محبت ایک ‘ اور عنوان ہزاروں۔۔عاصمہ حسن

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ‘ شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق ‘ یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان نہیں کی جا سکی جو بتا سکے کہ آخر محبت ہے کیا؟

جہاں محبت ایک خوبصورت لفظ ہے وہاں محبت نام ہے احساسات کا ،جذبوں کا ،قربانی کا ایثار کا ـ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اس کا برا نہیں سوچ سکتے اس شخص کو دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتے ہیں اپنا آپ بھول جاتے ہیں بس یاد رہتا ہے تو وہ جس سے ہمیں محبت ہوتی ہے۔

یوں تو محبت کے بہت سارے روپ ہیں جیسے اللّٰہ کی اپنے رسولؐ سے محبت جس کے لئے ساری کائنات تخلیق کی گئی پھر رسولؐ کی اپنی امت سے محبت جن کی بخشش کے لئے رو رو کر دعائیں مانگی گئیں ‘ اللّٰہ کی اپنے بندوں سے محبت ‘ جو ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے جو ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا نہیں دیتا بس نوازتا چلا جاتا ہے ـ جس نے ہمارے لئے بہتر فیصلے کئے ہوتے ہیں اور کبھی ناانصافی نہیں کرتا کبھی احسان نہیں جتاتا ـ پھر ماں باپ سے محبت’ بہن بھائیوں کی محبت ‘میاں بیوی کی محبت’ اولاد سے محبت’ اپنے پیارے رشتوں سے محبت۔۔ـ
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سبھی رشتے اور محبت کے سبھی رنگ بہت دلکش و دلنشیں ہیں۔

ـہم محبت سے آگے کی منزل کو عشق کہتے ہیں اب عشق کے بھی دو مقام ہیں ـ ایک عشقِ حقیقی کہلاتا ہے اور دوسرا عشقِ مجازی ،ـ آسان الفاظ میں عشقِ مجازی میں رقابت آجاتی ہے جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ بس وہ ہمارا ہو اس کی محبت میں شراکت برداشت نہیں ہوتی ـ لیکن عشقِ حقیقی میں ایسا نہیں ہوتا اس میں رقابت کا پہلو نہیں آتا۔

جب ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تو ہمارا نفس بہت پیچھے رہ جاتا ہے ـ دنیا اور دنیا داری ‘ پھر دنیاوی خواہشات ہمارے لئے معنی نہیں رکھتی ـں  کیونکہ ہمارا رب ہی اول و آخر ہوتا ہے ‘ اسکی رضا میں ہماری رضا ـ پھر کوئی بھی مسئلہ ہو ‘ پریشانی ہو’ آفت یا مصیبت ہو ہم پریشان نہیں ہوتے کیونکہ ہمارا یہ ایمان ہوتا ہے کہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے وہ بہتر جانتا ہے ـ وہ کبھی اپنے بندے کا برا نہیں سوچ سکتا ـ جب ہم اللّٰہ سے محبت کرتے ہیں تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ہم اس سے لا شعوری طور پرباتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں’ گڑگڑاتے ہیں’ معافی مانگتے ہیں ‘ آنسو بہاتے ہیں اور ضد بھی کرتے ہیں اور وہ ذات کبھی ہمیں مایوس نہیں لوٹاتی ہمارے گناہوں کی سزا نہیں دیتی ہمیشہ ہماری سوچ سے بڑھ کر نوازتی ہے ـ جب ہم اللّٰہ سے محبت کرتے ہیں تو اس کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں اس کی بندگی میں خوشی و سکون محسوس کرتے ہیں۔

دوسری طرف محبت ہے انسانوں سے جو ہمیں ہمارے رب سے دور کر دیتی ہے جب عشقِ مجازی ہوتا ہے تو ہم اپنا آپ بھول جاتے ہیں ایک سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ناامیدی کے صحرا میں بھٹکتے رہتے ہیں خود کو اس چاہت میں فنا کر دیتے ہیں لیکن اس عشق سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اسے عشقِ لا حاصل کہا جا سکتا ہے ـ

اب عشقِ حاصل اور لاحاصل میں جنگ چلتی ہے ـ جو حاصل ہو جائے اُس سے عشق نہیں ہوتا یا اس کی چاہت نہیں ہوتی جو حاصل نہ ہو بس اسی کی چاہت ہوتی ہے اور یہ چاہت کہیں کا نہیں چھوڑتی ـ
یہ حقیقت ہے کہ اگر ہمیں ہماری ہر چاہت آرام سے بغیر تگ و دو کے مل جائے تو یکسانیت ہو جائے گی زندگی کا سفر رک سا جائے گا ہمیں اللّٰہ بھول جائے گا ـ جب ہم اپنی چاہت کے پیچھے بھاگتے ہیں تب وہ تو نہیں ملتی لیکن اللّٰہ مل جاتا ہے جو کہ اصل حاصل ہے ـ

لیکن ہم انسانوں کے بس میں کچھ نہیں ہوتا ہمارے جیسا بے بس کوئی نہیں ہوتا ـ سب اللّٰہ کی طرف سے ہوتا ہے وہی عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کے لیے اپنی بندوں کو چنتا ہے ـ محبت شروع تو مجازی سے ہوتی ہے جو صحرا صحرا بھٹکتی ہے’ ان دیکھے سائے کے پیچھے بھٹکتی ہے ‘روتی ہے تڑپتی ہے رسوا و خوار ہوتی ہے بھاگتے بھاگتے تھک جاتی ہے تب اللّٰہ اس بندے کو اپنے قریب کر لیتا ہے اپنی آغوش میں لے لیتا ہے’ پھر وہ شخص دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اسے اب فرق نہیں پڑتا مجازی محبت ملے یا نہ ملے اُسے تو اپنے رب کا قرب حاصل ہو جاتا ہے اور یہ محبت اسے امر کر دیتی ہے ـ
عشقِ مجازی منزل کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے اصل منزل تو عشقِ حقیقی ہے جس کے لئے اسے چُنا جاتا ہے ـ
محبت کا کوئی بھی روپ ہو ہمارے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آتا ہے کچھ اپنی منزل سے بھٹک جاتے ہیں اور کچھ اپنی منزل کو پا کر امر ہو جاتے ہیں ـ
محبت تو بس ایک احساس ہے
محبت تو اک خوبصورت ہے جذبہ
محبت میں منت سماجت نہیں
محبت میں مانگی نہیں جاتی بھیک
محبت میں ہوتی نہیں شرط کوئی
محبت تو بس ہے محبت میری جاں
محبت بنا سوچے ہو جاتی ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *