• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا فیس بُک ، گُوگل واقعی ہی ذہن اور کتابوں کا متبادل ہو گا ؟۔۔نذر محمد چوہان

کیا فیس بُک ، گُوگل واقعی ہی ذہن اور کتابوں کا متبادل ہو گا ؟۔۔نذر محمد چوہان

امریکہ میں پچھلے پانچ سال سے مصنوعی ذہانت کی یلغار پر شدید بحث چھڑی ہوئی  ہے ۔ امریکی طبعاً  بہت ہی زیادہ آزاد اور adventurous قوم ہے اور کسی قسم کی تقلید کو شدید ناپسند کرتی ہے ۔ اس موضوع پر اوپر نیچے مارکیٹ میں روز بروز نئی  کتابیں آ رہی ہیں جو یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ  کیا واقعی ہی کتابوں کا شوق یہ کمپنیاں ختم کر دیں گی  ؟
ایسی ہی ایک کتاب ایک امریکی لکھاری فرینکلن فوئیر نے لکھی جس کا عنوان ہے ؛
World without mind
فرینکلن نے اس کتاب میں بہت زبردست تحقیق کی ہے ۔ فرینکلن نے اپنی کتاب کا آغاز ہی تھامس جیفرسن کے 1773 کے ایک خوبصورت قول سے کیا ہے ؛
The flow of one warm thought is to me worth more than money ..
مجھے جس بات کا تعجب ہوا کہ  ایک طرف تو فوئیر کہتا ہے کہ  سیلیکون ویلی میں سارے این رینڈ کے devotees بیٹھے ہیں اور دوسری طرف کہتا ہے کہ ہم سب کنٹرول اور manipulate ہو جائیں گے GAFA اور ان کے ہاتھوں ۔ گافا فوئیر ، گوگل، ایپل، فیس بُک اور ایمازون کے مخفف کو کہتا ہے ۔ این رینڈ کا جارج رارک کا کردار تو تخلیقی لوگوں کا مکہ ہے ۔ اس نے تو آزادی کی خاطر بجری بھی کُوٹی ، اسٹینفورڈ چھوڑ دیا صرف تقلید کی بُرائیوں کی وجہ سے ۔ کل پاکستان سے ایک نئے دوست قاری نے صبح صبح پیغام بھیجا اور کہا کہ  “آپ خیریت سے ہیں کہاں غائب ہیں ؟” میں نے اسے کہا کہ  جناب شاید آپکو علم نہیں ، پندرہ گھنٹے میرا موبائیل بند ہوتا ہے اور جب کُھلا ہوتا ہے اس میں بھی کوئی  چھ گھنٹہ میں لائبریری میں ہوتا ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ  میں کسی لائبریری یا کتابوں کی دوکان میں ہی اپنی بقیہ زندگی گزاروں اور اگر ہو سکا تو وہ لائبریری یا دوکان پنجاب کے کسی دور افتادہ گاؤں میں بناؤں گا اور وہیں انشا ء اللہ ڈیرہ ڈالوں گا ۔ دراصل فوئیر نے اس سارے معاملہ کو کاروباری اعتبار سے ڈسکس کیا ہے جو کہ  بالکل غلط ہے ۔ یہ بالکل غلط سمجھا جاتا ہے کہ  لوگ پیسہ کے لیے لکھتے ہیں ۔ ہاں اکثریت ایسی ہو سکتی ہے اور جیسے قانون میں کہا جاتا ہے کہ ۔۔
Exceptions doesn’t disprove the rules ..

تو فوئیر بھی ایسے ہی سمجھتا ہے ۔ جب میں نے ۱۹۸۳ میں سول سروسز اکیڈمی میں پہلی دفعہ معاشیات پڑھی تو ڈاکٹر اکمل نے کہا تھا کہ  جن لوگوں نے کبھی معاشیات نہیں پڑھی وہ ان کے لیکچرز کا زیادہ فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ جو کچھ ریکارڈو ، ایڈم سمتھ اور مارکس نے کہا وہ سب غلط ثابت ہو رہا ہے ۔ میں اس وقت بھی یہ کہتا تھا کہ  واقعی  ہی انسانوں کو سمجھنا ناممکن ، اتنے سارے فیکٹریز کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے کسی بھی ایک سوچ رکھنے والے شخص کو ۔ فوئیر نے لکھا کہ  ایڈم سمتھ نے صرف زمین لیبر اور سرمایہ کو ہی زیر غور رکھا ، ایک اہم چیز نالج کو بھول گیا ۔ گو کہ  میرے نزدیک کارل مارکس نے اس کو بھی مد نظر رکھ کر کچھ نہیں پایا ۔ مارکس بھی یہ کہہ  کر خطا کھا گیا کہ  نالج دراصل مادی یا میٹریل چیزوں کے طابع ہے ۔ ایسا نہیں ہے اور مارکس کا تاریخ کا بیانیہ اُلٹا ہو گیا ۔ ۱۹۴۷ میں دو ملک صرف اور صرف مذہبی نظریہ کے زور پر معرض وجود میں آئے ان کا تو کوئی  مادیت کا معاملہ نہیں تھا ۔
ایڈم سمتھ کے اگر کلیہ میں نالج فٹ نہیں ہوا اور ایمازون کے چیف ، جیف بیزوس کے ذہن میں فٹ ہو گیا تو کوئی  ایسی بڑی بات نہیں ۔ ان کو بھی لگ پتہ جائے گا وہ کس کے بنائے ہوئے انسان سے ڈیل کر رہے ہیں ۔ یہ ساری چیزیں سرکل میں چلتی ہیں ، عروج و زوال کے تابع ہیں ۔ کوئی  ایک فیکٹر ہرگز کنٹرول نہیں کر سکتا ۔ اور اسے خود فوئیر بھی مانتا ہے کہ  ۔۔
Sources of growth are increasingly tangible ..
فوئیر نے درست کہا کہ  فی الحال تو نالج کو کنٹرول کرنے سے مونسانٹو بھی جینیٹک بیجوں سے اربوں کما رہی ہے ۔
Monsanto’s comparative advantage isn’t factories but laboratories ..
فوئیر کے نزدیک انٹرنیٹ پر کاپی کا رحجان بہت بڑھ گیا ہے جس سے لکھاری بیکار ہو گئے ۔ اس سے بھی میں اختلاف کرتا ہوں ۔ میرے خیال میں جو واقعی  ہی میں تخلیقی لکھاری ہیں ان کو کوئی  فرق نہیں پڑتا ۔ جین پال ساترے ایک امیر فیملی سے تھا وہ پیسہ کے لیے نہیں لکھتا تھا ۔ میں کوئی   دو سال سے روز مسلسل بلاگز لکھ رہا ہوں ، بے شک جو مرضی میرا بلاگ کاپی کرے میری تخلیقی صلاحیتوں میں کوئی  فرق نہیں آتا ۔ ابھی بھی پاکستان میں بہت ساری اکیڈمیوں میں میرے بلاگز پڑھائے جاتے ہیں ۔ میں تو ایک تخلیق کے فاؤنٹین ہیڈ کی طرح ہوں ، کسی انعام و کرام یا تمغہ تحائف کی خواہش نہیں ۔ اپنے رب ، خالق حقیقی سے تعلق بہت ہے۔ اصل میں ہم سب کا معاملہ اسی طرح کا ہے ۔ ہر کوئی  unique پاورز اپنے  آپ میں سموئے ہوئے ہے ۔ پرانے زمانے میں فوئیر کہتا ہے کہ  تہذیب اور سیاست کی کنٹرول کی gate keeping ہوتی تھی جو اب گافا کر رہا ہے ۔ اس کے نزدیک data is the new oil ۔ میں اس سے بالکل مختلف سوچتا ہوں ۔ آپ بھلے جتنا مرضی ڈیٹا کنٹرول کر لیں اس سے الیکشن تو لڑے جا سکتے ہیں چیزیں تو بیچی جا سکتیں ہیں لیکن لوگوں کے ذہن نہیں خریدے جا سکتے تخلیق کو نہیں نقصان پہنچتا ۔ یہ قدرت کا کھیل ہے اسے قدرت کے پاس ہی رہنے دیں ۔ ہاں البتہ میں فوئیر کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ  ایک ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی ضرور ہونی چاہیے ۔ کمپیوٹر جب پچاس کی دہائی  سے شروع ہوا تو اس سے بڑا خوف آتا تھا اور اسے امریکہ میں صرف دفاعی معاملات تک محدود رکھا گیا ۔ IBM نے اپنا پہلا کمپیوٹر بھی پینٹاگون کے لیے بنایا تھا ۔ وہ خوف لگتا ہے ہمارے ذہنوں میں ابھی بھی چل رہا ہے ۔ میں جب مکالمہ پر روز نت نئے لکھاری اور مضمون دیکھتا ہوں بہت خوشی ہوتی ہے۔ کسی ایک شکیل الرحمان یا شامی جیسے شخص کی تھانیداری ختم ہو گئی ۔ یہ انٹرنیٹ کا ہم پر احسان ہے ۔ ٹوئیٹر سے ہی مصر میں Arab spring انقلاب آیا تھا ۔
جارج اورویل نے 1946 میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں کتابوں کا سگریٹوں کے ساتھ مقابلہ کیا تھا ۔ اس نے لکھا کہ  اس نے کتابوں پر سالانہ صرف پچیس پاؤنڈ خرچ کیے جو اگر وہ سگریٹ اور شراب پر کرتا تو دونوں کو ملا کر بھی بہت کم ۔ اس میں فوئیر کے نزدیک اورویل کا مطلب تھا؛
Reading is cheaper form of recreation ..
اور یہاں میں جارج اورویل سے متفق ہوں کہ  ریڈنگ بہت سستی ہے لیکن۔۔
Reading is avoided not because is expensive but less exciting pastime ..
فوئر مزید کہتا ہے کہ  فیس بک اور گوگل جیسی کمپنیاں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ  ہم crowd کا حصہ بنیں ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یہ ہم پر منحصر ہے کہ  ہم تقلید چاہتے ہیں یا اپنا انوکھا انداز بیاں ۔ جسے فوئیر درست کہتا ہے کہ
Mind should follow its own course and conclusion, algorithms should not make choices for us ..
فوئیر کی یہ کتاب پاکستان میں سب کو ضرور پڑھنی چاہیے خاص طور پر ہمارے حکمرانوں کو ۔ اس کے مطالعہ سے ٹیکنالوجی سے ایک تو ڈر اترے گا دوسرا اسے بغیر ہمارا استحصال کیے اپنے فائدہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جب میں ۱۹۹۷ میں پنجاب حکومت میں ڈپٹی سیکریٹری تھا تو ہمارے سیکریٹری سروسز خالد سعید نے کمپیوٹر متعارف کروایا ڈیٹا بیس بنانے کے لیے ۔ افسروں کے باہر کے دورے ، اے سی آرز اور پوسٹنگز کا ریکارڈ ایک مختلف ڈیٹا بیس پر اکٹھا کرنا بہت اچھا قدم تھا ۔ اس سے ہمیں شفاف اور منصفانہ فیصلہ لینے میں بہت مدد ملی ۔
اسی میں سب کی بہتری ہے ۔ آج مختلف دنیا کے سرورز پر ڈیٹا ہی پناما لیکس کی صورت میں جمع ہے ، وہی ڈیٹا جو نواز شریف کی وزارت عظمی لے بیٹھا اور آنے والے دنوں میں انشاءاللہ فرخ عرفان کی ججی ۔ ہائی ٹیک کے فوائد بہت زیادہ ہیں ان کوانجوائے کریں ۔ دیکھیں وہ مائیں جو اپنے بچوں سے امریکہ فیس ٹائم پر وڈیو ٹاک کر سکتی ہیں ، بہن اسماء حمید اور علینہ ٹوانہ اس کی گواہ ہیں ۔
کتابیں اور لائبریریاں نہ صرف آباد رہیں گی   تعداد میں کہیں زیادہ بڑھیں گی  ۔ ابھی تک مجھے پاکستان سے بچیوں نے کوئی  دس کنٹینرز کتابوں کے لانے کی فرمائش کی ہے ، یہ تو اب ان کے ہر دلعزیز لیڈر عمران خان پر ہے کہ  وہ چاہتے ہیں کہ  یہ کتابیں لائی  جائیں یا فی الحال قوم کا علاج دم درود اور قرضوں سے ہی کیا جائے گا؟ یاد رہے بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؛
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
پاکستان پائندہ باد!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *