لاہور پولیس کے شہزادے؟۔۔عزیز خان ایڈوکیٹ

لاہور پولیس کی پنجاب پولیس میں قربانیوں کی لمبی داستان ہے دہشت گردی سب سے زیادہ دھماکے اور پولیس ملازمین پر حملے بھی لاہور میں ہوئے لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے جرائم میں بھی اضافہ ہوتا رہا مگر کم نفری اور سہولتوں کے باوجود پولیس ملازمین نے کافی حد تک ان جرائم پر قابو بھی پایا ان پولیس ملازمین میں کُچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے ایمانداری اور جانفشانی سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دی اور کئی خطرناک گینگز کو کیفر کردار تک پُہنچایا
لیکن اس کے ساتھ ساتھ لاہور پولیس کے کُچھ افسران اور ماتحتان کا قبضہ گروپ مافیا سے گٹھ جوڑ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ان افسران اور ماتحتان نے کروڑوں روپوں کی پراپرٹی لاہور میں بنائیں
لاہور کی پراپرٹی کی قیمت جو ہزاروں میں تھی لاکھوں میں ہوئی اور پھر کروڑوں اربوں میں ہو گئی گھروں کے قبضے پلاٹوں کے قبضے کرنے میں سب سے زیادہ معاونت محکمہ مال اور محکمہ پولیس کرتا ہے ہمارا قانون اور عدالتی نظام ان اس قبضہ مافیا کے سامنے بے بس ہے بس ایک دفعہ قبضہ ہو گیا تو بعد میں مقدمات اور عدالتی جنگ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ اصل مالک اس مافیا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اونے پونے داموں اپنی کروڑوں کی جائیداد فروخت کر دیتے ہیں اور یہ سب کُچھ محکمہ مال اور پولیس ملازمین کی ملی بھگت سے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ لاہور میں تعیناتی کے بعد پولیس افسران لاہور چھوڑنے کا نام نہیں لیتے اور باہر سے آنے والے افسران کو لائور میں ٹکنے بھی نہیں دیتے

کل میں نے ایک پولیس رپورٹ دیکھی صرف لاہور میں آئی جی صاحب کو ناقص تفتیش کی 50 ہزار سے ذیادہ شکایت موصول ہوئیں اب آپ خود سوچ لیں یہ شکایتیں پورے پنجاب میں کتنی ہوں گی

جنوبی پنجاب اور بالخصوص بہاولپور رینج میں پولیس کی ملازمت اور طریقہ کار لاہور پولیس سے بلکل ہی مختلف ہے لاہور تفتیش کا معیار کُچھ اور ہے ؟مجھے یاد ہے دوران ڈی کورس میرے پہلے ایس ایچ او مہر عبدالرحمان سیال صاحب نے مجھے محرر کے کمرہ میں بیٹھا دیا جہاں زمین پر بیٹھ کر ہم پروبیشنرز تھانہ کے ریکارڈ کی تکمیل کیا کرتے تھے اور پھر مہر صاحب مجھے سے سنگین مقدمات کی ضمنیاں خود بول کر لکھوایا کرتے تھے ایس ایچ او صاحبان اور تفتیشی اپنے مقدمات کی ضمنیاں خودلکھا کرتے تھے
پھر دور بدل گیا ضمنیاں لکھنے کے لیے ہر تھانہ پر پرائیویٹ لوگ یا ریٹائیرڈ پولیس ملازمین رکھ لیے گئے یہ ضمنی نویس جو ضمنی لکھتے ہیں وہ نہ تو پڑھی جاتی ہے اور نہ تفتیشی کو پتہ ہوتا ہے کہ اس ضمنی میں کیا لکھا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جب یہ امثلاجات عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں تو تفتیشی کو پتہ ہی نہیں ہوتا اس میں کیا لکھا ہو ا ہے اور پھر جج صاحبان افسران کو بلاکر بےعزت کر رہے ہوتے ہیں
یہ آخر کیوں ہو رہا ہے ناقص تفتیش میں جہاں طمع نفسانی اور کرپشن بُہت بڑی وجہ ہے وہاں ایسے افسران بھی اس کا سبب بن رہے ہیں جو کئی دہایوں سے لاہور کے عوام پر مسلط ہیں یہ پولیس افسران نامعلوم وجوہات کی بنا پر لاہور کی پوسٹنگ کو چھوڑ نے کا نام ہی نہیں لیتے ؟
اس کی وجہ یہ بلکل نہیں ہے کہ وہ بُہت زیادہ کمپیٹنٹ یا کرائم فائٹر ہیں بس وہ صرف چاپلوسی اور خوشامد میں مہارت رکھتے ہیں میں ایکُ ایسے افسر کو بھی جانتا ہوں جس نے اپنی ملازمت کا آغاز 1993 میں لاہور سے بطور انسپکٹر کیا اُن کی پوسٹنگ زیادہ تر تھانہ سول لائنز اور ریس کورس ہوتی تھی اور اُن کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان تھانوں سے باہر ان کی تعیناتی نہ ہو ڈی ایس پی ترقی یاب ہوئے تب بھی سول لائینز اور ریس کورس سرکل میں کئی دفعہ تعینات ہوئے ایس پی ترقی یاب ہونے کے بعد بھی موصوف کو لاہور سے نہ نکالا جاسکا کبھی ایس پی کینٹ تعیناتی ہوتی ہے کبھی ایس پی سٹی ڈوثرن کے ساتھ ساتھ سول لائینز ڈوثرن کا چارج بھی ان صاحب کے پاس ہوتا ہے ؟ غرض ہاکی کی گیند کی طرح کینٹ سے سٹی ،سٹی سے سول لائینز اور سول لائنز سے کینٹ کی اب کوشش ہو رہی ہے ؟
الیکشن 2018 میں بمشکل تین ماہ لاہور سے باہر پوسٹنگ ہوئی اور پھر لاہور تعیناتی ہوگئی پتہ نہیں موصوف میں کس قسم کی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو ہر آئی جی اور سینیر کو پسند ہیں اور یہ ہر دور میں افسران اور حکمرانوں کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں
جب ایک ساتھ ایس ایچ او رہنے والے یہ ملازمین بطور ڈی ایس پی یا ایس پی ترقی یاب ہو کر پھر اُنہیں ملازمین کے ساتھ تعینات ہوتے ہیں تو ان کا ملازمین ہر کنٹرول نہیں ہوتا آپس میں گھل مل کر رہنے والے ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف یہ افسران ان ملازمین کو کیسے کنٹرول کر سکتے ہیں پھر نتیجہ جعلی کارگزاریوں اور ناقص تفتیش کی صورت میں سامنے آتا ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتے ہیں مقدمات درج نہیں ہوتے ہو بھی جائیں تو مدعی اور ملزمان پہلے تفتیشی پھر ایس ایچ او کے بعد ڈی ایس پی ،ایس پی ،ایس ایس پی آپریشن ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی خدمت میں صُبح سے شام تک دھکے کھاتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *