قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے ساتھ ہی رہتا تھا ،ایک دن صبح میں ایس ایس پی آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ محرر تھانہ نے بذریعہ فون مجھے بتایا کہ موضع کُبہ لعل پیر میں ایک 15/16 سالہ لڑکے کا قتل ہو گیا ہے سب انسپکٹر اور ملازمین ضروری کاروائی کے لیے موقع پر بھجوا دیے ہیں میں نے فوری طور پر اس قتل کی اطلاع اپنے ڈی ایس پی مرزا امیر بیگ صاحب کو دی، تاکہ وہ ایس ایس پی صاحب کو مطلع کریں اور میں خود موقع پر روانہ ہو گیا۔

موضع کُبہ لعل پیر ترنڈہ سوائے خان سے اقبال آباد جانے والی سڑک  پر واقع تھا ،رحیم یار خان سے تقریباً دس کلومیٹر دور ہوگا ،نذیر نیازی کانسٹیبل ترنڈہ سوائے خان میرا انتظار کر رہا تھا وہ بھی یہیں کا رہائشی تھا ،لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق بھی ترنڈہ سوائے خان کا رہنے والا تھا۔

گرمیوں کے دن تھے میں موقع  پر پہنچ  گیا ،مدعی اللہ بخش سپل کے گھر کا صحن کافی بڑا تھا مگر گھر کی چہار دیواری چھوٹی چھوٹی تھی باہر صحن میں مقتول اکرم کی نعش ایک بڑی چار پائی کے ساتھ زمین پر پڑی ہوئی تھی مدعی اللہ بخش سپل نے بتایا کہ آج صُبح تقریباً سات بجے ہم تمام گھر والے موجود تھے کہ اچانک ملوک ، اکبر، حمید اور ہاشم اقوام سپل جن سے ہمارا زمین کی خریداری کا تنازعہ چل رہا ہے مسلح اسلحہ آتشیں آگئے ،جنہوں نے ہمارے گھر کی چاردیواری کے باہر سے فائرنگ کرنی شروع کر دی، اکبر کی بندوق کا ایک فائر مقتول اکرم کے بائیں بازو کو چیرتے ہوئے سینے پر لگا جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا۔

پہلے میں نے مقتول کی لاش کو بغور دیکھا ،فائر اکرم کے بائیں کندھے پر لگا تھا جہاں زخم خونچکاں تھا جو ظاہری طور پر بارہ بور بندوق کا لگ رہا تھا اُسی زخم کے ساتھ مقتول کے سینے کے بائیں جانب ایک اور زخم بھی تھا لگ رہا تھا کہ ایک ہی فائر ہوا ہے جو مقتول اکرم کی موت کی وجہ بنا ہے مدعی کے بیان کے مطابق جہاں سے ملزمان نے فائرنگ کی تھی اور مقتول جہاں بیٹھا تھا کا فاصلہ تقریباً چالیس فٹ کا بنتا تھا مدعی نے جہاں ملزمان کے فائرنگ کرنے کا بتایا وہاں سے نہ تو کوئی خالی خول کارتوس ملے اور نہ قدموں کے نشانات تھے مقتول کے جسم پر زخم دیکھتے ہوئے بالکل نہیں لگ نہیں لگ رہا تھا کہ فائر اتنی دور سے کیا گیا ہو گا میرے تجربے کے مطابق یہ فائر قریب سے ہوا تھا۔۔کیونکہ موقع پر ایسی باتیں کرنے یا زیادہ کُریدنے سے حالات خراب ہو سکتے تھے اس لیے میں خاموش رہا۔

مدعی اللہ بخش سپل نے چار ملزمان ملوک ،اکبر، حمید اور ہاشم کو اپنے بیان میں نامزد کر دیا مدعی کے بیان پر پر تحریر بنا کر ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تھانہ کوٹ سمابہ بھجوا دی نقشہ صورت حال مرتب کیا اور لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال بجھوا دیا ،اب مجھے پوسٹمارٹم رپورٹ کا انتظار تھا جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا کہ فائر کتنے فاصلہ سے ہوا ہے کیونکہ جس طرح مدعی بتا رہا تھا اُس زاویہ اور فاصلے سے فائر نہیں لگ سکتا تھا۔

موقع  سے واپسی پر مجھے نذیر نیازی ڈرائیور نے بتایا کہ ہمارے گھر رحیم یار خان میں جو آدمی دودھ دے کر جاتا ہے اُس کا نام ملوک سپل ہے مدعی مقدمہ اللہ بخش سپل نے ایف آئی آر میں اُس کا نام بھی لکھوایا ہے مدعی اور ملزمان آپس میں قریبی عزیز ہیں اور میرے ہمسایہ بھی ہیں اس لیے مجھے موقع  پر اُن کے ایک رشتہ دار نے بتایا ہے کہ ملوک ملزم تو صُبح چھ بجے دودھ دینے رحیم یار خان چلا جاتا ہے اور دس بجے تک گھر واپس آتا ہے آج بھی ملوک سپل صُبح دودھ لے کر رحیم یارخان گیا ہوا تھا اور ابھی تک گھر واپس نہیں آیا میرے گن مین غلام قاسم نے بھی اس بات کی تائید کی کہ ملوک صُبح گھر دودھ دے کر گیا ہے مجھے اس بات کا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ ملوک ملزم کو مدعی قتل میں غلط ملوث کر رہا ہے لیکن یہ ساری باتیں تفتیش میں ثابت کرنے کے لیے تھیں۔

اُسی روز شام کو چاروں ملزمان تھانہ پر میرے پیش ہو گئے اور بتایا کہ وہ بے گُناہ ہیں اُنہوں نے اکرم کو قتل نہیں کیا ملوک نے اپنی موجودگی رحیم یار خان بتائی جبکہ بقیہ ملزمان نے اپنے گھر پر موجودگی کی شہادتیں پیش کیں میں نے اپنے افسران کو ملزمان کے خود پیش ہونے بارے میں مطلع کر دیا۔

اب مجھے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بے چینی سے انتظار تھا مدعی مقدمہ کی کوشش تھی کسی طریقے سے میں ملزمان کی گرفتاری ڈال دوں مجھے سیاسی سفارشیں بھی کروائی گئیں مگر میری ایک ہی بات تھی جب ک میں مطمئن نہیں ہوجاتا یہ صیح ملزمان ہیں میں ان کو حسب ضابطہ گرفتار نہیں کروں گا کیونکہ نامزد ملزمان اگر بے گناہ بھی ہوں تو عدالتیں نہ تو اُن کو ڈسچارج کرتی ہیں اور نہ ضمانت لیتی ہیں ؟ ڈاکٹر نے ایک ہفتہ بعد پوسٹمارٹم رپورٹ دے دی میرا شک درست ثابت ہوا فائر بُہت قریب سے لگا تھا مقتول کی جلد پر جلنے کے نشانات تھے یہ اُس وقت بنتے ہیں جب فائر بُہت قریب سے ہو تو بندوق کا شعلہ جلد کو جلا دیتا ہے فاصلہ تھوڑا اور زیادہ ہو تو زخم پر بلیکنگ آتی ہے اسی طرح اگر فائر دور سے ہو تو گروپ بڑا بنتا ہے اور قریب سے ہو تو چھوٹا گروپ بنتا ہے اکرم مقتول کے جسم سے کارتوس کے پانچ چھروں کے علاوہ کارتوس کے سامنے لگا گتہ اور پلاسٹک کا کارک بھی برآمد ہوا جو ڈاکٹر صاحب نے شیشے کی ایک بوتل میں بند کر کے پولیس کے حوالے کیا میں نے ڈاکٹر صاحب کو دوبارہ ایک درخواست دی کہ مجھے اس بات کا تعین کر کے بتائیں کہ فائر کتنے فاصلہ سے ہوا ہے، ڈاکٹر صاحب جس نے پوسٹمارٹم کیا تھا ،نے مجھے بتایا کہ یہ فائر ایک فٹ سے بھی کم فاصلہ سے ہوا ہے اب میرا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ قتل ملزمان ملوک سپل وغیرہ نے نہیں کیا ہے اگر مدعی اور گواہان کی بات مان لی جائے تو فائر کے فاصلے کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

مجھ پر ملزمان کو گرفتار کر کے چالان کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا مگر میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کُچھ بھی ہو جائے میں بے گناہ بندے کا  چالان نہیں کروں گا ۔ایس ایس پی اعظم جوئیہ صاحب کو بھی مدعی پارٹی نے میری  شکایت کی مگر اُنہیں میں نے مکمل بریف کردیا ،ڈی ایس پی مرزا امیر بیگ بُہت سمجھدار پولیس آفیسر تھے اُنہوں نے بھی میری تفتیش سے اتفاق کیا اسی دوران ایک دن میں نے تھانہ کوٹ سمابہ پر دونوں فریقین کا ایک کٹھ کیا میں نے ایک بندوق بارہ بور منگوائی گتے کا ایک بڑا ڈبہ منگوا کر اُس پر اُتنے فاصلہ سے فائر کیا جتنے فاصلہ سے مدعی نے ملزمان کو مقتول پر فائر کرنا بتایا تھا تو وہ تقریباً 18 انچ کا گروپ بنا اور اُس ہر برنگ یا بلیکنگ کے نشانات نہ بن سکے اب میں نے معززین مدعی اور ملزمان کے سامنے ایک فٹ کے فاصلے سے ڈبے پر فائر کیا تو برنگ ، بلیکنگ کے ساتھ ساتھ کارتوس کا گتہ اور ڈاٹ بھی گتے کے ڈبہ کے اندر چلا گیا اب یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ مقتول اکرم کو فائر قریب سے لگا ہے پر کس نے مارا ہے اب یہ معلوم کرنا تھا میں نے ڈی ایس ہی مرزا امیر بیگ صاحب سے بات کی کہ مجھے مدعی مقدمہ سے انٹیروگیشن کی اجازت دی جائے تاکہ معلوم کیا جاسکے یہ قتل کس نے کیا ہے ؟

مرزا امیر بیگ ڈی ایس پی نے وعدہ کیا کہ وہ ایس ایس پی صاحب سے بات کر کے بتائیں گے مگر بدقسمتی سے آئی جی پنجاب نے ایک انکوائری میں اُنہیں جبری ریٹائر کر دیا اور اُن کی جگہ محمد حسین ڈی ایس پی کو تعینات کردیا محمد حسین صاحب ایک کمزور ڈی ایس پی تھے جب میں نے اُن سے یہ بات کی اور بتایا کہ مدعی اللہ بخش سپل بے گُناہ افراد کو چالان کروانا چاہتا ہے جو میں نہیں کروں گا تو وہ بولے جب تک اصل ملزم ٹریس نہیں ہوتے آپ ان ملزمان کو عدالت کے رحم وکرم پر چالان کر دو میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ڈی ایس پی صاحب سے اجازت لی کہ اب یہ میری عزت کا معاملہ ہے میں نے ہر صورت میں اصل قاتل تلاش کرنا ہے میں نے مدعی مقدمہ کے بارے میں تھانہ سے ریکارڈ کی پڑتال کی تو اللہ بخش سپل کے بیٹے کے خلاف چوری کے مقدمات درج تھے جن میں وہ چالان عدالت ہوا تھا اب میں نے اُس کے دوستوں کے بارے میں پتہ براری کروائی اس سلسلہ میں ملزمان کے رشتہ داروں اور نزیر نیازی نے میری بُہت مدد کی کُچھ دن بعد معلوم ہوا کہ جس روز اکرم کا قتل ہوتا ہے اُسی روز تھانہ رکنپور کے علاقہ سے مدعی کے گھر ایک مہمان آیا ہوا تھا تھوڑی سی مزید کوشش کے بعد اُس مہمان کے بارے میں پتہ چل گیا کہ اُس کا نام اللہ دتہ تھا اور گوپانگ قوم سے تعلق رکھتا تھا اُس کا تھا نہ رکنپور میں کرمنل ریکارڈ بھی تھا اب اُسے گرفتار کرنا تھا تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں مدعی مقدمہ اب بھی بضد تھے کہ ملوک ، اکبر ، حمید اور ہاشم کو چالان کیا جائے۔

اللہ دتہ گوبانگ کے گھر کچہ کے علاقہ میں ریڈ کیے گئے مگر وہ نہیں مل رہا تھا ڈی ایس پی صاحب نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملزمان ملوک وغیرہ کو چالان کروانا چاہتے تھے آخر کار اللہ نے میری سُن لی اور میرے ایک دوست حبیب الرحمٰن خان گوپانگ جو کہ گوپانگ قوم کے سردار ہیں کی مجھے کال آگئی کہ آپ کا ایک ملزم اللہ دتہ گوپانگ میرے پاس موجود ہے آپ کے پاس بھجوا رہا ہوں اس نےآپ کے ڈر سے ضمانت قبل از گرفتاری کروائی ہوئی ہے مگر اب یہ واپس لے لے گا آپ جو بھی پوجھیں گے بتائے گا اُسی روز شام کو اللہ دتہ گوپانگ تھانہ پر میرے پاس آگیا اُس نے اکرم کے قتل کے بارے میں ساری بات بتا دی جو کُچھ اس طرح تھی کہ اللہ بخش سپل کا بیٹا اُس کا دوست ہے کبھی کبھی دونوں اکٹھے چوری چکاری بھی کر لیتے ہیں اُس روز بھی اللہ بخش کے بیٹے کو ملنے آیا تھا رات اُن کے گھر ٹھہرا صُبح باہر صحن میں بیٹھے ہوئے تھے اکرم مقتول چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا اللہ بخش کا بیٹا انور کمرہ سے کاربین لے کر باہر آیا اور مجھے کہنے لگا نئی لی ہے چیک کرو میں نے اپنا ایک پاؤں چار پائی پر رکھا اور کاربین کو کھولا جو لوڈ تھی جیسے میں نے اُسے بند کیا تو فائر ہو گیا جو ساتھ بیٹھے اکرم کے بائیں بازو میں لگا وہ گر پڑا اور تھوڑی دیر میں دم توڑ گیا میں ڈر کے مارے فوری وہاں سے بھاگ گیا بعد میں معلوم ہوا، اللہ بخش سپل نے اپنے مخالفین پر قتل کا مقدمہ درج کروا دیا ہے یہ ایک اتفاقیہ حادثہ تھا کاربین میں ساتھ لے گیا تھا جو ایک نہر میں پھینک دی تھی میں اگلے روز ملزم اللہ دتہ گوپانگ کو لے کر ڈی ایس پی صاحب کے دفتر میں گیا جس نے تمام بات ڈی ایس پی کے سامنے دہُرا دی ملزم اللہ دتہ کو قتل خطا میں چالان کیا اور اس طرح بے گُناہ ملوک ، ہاشم ، حمید اور اکبر قتل مے مقدمہ میں چالان ہونے سے بچ گئے۔

کسی بھی جرم میں ملاحظہ موقع باریک بینی سے کرنا بہت ضروری ہوتا ہے، پولیس آفیسر کو بغیر کسی دباؤ کے اپنا کام قانون کے مطابق کرنا چاہیے اور کسی بھی مقدمہ خاص طور پر قتل میں بے گناہ کوا چالان یااُسے  گرفتار نہیں کرنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *