرخواہ اور مخالف دونوں گروپ موجود تھے
پورا راستہ میں خاموش رہا اور دل ہی دل میں جتنی دعائیں یاد تھیں مانگتا رہا ایک جگہ پر جہاں موبائل فون کے سنگنل ختم ہوتے تھے میں رُک گیا اور امیر خان کو کار سے اُترنے کا بولا وہ میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کار سے اُتر گیا میں نے فوری طور پر اپنے گھر احمدپور شرقیہ فون ملایا حبیب خان (بھائی) نے فون اُٹھایا تو میں نے اُسے کہا میری اماں سے بات کروائں حبیب خان بولا خیریت ہے بھائی ؟میں نے کہا بس آپ بات کروائں جیسے ہی اماں نے فون پر ہیلو کہا میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور اماں کو سلام کیا اماں کی آواز آئی جیجن (مجھے پیار سے کہتی تھیں )تم پریشان ہو ؟ میں نے کہا اماں آپ بس میرے لیے دعا کریں میرا کام ہوجائے اماں نے دعا دی اور بولیں انشااللہ ہوجائے گا اب میرے دل کو تسلی سی ہو گئی تھی فون بند کر کے امیر خان کو بلایا اور روانہ ہو گئے امیر خان بولا سر آپ کا موڈ اک دم اچھا ہو گیا ہے خیر ہے؟ میں نے کہا امیر خان آج ہمارا کام ہو جائے گا
اُرمڑ میانہ پُنہچے تو بابا علی شاہ حجرہ پر موجود نہ تھا تقریباً ایک گھنٹہ بعد بابا آیا توہمیں دیکھتے ہی اُس نے پشتو میں نعرہ لگایا مجھے سمجھ نہ آئی امیر خان بولا بابا کے پاس کوئی اچھی خبر ہے بابا علی شاہ نے بتایا کہ اُس کے بیٹے نے آج جبار پنجابی کو دیکھا ہے وہ نذر خان کے گھر سے نکلا تھا اور ساتھ والی ایک دوکان سے کھانے کے لیے گنے لیکر گیا ہے اب ایک عورت کو نذر حجام کے گھر بھجوا کر آیا ہوں جو مزید کنفرم کر دے گی کہ جبار گھر میں ہے یا نہیں ابھی تھوڑا انتظار کریں
بابا علی شاہ نے کھانا بنوایا بے چینی میں کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا تھا تھوڑی دیر بعد بابا علی شاہ کا بیٹا حجرہ میں داخل ہوا بابا اُٹھ کر اُس کے ساتھ اپنے گھر چلا گیا جو حجرہ سے ملحقہ تھا اور فوری طور پر واپس آیا بولا میری بیوی نذر حجام کے گھر سے ہو کر آئی ہے لیکن اُسے کوئی پنجابی گھر میں نظر نہیں آیا نذر کی بیوی اور نانو باہر صحن میں موجود تھیں اور کھانا بنا رہی تھیں آج ان کے گھر حلوا بھی بن رہا تھا بابا علی بولا ہم پٹھانوں کی روایت ہے جب کوئی مہمان گھر میں آئے تو حلوا ضرور بنتا ہے اب یہ خبر میں ایس ایس پی اعظم جوئیہ اور ڈی آئی جی کو دینے کے لیے بیتاب تھا مگر دل میں ایک وسوسہ بھی ضرور تھا اگر بابا کی بیوی جبار کو دیکھ کر کنفرم کر دیتی تو اچھا ہوتا اگر جبار آج رات کہیں چلا گیا تو کیا ہوگا ؟
جب پشاور روانہ ہونے لگے تو بابا علی شاہ امیر خان کو الگ لے گیا اور پشتو میں کُچھ بولتا رہا امیر خان میرے پاس آیا اور بولا بابا کہتا ہے آپ مجھے پچاس ہزار دو میں جبار کر ادھر ہی مار دیتا ہوں یہاں یہ بات میں شاید بتانا بھول گیا ہوں کہ ہم نے بابا علی شاہ کو نہیں بتایا تھا کہ ہم دونوں پولیس والے ہیں اور جبار ہمارے انسپکٹر کو شہید کر کے آیا ہے بلکہ ہم نے اُسے یہ بتایا تھا کہ جبار ہمارے ایک عزیز کو قتل کر کے آیا ہے اور ہم بدلہ لینا چاہتے ہیں میں نے امیر خان کو کہا بابا علی کو بولے ہم کل بتائےں گے وہ جبار پر نظر رکھے دوپہر کے تین بج رہے تھے ہم اُرمڑ سے روانہ ہوگئے راستے میں جونہی میرے موبائل فون کے سنگنل آئے میں نے امیر خان کو گاڑی روکنے کو کہا اور فون پر پہلے اعظم جوئیہ ایس ایس پی کو یہ خبر سُنائی جیسا کے پہلے بھی لکھ چکا ہوں جوئیہ صاحب کی تعیناتی بطور ایس پی پشاور بھی رہی تھی اور وہ kpk کے رسم و رواج کو اچھی طرح سمجھتے تھے اگر میں ڈی آئی جی کو پہلے فون کرتا تو اُنہوں نے بے عزتی کر دینی تھی کہ کنفرم کیوں نہیں کیا؟ حلوے والی بات سُنتے ہی ایس ایس پی جوئیہ صاحب زور سے بولے “عزیز بندہ سو فیصد گھر ہے اور آج رات اس کے گھر پر ریڈ کرنا ہے بس تم انتظار کرو “فون بند کر کے میں اور امیر خان پشاور روانہ ہوگئے اب ہمیں جوئیہ صاحب کے فون کا انتظار تھا
رات کو تقریباً دس بجے ایس ایس پی جوئیہ صاحب کی کال آئی اور مجھے بولے عزیز میری بات دھیان سے سُنو آئی جی صاحب صوبہ سرحد( KPK) سے آئی جی پنجاب کی بات ہوگئی ہے چیف منسٹر پنجاب نے بھی بات کی ہے آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی آپ نے پشاور پولیس کے ساتھ ملکر ریڈ کرنا ہے بس خیال رکھنا ہے جبار نکلنے نہ پائے پشاور پولیس کو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ اُرمڑ میانہ سے ملزم پکڑنا ہے باقی نام اور گھر کا آپ نے بتانا ہے رات 12 بجے آپ نے اُرمڑ تھانہ رپورٹ کرنی ہے تھانہ والوں کو بھی کُچھ نہیں پتہ ساری نفری پشاور سے جائے گی ایک ڈبل کیب گاڑی بھی ڈی آئی جی صاحب نے چار جوانوں کے ساتھ بہاولپور سے پشاور بھجوا دی ہے جو کل صُبح تک پُنہچ جائے گی یہ ریڈ خطرناک بھی ہو سکتا ہے اپنا خیال رکھنا اور فون بند ہوگیا میں نے امیر خان کو جو دوسرے کمرہ میں تھا فون کے بارے میں بتایا اور تیار ہونے کا کہہ کر اپنے کمرہ میں آگیا
ہمارے پاس کوئی اسلحہ تو تھا نہیں بس اللہ کے سہارے رات کو اُرمڑ روانہ ہوگئے نذر حجام کا گھر ہم دونوں نے دیکھا ہوا تھا اس لیے ہم نے بابا علی شاہ کو ریڈ کے متعلق کُچھ نہ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا ہمیں اُرمڑ میانہ آتے جاتے تقریباً پندرہ دن ہو گئے تھے ہم نے تھانہ کی بلڈنگ بھی دیکھی ہوئی تھی اس لیے تھانہ تک پُنہچنے میں ہمیں کوئی دقت نہیں ہوئی رات کے بارہ بج چکے تھے تھانہ ایک پُرانی آسیب زدہ عمارت میں تھا تھانہ پر ایس ایچ او ہمارا انتظار کر رہا تھا میں اور امیر خان اُس کے کمرہ میں بیٹھ گیے سلام دعا کے بعد ایس ایچ او نے پوچھنے کی کوشش کی کہ کہاں ریڈ کرنا ہے تو میں بات گول کرگیا مجھے صاف محسوس ہوا کہ میرے نہ بتانے پر ایس ایچ او نے محسوس کیا ہے مگر میں کوئی بھی ایسا موقع نہیں دینا چاہتا تھا جس سے جبار مشکوک ہو جائے
ایس ایچ او نے ہمیں تھانہ کے ساتھ اپنے رہائشی کمرہ میں بھجوا دیا اور بولا پشاور سے نفری رات دو بجے پُنہچے گی اتنی دیر آپ آرام کر لیں کھانے کا بھی پوچھا مگر میں نے انکار کردیا رات کو تقریباً دو بجے پولیس کی نفری تھانہ اُرمڑ میانہ پُہنچ گئی
جس کے ساتھ ایک انسپکٹر تھا جس نے بتایا کہ تقریباً سو مسلحہ جوان اُس کے ساتھ ہیں ایس ایچ او کے رہائشی کمرہ میں ہی ہم نے میٹنگ کی میں نے اُنہیں جبار سندھی کے بارے میں بتایا اور نذر حجام کے بارے میں بھی بتایا انسپکٹر شیر خان اور ایس ایچ او نے نذر کے گھر کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے امیر خان کو کہا ان کے ساتھ جاکر گھر دیکھا دے امیرخان اُن دونوں کے ساتھ گھر دیکھانے چلا گیا اور میں ایس ایچ او کے کمرہ میں بیٹھا رہا ایک گھنٹہ بعد ایس ایچ او انسپکٹر شیر خان اور امیرخان واپس آگئے نذر خان کا گھر دیکھ لیا گیا تھا کیونکہ یہ گھر گاوں کے وسط میں تھا اس لیے پلانگ کی ضرورت تھی تاکہ جبار بھاگ نہ سکے
اکتوبر شروع ہو چُکا تھا رات کو خاصی خنکی تھی انسپکٹر شیرخان نے دو سب انسپکٹر ایس ایچ او کے رہائشی کمرہ میں بلوا لیے جو اُرمڑ میانہ کے علاقہ کو جانتے تھے پورے علاقہ اور گھر کا نقشہ بنایا گیا مجھے اور امیر خان کو ہدایت کی گی کہ دوران ریڈ آپ اُردو نہیں بولیں گے اور خاموش رہیں گے تمام نفری کو بھی یہی بتایا جائے گا کہ یہ ریڈ گاوں سے کلاشنکوف کی برامدگی کے لیے کیے جا رہے ہیں اُن دنوں پولیس کلاشنکوف کی برامدگی کے لیے روٹین میں ان علاقوں پر ریڈ کیا کرتی تھی
میں پہلے بھی لکھ چُکا ہوں اُرمڑ کے گاوں میں شدید دشمنیاں پائی جاتی تھیں اور ہر گھر کے کمروں سے اُوپر چھت تک سیڑھی اور چھت پر مورچہ ضرور ہوتا تھا ڈر یہ تھا کہ اگر یہ معلوم ہو گیا کہ پولیس نذد کے بہنوئی جبار کو جو ایک مہمان ہے کو پکڑنے آئی ہے تو یہ خطرناک بھی ہو سکتا تھا کیونکہ پٹھان مہمانوں کے کی بُہت عزت کرتے ہیں
تمام نفری ریڈ کے لیے تیار تھی جتنا ڈسپلن میں نے صوبہ سرحد کی پولیس ملازمین میں دیکھا وہ پھر آج تک نہیں دیکھ سکا پانچ بجنے والے تھے تمام ملازمین نے دو رکعت نماز نفل پڑھے اور اس کے بعد اللہ سے کامیابی کی دعا کرائی گئی ملازمین کو پشتو میں بریفنگ دی گئی اور ہم ریڈ کے لیے روانہ ہو گئے ہر گاڑی پر ایک سیڑھی موجود تھی تاکہ چھتوں کو کور کیا جا سکے اسی طرح بیرونی گھیرا (آوٹر کارڈن) اور اندرونی گھیرا (انر کارڈن) کے لیے علحدہ ٹیمیں بنائی گئی تھیں گھر کے اندر انسپکٹر شیر خان میں امیر خان اور انسپکٹر کے ساتھ آئے کُچھ جوان جو انتہائی پھُرتیلے تھے نے داخل ہونا تھا جب تمام ملازمین نے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لی تو وائرلس پر اوکے کی رپورٹ دی گئی اُسی وقت کہیں دور سے فجر کی آذان سُنائی دی تو ہمارے ساتھ آئےجوانوں نے دیوار سے سیڑھی لگائی اور نذر پٹھان کے گھر اندر داخل ہو کر دروازہ کھول دیا
گھر کے اندر ترتیب میں سیدھے صرف دو کمرے تھے گھر کا صحن کافی بڑا تھا کمروں کو جوانوں نے گھیرا ڈال لیا میں اور امیر خان خاموشی سے ساتھ تھے پہلے کمرے کے کواڑ کو انسپکٹر شیر خان نے ہاتھ لگایا تو اندر سے بند نہیں تھا اور کھُلا ہوا تھا اندر ایک مرد عورت اور دو بچے سوئے ہوئے تھے جن کو پشتو کہا گیا کہ گھر میں کلاشنکوف تلاش کرنی ہے کمرہ میں موجود مرد اور عورت نے کوئی شور نہیں کیا اور خاموش رہے تلاشی لی گئی کُچھ نہ ملنے پر انسپکٹر نے عورت کو ساتھ والے کمرہ کا دروازہ کھلوانے کا کہا عورت ہمارے ساتھ باہر آئی اور کمرہ کے دروازے پر دستک دی تھوڑی دیر بعد اندر سے کسی مرد کی آواز آئی کون؟ عورت پشتو میں کُچھ بولی مجھے صرف نذر کا نام سمجھ میں آیا لگتا ایسے تھا جیسے بولا ہو میں نذر کی بیوی ہوں دروازہ کھولو
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ اللہ کرے اندر سے آواز دینے والا جبار ہی ہو کوئی اور نہ نکلے ورنہ ساری محنت رائیگاں جائے گی دروازہ کھُلا تو انسپیکٹر شیر خان فوری اندر داخل ہو گیا کمرہ میں لمبے قد کا ایک جوان کھڑا تھا جس نے شلوار کے اُپر صرف بنیان پہنی ہوئی تھی ساتھ پڑے پلنگ پر ایک لڑکی سوئی ہوئی تھی جو یقیناً نانو تھی کمرہ کی تلاشی لی گئی تو کُچھ نہ ملا نذر خان نے بتایا یہ اُس کا بہنوئی ہے اس سے پہلے میں نے جبار کو نہیں دیکھا ہوا تھا صرف اُس کی ایک پُرانی تصویر جو چوہدری صادق نے جبار کے ہسٹی شیٹ پر لگائی تھی دیکھی ہوئی تھی جو شاید کافی پُرانی تھی اور واضح نہ تھی تصویر اور کمرہ میں موجود شخص کے شکل صورت میں اور تصویر میں مجھے زیادہ مشابہت نظر نہیں آرہی تھی مگر میرا دل کہہ رہا تھا یہی جبار ہے کیونکہ مجھے بولنے سے روکا گیا تھا اس لیے میں نے جبار سے کوئی سوال نہ کیا انسپیکٹر نے ٹارچ کی روشنی میں میری طرف دیکھا تو میں نے اسے ساتھ لے چلنے کا اشارہ کیا لڑکی زور زور سے چیخنے لگی تو اُسے چُپ کرادیا گیا نذر خان کو شیرخان بولا ہم نے صرف اس کا ریکارڈ دیکھنا ہے اور صُبح چھوڑ دیں گے جبار کو اُس کی بیوی نے قمیض دی اور ملازمین نے اُسے سرکاری گاڑی میں بیٹھا دیا میں انسپکٹر شیر خان کے ساتھ بیٹھ گیا امیرخان کو میں نے اشارا کیا کہ ملازمین کے ساتھ پیچھے بیٹھ جائے جہاں جبار کو بیٹھایا گیا تھا
تھانہ پر پُنہچنے تو روشی ہو چکی تھی جبار کو تھانہ کے اندر لایا گیا تو وہ مطمعن تھا اُس کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ پنجاب پولیس اُرمڑ بھی پُنہچ سکتی ہے
جیسے ہی جبار کو ایس ایچ او کے کمرہ میں لایا گیا کمرہ میں آتے ہی میں نے جبار سے پوچھا تمہارا نام جبار ہے ؟ جبار نے مجھے جواب دیا میرا نام جبار نہیں شاہد ہے مجھے اُس کے چہرے پر پریشانی کے کُچھ آثار نظر آئے میں نے جبار کے کندھے پر ہاتھ رکھا پھر بولا جبار میرا نام عزیزاللہ خان ہے اور میں رحیم یار خان سے آیا ہوں تُم ہی جبارسندھی ہو ؟ تم اپنے کتنے نام رکھ لو اب تُم پکڑے گئے ہو جبار نے غور سے میرے چہرے کی طرف دیکھا جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو پھر مجھے اُس کے جسم میں کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی مگر وہ خاموش رہا مجھے ایسا لگا جیسے جبار کے چہرہ پر مرُدنی چھا گئی ہو مجھے پورا یقین ہو گیا کہ یہی جبار ہے تو میں نے خوشی کے مارے امیر خان کو گلے سے لگا لیا اتنی دیر میں نذر خان بھی کُچھ گاوں والوں کو لے کر تھانہ پر آگیا تھا اُنہیں جب بتایا گیا کہ اس کا نام جبار ہے لیکن وہ ماننے کو تیار نہ تھا کیونکہ جبار نے اُرمڑ میں اپنا نام شاہد بتایا ہوا تھا اور اسی نام کا شناختی کارڈ بھی بنوایا ہوا تھا ایس ایچ او کے سمجھانے پر کہ یہ بندہ پنجاب پولیس کو مطلوب ہے وہ لوگ واپس چلے گئے شیر خان انسپکٹر نے فوری طور پر جبار کو ہتھکڑی لگائی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور سرکاری گاڑی میں بیٹھانےُکو بولا اور ہمیں بھی فوری پشاور روانہ ہو نے کا کہا تاکہ گاوں والے کوئی شرارت نہ کریں میں نے امیرخان کو جبار کے ساتھ سرکاری ڈالا میں بیٹھایا خود اپنی کار میں بیٹھ گیا اور ہم سب پشاور روانہ ہوگئے مجھے جیسے ہی موبائل کے سنگنلز ملے میں نے فوری ایس ایس پی جوئیہ صاحب کو فون کیا وہ میرے فون کا انتظار کر رہے تھے میں نے اُنہیں مبارک باد دی ساری کہانی سُنائی ایس ایس پی جوئیہ صاحب بُہت خوش تھے مجھے شاباش دی ابھی ہماری گاڑیاں پشاور نہیں پُنہچی تھیں کہ ڈی آئی جی ملک اشرف کا مجھے میرے موبائل نمبر پر فون آیا خود بول رہے تھے جبکہ عام حالات میں پہلے آپریٹر بولتا ہے ملک صاحب بہُت خوش تھے بولے “بچڑا ” شاباش آپ نے بہاولپور پولیس کا نام روشن کر دیا ہے سرکاری ڈبل کیب ڈالا پشاور پُنہچنے والا ہوگا بڑے خیال سے ملزم کو لے کر آنا ہے کوئی مثلہ نہ ہو میں نے اُنہیں یقین دلایا کہ انشااللہ آپ کے اعتماد پر پورا اُتروں گا
پشاور پولیس لائن پُنہچے تو صُبح کے آٹھ بج چکے تھے لاہور کے ایک سرکاری نمبر سے کال آئی آپریٹر بول رہا تھا کہ آئی جی پنجاب جہانزیب برکی بات کرنا چاہتے ہیں آئی جی صاحب نے میرے موبائل نمبر پر مجھ سے بات کی اور شاباش دی (بعد میں اسی موبائل کی انکوائیری بھی ہوئی کہ ایک انسپکٹر نے موبائل فون رکھا ہوا ہے)
ایس ایس پی جوئیہ صاحب کی بار بار کالز آرہی تھیں مجھے اُن کی کالز سے حوصلہ ملتا تھا سرکاری ڈبل کیب ڈالا BR1818 بھی پُہچ چکا تھا اب مجھے فوری طور پر پشاور سے نکلنا تھا ڈالا کی پچھلی سیٹ پر جبار کو بیٹھایا اُس کو اُلٹی ہتھکڑی لگا دی اور آنکھوں پر پٹی باندھی دونوں طرف پولیس کے جوان بیٹھائے جو بہاولپور سے آئے تھے دو جوان پیچھلی سیٹوں پر باہر بیٹھائے میں اگلی سیٹ پر بیٹھا شیر خان انسپکٹر کا شُکریہ ادا کیا اور بہاولپور روانہ ہو گئے ساجد بلوچ کی کار امیر خان چلا رہا تھا پہلے راولپنڈی ساجد کو کار دینی تھی اور پھر آگے نکلنا تھا راولپنڈی پرل کانٹیننٹل ہوٹل پُنہچ کر ساجد کو کار واپس کی اور اُس کا شکریہ ادا کیا وہ بھی پریشان تھا جب اُسے بتایا کہ سرکاری ڈالا میں دہشت گرد ہے تو وہ اور پریشان ہوگیا
راولپنڈی سے امیر خان بھی سرکاری ڈالا میں آگیا اور جبار کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا میں نے امیر خان کو کہا اس کی آنکھوں سے پٹی کھول دے اُس نے ایسا ہی کیا میں نے جبار سے پوچھا کہ چوہدری صادق کو کیوں اور کیسے قتل کیا ؟ لشکر جھنگوی کے جتنے بھی کارکنوں سے میں نے تفتیش کی ہے ان سب میں ایک بات ضرور مشترک ہے کہ یہ جھوٹ نہیں بولتے جو اور جتنا پوچھا جائے اُتنا ہی بتاتے ہیں گالی برداشت نہیں کرتے جبار جرائم پیشہ تھا اور لشکر جھنگوی میں صرف وارداتیں کرنے کے لیے شامل ہوا تھا یہ صرف شاہسوار کے گروپ میں شامل تھا جبکہ ملک اسحاق اس کو اچھا نہیں سمجھتا تھا جبار فر فر بولنا شروع ہو گیا یہ بھی بتایا کہ وہ صادق گجر کو قتل کرنے کے خلاف تھا مگر شاہسوار ہر صورت میں یہ قتل کرنا چاہتا تھا کیونکہ صادق گجر نے اُس کی ماں کی بے عزتی کی تھی ہم رحیم یارخان میں بھی تھانہ صدر صادق گجر کو مارنے گئے تھے مگر ہمیں موقع نہ مل سکا کیونکہ وہاں شاہسوار کو سب لوگ جانتے تھے بہاولپور تبادلے کے بعد ہمارے لیے صادق گجر کو قتل کرنا آسان ہو گیا تھا ہم نے ایک رہڑی کرایہ پر لی اور مکئی کے بھٹہ بیچنے کے ساتھ ساتھ اُس کی نگرانی کرتے رہے کہ وہ کہاں رہتا ہے کب آتا ہے کب واپس جاتا ہے ہمارے لیے گھر سے نکلتے وقت مارنا زیادہ آسان تھا کیونکہ اس علاقہ میں اتنا رش نہیں ہوتا تھا پھر وقوعہ کے روز جیسے ہی چوہدری صادق کا سرکاری ڈالا نظر آیا ہم نے رہڑی آگے لگا دی گاڑی رکنے پر شاہسوار نے صادق گُجر پر کلاشنکوف سے برسٹ مارا میں نے بھی پیچھے بیٹھے ملازمین کو چھٹا مارا (چھٹا میرے لیے بلکل نیا لفظ تھا جرائم پیشہ لوگ کلاشنکوف کی فائرنگ کو چھٹا کہتے ہیں ) چویدری صادق نے اپنا پسٹل نکالنے کی کوشش کی مگر شاہسوار نے گالی دیتے ہوئے ایک اور برسٹ مارا اور پسٹل اُٹھا لیا جب ہمیں یقین ہوگیا کہ سب مر چکے ہیں تو ہم وہاں سے پروگرام کے مطابق الگ ہوگئے میرے سات اس واردات میں ابوبکر عرف ضرار بھی تھا
چوہدری صادق کے بے دردی سے قتل کا سن کر میں اور گاڑی میں بیٹھے بقیہ افراد بھی افسردا ہو گئے
ہم گوجرانوالہ کے قریب پُنہچ گئے تھے کہ اچانک ایس ایس پی جوئیہ صاحب کا فون آگیا میں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا اور فون سُننے کے لیے نیچے اُتر گیا بولے کہاں پُنہچے ہو میں نے گوجرانولہ کا بتایا تو بولے آپ نے سیدھا بہاولپور نہیں آنا جبار کی بیوی نے اُس کے ورثا کو ٹیلی فون کر دیا ہے اور ورثا نے لشکر جھنگوی کے لوگوں سے رابطہ کیا ہے اُن کی کال ریکارڈ ہوئی ہے ہو سکتا ہے اس کو راستے میں چھڑوانے کی کوشش کی جائے اب تم جبار کو لیکر قصور پُنہچو کیونکہ آپ کے ساتھ کم ملازمین ہیں رات قصور رکنا ہے دوگاڑیاں بہاولپور سے بھجوا دی گئی ہیں وہ آپ کو حفاظت سے بہاولپور لائیں گی ایس ایس پی صاحب کا فون سُن کر میں نے ڈرائیور کو قصور چلنے کا بولا پیچھے بیٹھے ملازمین کو بھی ہوشیار ہو کر بیٹھنے کا کہا اب ہمیں قصور جانا تھا اور راستے میں کُچھ بھی ہو سکتا تھا؟
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *