جنرل (ر) عبدالمجید ملک کی کتاب ایک نظر میں۔۔۔راجہ قاسم محمود

جنرل عبد المجید ملک مرحوم ضلع چکوال کی ایک اہم شخصیت رہی ہیں۔ ان کی داستان حیات سنگ میل پبلشر کے تعاون سے شائع ہو چکی ہے۔
جنرل صاحب 1919 میں چکوال کے ایک گاؤں جند ساؤ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد حوالدار میجر تھے جنہوں نے جنگ عظیم اول میں بھی حصہ لیا تھا۔
کتاب کا پہلا باب ابتدائی زندگی کے متعلق ہیں جس میں سب سے ایک اہم بات جنرل صاحب کا 1937 میں اپنے گاؤں سے پیدل چل کر غازی مرید حسین شہید کا جنازہ پڑھنے گئے۔جنرل صاحب کہتے ہیں غازی مرید حسین کا جنازہ آج بھی ان کی نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ان کی وسیع میدان میں میں طلائی کی عقیدت مندوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر اس عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی میت کا دیدار کرنے کے لیے امڈ آیا جنرل صاحب کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں بہت سے جنازوں میں شرکت کی مگر لوگوں کی جو والہانہ عقیدت اس جنازے میں نظر آئی وہ صرف ایک مرتبہ نصیب ہوئی۔
چکوال کی معروف سماجی اور سیاسی شخصیت خان سرفراز خان کے بارے میں جنرل صاحب نے لکھا ہے کہ وہ نہایت وضع دار اس شخص تھے جو مغربی لباس میں ملبوس رہتے اور سر پر رکھتے تھے گورنمنٹ کالج چکوال کے لیے زمین خان سرفراز خان نے ہی عطیہ کی تھی۔پنجاب کے موجودہ وزیر تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز انہیں خان سرفراز خان کے پوتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جنرل صاحب نے اس باب میں اس دور کی سادگی کا ذکر کیا ہے کہ اور ساتھ ہی برداشت کا عنصر بہت زیادہ تھا۔اگرچہ ہمارا علاقہ مسلم اکثریتی تھا مگر ہر گاؤں میں دو تین ہندو اور سکھوں کے گھر ضرور تھے۔ہندوؤں اور سکھوں نے تجارت پر اجارہ داری حاصل کر رکھی تھی اور مسلمان اکثر اوقات ان کے مقروض اور مرہونِ احسان ہی رہتے تھے کسی بھی گاؤں میں ان غیر مسلموں کے گھر معاشی طور پر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

1939 میں انگریز ریکروٹنگ آفیسر کی زیر نگرانی جہلم میں فوج میں بھارتی ہوئے۔بقول جنرل صاحب انھوں نے محض تفریح کی خاطر دیگر دو دوستوں کے ہمراہ قمیضیں اتاریں اور لائن میں کھڑے ہوئے جس پر جنرل صاحب اور ان کے ایک دوست کو بہتر قدوقامت اور جسامت کی وجہ
سے بھرتی کر لیا گیا۔

جب جنرل صاف فوج میں بھرتی ہوئے تو کہتے ہیں کہ کئی دوستوں کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہوئے جن میں راجہ لہراسب خان قابل ذکر ہیں اور راجہ لہراسب خان سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے والد تھے ملک صاحب کہتے ہیں راجہ لہراسب اور وہ متعدد بار ایک دوسرے کے گھر جاکر کرتے رہے۔یوں ہی جنرل صاحب نے انڈین آرمی جو کہ برٹش آرمی کے زیرانتظام تھی کی طرف سے دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا اور شروع میں جاپانی فوج سے جب انڈین آرمی نے شکست کھائی تو ملک صاحب بھی کلکتہ میں تعینات تھے پھر اگست 1944 میں ملائشیا اور سنگاپور کو فتح کرنے کے لئے ایک فوج تشکیل دی گئی اس میں ان کے ساتھ اس وقت کیپٹن غلام جیلانی جو بعد میں ان جنرل اور گورنرپنجاب ہوئے عبدالمجید ملک صاحب کے ساتھ تھے۔
کلکتہ میں 1946 میں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔امن وامان کے قیام کے لیے ہندو مسلم قیادت نے مل کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔مسلمانوں کی طرف سے سہروردی صاحب اور ہندوؤں کی طرف سے گاندھی اس مقصد کے لیے کلکتہ پہنچے۔ فیصلہ کیا گیا کہ سہروردی صاحب کی حفاظت ہندو فوجی دستہ سرانجام دے گا جبکہ گاندھی جی کی حفاظت مسلمان دستہ کرے گا۔یوں گاندھی کی حفاظت کے لیے مسلمان فوجی دستے کے انچارج ملک صاحب تھے۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے ان دنوں گاندھی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ان کے پیروکار مرد و زن اور ہر طبقے کے ہندو ان سے ملنے آتے تھے۔گاندھی کی خدمت کاری کے لئے زیادہ تر خوبرو نوجوان لڑکیاں معمور تھی ملک صاحب کہتے ہیں ہم لوگ جس روز کلکتہ سے واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو گاندھی نے مجھے خصوصی طور پر اپنے پاس بلایا اور سکیورٹی کے انتظامات طور پر سرانجام دینے پر شکریہ ادا کیا۔

تقسیم ہند کے حوالے سے جنرل صاحب کہتے ہیں کہ قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ شروع میں متحدہ ہندوستان کے حامی مگر بعد کے حالات و واقعات نے ان کو مجبور کردیا کہ وہ الگ وطن کا مطالبہ کریں۔
مصنف تیرہ اور چودہ اگست 1947 کی رات کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ان سحر انگیز لمحات کو کبھی نہیں بھول سکتے اس وقت رانچی بھارتی پنجاب میں موجود تھے جیسے ہی تقسیم کا اعلان ہوا تو ان کے ساتھ 400 کے قریب مسلمان تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے جھنڈے کے ساتھ ایک سفید پٹی باندھ کر پاکستانی پرچم تیار کیا اور اسے سلامی دی۔تقسیم ہند کے وقت افواج کی تقسیم کا یہ اصولی فیصلہ ہوا تھا کہ ہندو اور سکھ فوجی بھارتی فوج میں اور مسلمان پاکستان کی فوج میں جائیں گے تاہم کوئی شخص اگر اپنی مرضی سے دوسرے ملک کی فوج میں رہنا چاہیے تو اس پر کوئی قدغن نہیں ہوگی۔
اس کے بعد تقسیم کے دوران کی گئی ہجرت کے مناظر مصنف نے بیان کیے ہیں کیسے خچروں،گدھوں بیل گاڑیوں اور دوسرے بار بردار جانوروں پر سامان لادے ہوئے یقینی اور تھکاوٹ کی کیفیت میں مبتلا لوگ رواں دواں تھے۔
تقسیم کے وقت جنرل صاحب کہتے ہیں کہ قادیانی فرقے کے لوگ جب قادیان سے اپنا مرکز ربوہ میں منتقل کررہے تھے تو قادیانی مہاجرین کی حفاظت کا ذمہ ان کو دیا گیا تھا مصنف کہتے ہیں کہ قادیانی اس وقت بھی مالی لحاظ سے مستکم تھے۔اس دوران قادیان میں انتظامات کے سربراہ نے انھیں قادیانیت قبول کرنے کی دعوت دی جس کے ساتھ مالی فوائد شامل تھے مگر مصنف نے معذرت کر لی کہ وہ علماء صوفیاء و مشائخ سے گہری عقیدت اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر کامل یقین رکھتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد مصنف بتاتے ہیں کہ قائد اعظم رحمت اللہ علیہ نے کاکول اکیڈمی کا دورہ کرنا تھا جو اکتوبر 1948 کو طے تھا۔اس کی تیاری شروع تھی اور اس دوران قائد رحمۃ اللہ علیہ کے عادات و اوصاف کا ان کے دونوں اے ڈی سی کے ذریعے پتہ چلا۔قائد رح کی زندگی پابندی وقت،نفاست،ترتیب اور سلیقہ،مطالعہ اور ڈسپلن کا ایک نمونہ تھی۔یہ اے ڈی سی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کاکول آتے تھے مگر بدقسمتی سے تقریب سے ایک ماہ پہلے قائد اعظم رح انتقال کر گئے۔ان کی جگہ اس وقت کے ۔گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے مقررہ وقت پر دورہ کیا۔خواجہ صاحب کے بارے میں مصنف کہتے ہیں کہ ایک شریف النفس اور نیک انسان تھے۔
اس کے بعد مصنف نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے اور کئی دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ محض چھوٹی سے واقعے کے اثرات کتنے دور رس ثابت ہوئے۔جیسے کہ
جنرل اکبر کا آرمی چیف کی پیشکش ہونے کے باوجود انکار کر دینا۔پھر ان کے بھائی جنرل افتخار خان آرمی چیف نامزد ہوئے مگر اس دوران ٹریننگ کے دوران ان کے جہاز کو حادثہ پیش آیا اور وہ شہید ہو گئے۔اس کے بعد جنرل ایوب خان کمانڈر انچیف بنے جن کی پنجاب باونڈری کمیشن میں بری کارکردگی پر لیاقت علی خان پسند نہیں کرتے تھے مگر سکندر مرزا نے کمال ہوشیاری سے ایوب خان کو لیاقت علی خان کی گڈ بکس میں لانے کی کوشش کی۔پھر بعد میں غلام محمد نے ایوب خان کو وزیر دفاع بنا کر اس کی پوزیشن اور مستحکم کردی۔
پہلا مارشل لاء کا طریقے سے لگایا گیا اور فوجی جنتا نے کس قدر رازداری اور پلاننگ سے اقتدار پر قبضہ کیا جس میں صدر مملکت سکندر مرزا کی اعانت شامل تھی ایک دلچسپ داستان ہے۔
پھر سکندر مرزا کو کیسے راستے سے ہٹایا گیا مصنف ان واقعات کے عینی شاہد ہونے کے ساتھ ساتھ کسی حد تک اس کا کردار بھی ہیں کیونکہ مارشل لاء نافذ کرنے کے لیے ضروری دستاویزات کی تیاری میں مصنف نے بطور کاتب حصہ لیا۔
انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کرنے والے دو اہم فرد جنرل اختر ملک اور ذوالفقار علی بھٹو تھے شروع میں ایوب اس منصوبے کے حق میں نہیں تھے ان کو خدشہ تھا کہ کہیں اس صورت پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے مگر ان کو باور کرایا گیا کہ بھارت بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا۔
مصنف کے بقول آپریشن جبرالٹر کی فوجی نقطہء نظر سے انتہائی ناقص منصوبہ بندی کی گئی اور اس کے لیے باقاعدہ ہوم ورک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ آپریشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اس کے بعد آپریشن گرینڈ سلام لانچ کیا گیا جس کو جنرل اختر ملک لیڈ کر رہے تھے اس آپریشن میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل ہو رہی تھیں کہ اس کی کمان تبدیل کر دی گئی اور جنرل یحیٰی خان کو کو قیادت سونپی گئی۔اس دوران 48 گھنٹے کی تاخیر نے بھارت کو سنبھلنے کا موقع دیا جس کا انھوں نے فائدہ اٹھایا۔اگر جنرل اختر ملک کو تبدیل نہ کیا جاتا تو نقشہ مختلف ہوتا۔
جنرل اختر ملک کو تبدیل کرنے کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ ایوب خان جنرل اختر ملک کی عوامی حلقوں میں مقبولیت سے خائف ہو گئے تھے جو کہ ان کے لئے آگے مشکلات کا باعث بن سکتی تھی۔اس جنگ کا یہ ٹرننگ پوائنٹ کہا جاتا ہے ویسے حیرت ہے جنرل اختر ملک کی ایک بڑی خامی ان کا قادیانی ہونا ایوب خان کو سمجھ نہیں آئی ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت قادیانیوں کو ملکی قانون کے تحت کافر نہیں قرار دیا گیا تھا مگر پھر بھی عوام میں اس ایشو کے بارے میں حساسیت ہمیشہ سے رہی۔
تاشقند معاہدے کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب اس کی شرائط طے ہونے سے لیکر اس کے دستخط ہونے تک اس میں شامل تھے مگر بعد میں انھوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اس کے خلاف تھے۔دراصل بھٹو صاحب کی دور بین نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اب ایوب خان عوامی مقبولیت کھو رہے ہیں۔
ایوب خان کے دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصنف ان کے کیے گئے ترقیاتی کاموں کو سراہتے ہیں بالخصوص منگلا اور تربیلا ڈیم جیسے منصوبوں کو۔

مصنف مشرقی پاکستان میں بھی رہے ان کا کہنا ہے کہ دفاعی لحاظ سے یہاں کبھی توجہ نہیں دی گئی۔اس پر آرمی کا خیال یہ تھا کہ یہاں دریاؤں اور ندیوں کی کثرت ہے اس لیے یہاں کسی بڑے ملٹری آپریشن کا امکان نہیں۔جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان کو دفاعی لحاظ سے بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔مصنف کے بھی کہتے ہیں کہ مغربی پاکستان کے افسران عوام اور آرمی میں ایک طرح سے ذہنی برتری پائی جاتی تھی۔یہ لوگ مشرقی پاکستان کے لوگوں سے خود کو اعلی سمجھتے تھے۔

مصنف کہتے ہیں کہ پاک فوج کی طرف سے بنگالیوں کے خلاف روا رکھے گئے جن مظالم کا کتابوں میں ذکر ملتا ہے اس میں کچھ سچائی ضرور ہے عینی شاہد ہیں۔ویسے جنرل صاحب نے دوسری طرف سے روا رکھے جانے والے ظلم کا یہاں ذکر نہیں کیا جن کے عینی شاہدین بھی پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ جنرل صاحب نے فوجی و دفاعی حکمت عملی کی کمزوریوں کی نشاندھی کی ہے کہ جس کی وجہ سے ہم جنگ ہارے،بالخصوص فوجی اور ملکی کمان ایک غیر سنجیدہ شخص جنرل یحیٰی خان کے پاس تھی جس میں یکسوئی اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی نہ تھی۔
بھٹو صاحب کے دور میں ان کی زندگی کا اہم واقعہ پیش آیا جب جنرل ضیاء الحق جو آرمی چیف بنایا گیا تو جنرل ملک جو کہ جنرل ضیاء سے سینیر تھے نے فوج سے استعفیٰ دے دیا۔جنرل ضیاء الحق کو 6 جنرلز کو سپر سیڈ کرکے آرمی چیف بنایا گیا،۔بھٹو صاحب کے اس فیصلے نے پاکستان کی تاریخ بدل دی۔اگر سب سے سینیئر جنرل ،جنرل محمد شریف کو آرمی چیف بنایا گیا ہوتا تو شاید پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔جنرل ملک کے علاوہ جنرل محمد اکبر خان (سیکنڈ سنئیر) نے بھی استعفیٰ دیا۔

فوج سے مستعفیٰ ہونے کے بعد 1976 میں جنرل صاحب کو مراکش میں پاکستانی سفیر بنا کر بھیجا گیا۔
جنرل صاحب کہتے ہیں کہ جب بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اس حوالے سے انہوں نے اپنا خط جو انہوں نے جنرل ضیاء کو لکھا تھا کی کاپی بھی کتاب میں شامل کی ہے۔جس میں جنرل ضیاء سے گزارش کی گئی ہے کہ بھٹو صاحب کو پھانسی جیسے انتہائی اقدام سے گریز کیا جائے۔
پھر جنرل صاحب 1985 سے انتخابی سیاست میں آ گئے اور بھرپور سیاسی زندگی گزاری وہ 85 سے 97 تک کے ہر انتخاب میں فاتح ٹھہرے۔اس دوران انھوں نے اپنی سیاسی کمپین کے احوال لکھے ہیں جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔جن میں سے ایک ذکر میرے گاؤں ڈنڈوت کا بھی ہے اور جنرل صاحب نے سیٹھ راجہ باز خان مرحوم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ڈنڈوت میں ان کو متعارف کرایا۔
جنرل صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے چکوال کی سیاست میں تھانہ کچہری اور سیاسی انتقام کا خاتمہ کیا،مگر چکوال کی اکثر عوام جنرل صاحب کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتی۔
۲۰۰۲ کے انتخابات میں گریجویشن کی شرط کی وجہ سے جنرل صاحب خود انتخابی سیاست سے باہر ہوگئے اپنی جگہ وہ اپنے بھتیجے میجر طاہر اقبال کو لے آئے اور کامیاب ہوئے۔یوں ہی ۲۰۰۸ اور ۱۳ کے انتخاب میں جس امیدوار کی انھوں نے حمایت کی کامیاب ہوا۔اپنے سیاسی کیریئر میں وہ ایک ہی دفعہ ناکام ہوئے جب ۲۰۰۵ کے بلدیاتی انتخابات میں ضلع ناظم کا الیکشن وہ سردار غلام عباس سے ہار گئے۔
کارگل واقعہ کے بارے میں جنرل صاحب کا کہنا یہ ہے کہ یہ پرویز مشرف کا ایڈونچر تھا اور میاں صاحب کو اس کا علم نہیں تھا۔بلکہ اس وقت سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی 12 ڈویژن کی کمان کررہے تھے اس لحاظ سے لازم تھا کہ اس آپریشن کا ان کو بتایا جاتا مگر جنرل کیانی بھی اس آپریشن سے لاعلم تھے جب انہیں اس آپریشن کی اطلاع ملی تو اس کے پوری طرح خلاف تھے۔اس دوران ہونے والی میٹنگ کے احوال بتاتے ہوئے جنرل صاحب کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے بریفننگ غور سے سنی اور کوئی سوال نہیں کیا جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میاں صاحب اس کاروائی سے کلی طور پر بے خبر نہیں تھے مگر جنرل صاحب اس کی یہ تاویل دیتے ہیں کہ معاملات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ سوال کرنا مناسب نہیں تھا۔ پھر اس کے بعد جنرل مشرف کی بیجنگ سے جنرل عزیز کو کی گئی کال بھارتی ایجنسی نے ٹیپ کر لی جس کو بھارت نے نشر بھی کردیا اور جنرل عزیز کہہ رہے تھے کہ ملک صاحب مطمئن نہیں ہیں۔
پھر جنرل صاحب نے میاں صاحب کے اس دوران دورے امریکہ کے بارے میں لکھا کہ میاں صاحب نے صدر کلنٹن سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست کی تو کلنٹن کا کہنا تھا کہ مسٹر ریڈل میری طرف سے میٹنگ میں موجود ہوں گے۔
ویسے حیرت ہوتی ہے جنرل صاحب ق لیگ کا حصہ رہے اور اس کے نائب صدر تھے جنرل مشرف کے دور میں کبھی انھوں نے میاں صاحب کی اس حوالے سے بے گناہی کا ذکر نہ کیا۔بلکہ ۲۰۰۵ تک وہ چکوال میں نواز لیگ کے بڑے حریف رہے اگر تو ان کے تعلقات چوہدری برادران سے خراب نہ ہوتے تو وہ ۲۰۰۸ میں بھی ان کے بھتیجے طاہر اقبال قاف لیگ کے ہی امیدوار ہوتے۔بلکہ طاہر اقبال نے قاف لیگ کا ٹکٹ واپس کرکے ایاز امیر کے حق میں دستبرداری اختیار کی تاکہ ضلع ناظم سردار غلام عباس کے پینل کو شکست دی جا سکے۔یہ کتاب تو ان کے واپس نواز لیگ سفر پر لکھی گئی جب پرویز مشرف زوال اور میاں صاحب عروج پر تھے۔
ویسے میاں صاحب کے طرزِ حکومت پر بھی جنرل صاحب نے روشنی ڈالی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر ادارے کو وہ کنٹرول کریں،اور اپنی ماضی کی غلطیوں سے انھوں نے سبق نہیں سیکھا۔جنرل مشرف کو میاں صاحب کے برطرف کرنے کی کوشش کو بھی جنرل صاحب نامناسب کہتے ہیں اور پھر ان کی جگہ جنرل ضیاء الدین بٹ کا انتخاب کا فیصلہ بھی درست نہیں تھا کیونکہ جنرل بٹ فوجی دستوں کی کمان کا وسیع تجربہ نہیں رکھتے تھے۔جنرل صاحب ایک اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے فوج اور میاں صاحب دونوں سے قریبی تعلقات تھے وہ اس خلیج کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے تھے جو وہ نہ کر سکے۔
مندرہ چکوال ریلوے سروس کے خاتمے پر جنرل صاحب پر چکوال میں بہت تنقید ہوتی رہی ہے اور الزامات لگتے ہیں اس کا انھوں نے جواب دیا ہے کہ یہ ریلوے لائن مسلسل نقصان اور مسافروں کی کم تعداد کی وجہ سے بند ہوئی پھر ریلوے لائن کی فروخت جہلم کے ایک کنٹریکٹر کو دی گئی جبکہ جنرل صاحب پر الزام لگا کہ اُنھوں نے ریلوے لائن اکھاڑ کر اتفاق فاؤنڈری میں بھیج دی۔
کتاب کے آخر میں جنرل صاحب نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے لکھا ہے جس میں بالعموم وہ ہی واجبی سی باتیں ہے کہ پاکستان کی خطے میں صورتحال بہت اہم ہے جس کا یہ فائدہ اٹھا سکتا ہے نیز اداروں کی تعمیر اور اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا اور سیاسی جماعتوں کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے حوالے سے یہ ایک عمدہ کتاب ہے ،اور جنرل صاحب کی اس کاوش کو سراہنا چاہیے۔ہمارے ملک میں بڑے عہدوں پر رہنے والے لوگوں میں کتاب لکھنے کا رجحان بہت کم ہے ۔جس کی وجہ سے کئی رازوں پر سے پردہ نہیں اٹھ پاتا۔باقی لوگوں کو جنرل صاحب کی اس معاملے میں تقلید کرنی چاہیے اور مذید لوگوں کو اپنے یاداشتیں قلمبند کرنی چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *