جسے اللہ رکھے (قسط 7)۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

اپنی ذاتی کلاشنکوف اور نشہ آور گولیاں بلو حسام کو دینے کے بعد میں نے اُسے معراج خان Asi کے ہمراہ موٹرسائیکل پر روانہ کر دیا معراج خان Asi کو سختی سے تاکید کی کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرے کہ میں نے کلاشنکوف بلو حسام کو حمیدہ فوجی کو پکڑوانے کے لیے دی ہے بلکہ سب کو یہی بتانا ہے کہ بلوحسام کو مقدمہ میں صفائی لے کر بے گناہ کر کے چھوڑا گیا ہے-پتہ نہیں کیوں میں نے بلو حسام پر اعتماد کر لیا جب کہ مجھے کُچھ دوستوں نے بتایا گیا تھا کہ ستلج دریا کچے کے جرائم پیشہ افراد کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہوتے-
شفیع ماتم کا ریمانڈ جسمانی ختم ہو چُکا تھا میں نے اُس کے سچ بولنے کی وجہ سے اپنے وعدہ کی پاسداری کی اور اُسے صرف پولیس پر فائیرنگ کرنے والے مقدمہ میں چالان کر دیا-شفیع ماتم نے فائیرنگ میں استعمال ہونے والی کلاشنکوف بھی منگوا کر دے دی جس کی مقدمہ میں حسب ضابطہ برامدگی ڈال دی گئی-شفیع ماتم کو واپس اور راجنُپور جیل بھجوا دیا گیا تاکہ اگر وہ کسی اور تھانہ کے مقدمات میں ملوث ہو تو وہ لے جائیں-اب مجھے بلو حسام کی کال کا انتظار تھا کہ کب وہ عابد ڈاہڑ اور حمیدہ فوجی کو نشہ آور گولیاں کھلا کر گرفتار کرواتا ہے-
ایک ہفتہ گزر گیا بلو حسام کی کوئی کال نہ آئی نہ ہی اُس کا کوئی پتہ چل رہا تھا کہ وہ کدھر ہے بلو حسام کا موبائل فون بھی بند تھا-میں نے معراج خان Asi کو بلوایا اور کہا کہ کسی سمجھدار کانسٹیبل کو بلو حسام کے گھر موضع دھوڑ کوٹ بھجوائے تاکہ معلوم کیا جا سکے بلو حسام کدھر غائب ہو گیا ہے-معراج خان نے میرے کہنے پر حمید کانسٹیبل کو بلو حسام کے گھر روانہ کردیا دوسرے روز معراج نے مجھے بتایا کہ حمید کانسٹیبل کو آپ کی ہدایت کے مطابق بلو حسام کے گھر بھجوایا تھا جو اُس کی ماں سے ملا ہے جس نے بتایا ہے جس دن کا وہ تھانہ نوشہرہ سے رہا ہو کر آیا تھا اُسی دن سے کہیں چلا گیا تھا اور آج تک گھر واپس نہیں آیا-اب مجھے بھی بلو حسام کی فکر ہونے لگی تھی کہ کہیں حمیدہ فوجی کو بلو پر شک تو نہیں ہو گیا کیونکہ حمیدہ انتہائی چالاک اور شاطر مجرم تھا اور بلو سے زیادہ مجھے اپنی ذاتی کلاشنکوف کی بھی فکر تھی؟
اسی ذہنی اذیت میں کُچھ دن اور گزر گئے ایک رات تقریباً دس بجے میرے موبائل نمبر پر بلو حسام کے نمبر سے کال آئی جس نے مجھے بتایا کہ وہ عابد ڈاہڑ کے ذریعہ حمیدہ فوجی تک پُنہچ گیا ہے اس وقت بھی وہ سیت پور ضلع علی پور کے کچہ میں موجود ہے اور اب اُسکی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح سے حمیدہ فوجی کو گھیر کر جلال پور پیروالہ یا ہتھیجی کے علاقہ میں واردات کرنے کے بہانے لے آئے مگر ابھی وہ آپ سے گھبرایا ہوا ہے اور ڈر کے مارے ریاست نہیں آنا چاہتا(کچے کے لوگ بہاولپور کے علاقہ کو ریاست کہتے ہیں)میں نے بلو حسام کو شاباش دی اور اُسے کوشش جاری رکھنے کا کہا-فون بند کرنے سے پہلے میں نے اُسے انعام کا لالچ بھی دیا کیونکہ میں حمیدہ فوجی کو زندہ یا مُردہ پکڑنا چاہتا تھا-
حمیدہ فوجی کے ساتھ ساتھ میں خود پر فائیرنگ کے بقیہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی بھی بھرپور کوشش کر رہا تھا اس سلسلہ میں مخبروں کو بھی پیسے دے رکھے تھے اور مجھے ہر طرح کی اطلاعات آرہی تھیں کبھی سچی کبھی جھوٹی اور میں ہر اطلاع پر جاتا ضرور تھا-ایک دن شام کو مخبر نے اطلاع دی کہ منیر عرف مُنی ککس کراچی سے پنجاب آرہا ہے اور وہ رات کو کراچی سے دس بجے ٹائم والی بس میں روانہ ہو گا اور اگلے دن اُچشریف جائے گا مخبر نے مزید بتایا کہ وہ بھی منی ککس کے ساتھ اُسی بس میں سوار ہو گا-چناچہ منیر عرف منی ککس رات کو جونہی کراچی سے بس میں بیٹھا میرا مخبر بھی اُسی بس میں سوار ہو گیا-میں نے مخبر کو ہدایت کی کہ مننی ککس کو ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے نظروں سے اوجھل نہ ہونے دے -میں نے مخبر کو مزید انعام کا لالچ بھی دیا اور ساتھ ہی اُسے دھمکی بھی دی کہ اگر منی ککس کہیں راستے میں اُتر گیا یا فرار ہو گیا تو اُس کی خیر نہیں ہو گی-
میں نے فوری طور پر یہ ساری انفارمیشن اپنے ڈی ایس پی میں عرفان اُللہ کو دی اُن سے اجازت لی اور اگلی صُبح نماز فجر کے بعد میں ملازمین کے ہمراہ رحیم یارخان کی طرف روانہ ہو گیا کیونکہ میں منیر عرف منُی ککس کو کسی ایسے مقام پر بس روک کر گرفتار کرنا چاہتا تھا جہاں زیادہ لوگ نہ ہوں- میری پلانگ یہ تھی کہ منی ککس کی گرفتاری کو خفیہ رکھا جائے تاکہ اس کی گرفتاری کو چھُپا کر بقیہ ملزمان کو منی ککس سے ٹیلی فون کروا کر ٹریپ کیا جاسکے-کیونکہ قبل ازیں میری تعیناتی ضلع رحیم یار خان رہ چُکی تھی اور میں علاقہ کا اچھی طرح واقف تھا اس لیے میں نے منی ککس کو خان بیلہ ٹول پلازہ کے قریب بس روک کر گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا-جس بس پر منی ککس اور میرا مخبر سوار تھے اُس نے براستہ اُوچشرف ،علی پور مُلتان جانا تھا اگر ہم چنی گوٹھ کے قریب ناکہ بندی کرتے تو بس ترنڈہ محمد پناہ سے گزر جاتی اور منی ککس ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتا-
بس رات کو دس بجے کراچی سے روانہ ہوئی تھی اس لیے قوی اُمید تھی کہ صُبح دس گیارہ بجے خان بیلہ ٹول پلازہ پر پُنہچ جائے گی-تھانہ نوشہرہ جدید سے روانہ ہو کر میں اپنے ملازمین کے ہمراہ تقریباً نو بجے خان بیلہ ٹول پلازہ پر پُنہچ گیا سرکاری گاڑی ایک طرف چُھپا کر کھڑی کر دی جس میں باوردی مسلحہ جوان موجود تھے-میں اور میرے ساتھ چار ملازمین جن میں معراج خان Asi بھی تھا سفید پارچات میں ایک پرائیویٹ کار میں تھے تاکہ منی ککس کو کسی قسم کا شبہ نہ ہو -مخبر نے مجھے بس کی کمپنی کا نام اور نمبر بھی بتا دیا تھا میں نے مخبر کو بذریہ موبائل فون کہا کہ جونہی بس ظاہر پیر کراس کرے تو مجھے کال کر کے اپنی پوزیشن بتا دے تاکہ ہم مستعد ہو جائیں کیونکہ ظاہر پیر سے خان بیلہ کی مسافت تقریباً آدھا گھنٹہ کی ہے
جونہی بس نے ظاہر پیر کراس کیا مجھے مخبر کی کال آگئی کہ بس نے ظاہر پیر کراس کر لیا ہے کُچھ دیر بعد ہماری مطلوبہ پس جس میں مخبر اور مُنی ککس سوار تھے دور سے آتی ہوئی نظر آئی جیسے ہی بس ٹول پلازہ پر ٹال ٹیکس دینے کے لیے رُکی معراج خان دو پولیس ملازمین کے ہمراہ جلدی سے بس میں سوار ہو گیا مخبر مجھے پہلے ہی بتہ چُکا تھا کہ منی ککس کے پاس اسلحہ وغیرہ کُچھ نہیں ہے لیکن پھر بھی میں نے ملازمین کو بریف کر دیا تھا کہ احتیاط سے کام لینا ہے اتنی دیر میں باوردی ملازمین نے بھی بس کو گھیر لیا ایک کانسٹیبل بس کے سواریوں والے گیٹ پر کھڑا ہو گیا میں فوری طور پر ڈرائیور گیٹ پر پُنہچ گیا تاکہ منی ککس ڈرائیور والے گیٹ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرے-
منی ککس نے کوئی مزاحمت نہ کی مخبر ہمیں سیٹ نمبر جس پر منی ککس بیٹھا ہوا تھا بھی بتا دیا تھا جس کی وجہ سے منی کو پہچاننے میں کوئی دقت نہ ہوئی -معراج خان نے ملازمین کے ہمراہ فوری طور پر منی ککس کو بس سے اُتارا اور سرکاری گاڑی کے پیچھے ہتھکڑی لگا کر بیٹھا دیا چاچا عباس کانسٹیبل نے جلدی سے منی ککس کی آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا- منے ککس چھوٹے قد کا دبلے پتلے جسم کا مالک تھا جسے پہلی دفعہ دیکھنے سے بلکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ پولیس پر فائیرنگ بھی کر سکتا ہے؟میرے ساتھ آئے کُچھ ملازمین منی ککس کو شناخت کرتے تھے اُن کی تصدیق کے بعد میں نے فوری طور پر میاں عرفان اُللہ ڈی ایس پی احمد پور شرقیہ کو بتادیا کہ جس مشن پر گئے تھے وہ کامیاب ہو گیا ہے-

مننی ککس کو گرفتار کرنے کے بعد میں فوری طور پر تھانہ نوشہرہ روانہ ہوگیا اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور کامیابی دی تھی تھانہ پُنہچ کر منی ککس کو تھانہ کے ساتھ معراج خان کے رہائشی کواٹر بھجوا دیا اور اُس کے ساتھ دو کانسٹبلان کی ڈیوٹی لگ دی تمام ملازمین کو سختی سے ہدایت کی کہ منی ککس کی گرفتاری کے متعلق کسی کو بھی نہ بتائیں گے-منی ککس کا موبائل فون بس سے اُترتے ہی میں نے اپنے قبضہ میں کر لیا تھا مجھے قوی اُمید تھی کہ حمیدہ فوجی سے اس کا رابطہ ضرور ہو گا-
انٹیروگیشن پر منی ککس نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ شفیع ماتم کے ساتھ تھا اُسے بلکل علم نہ تھا کہ حمیدہ فوجی کا پولیس پر فائیرنگ کا پروگرام ہے ورنہ وہ کبھی بھی اُن کے ساتھ نہ جاتا اُس کے پاس کوئی اسلحہ نہ تھا- میں نے کہا میں تمہاری بات مان لیتا ہوں ہر تم مجھے حمیدہ فوجی گرفتار کروا دو- منی ککس بولا جناب میں تو گرفتار ہو گیا ہوں اُسے کیسے پکڑوا سکتا ہوں؟ میں نے کہا تمہارے پاس حمیدہ فوجی کا فون نمبر ہے اُسے فون کرو اور ملنے کا پروگرام بناو میں فائیرنگ والے مقدمہ میں تمہاری رعایت کروں گا ورنہ میں تمہیں پولیس مقابلے میں مار دوں گا-منی ککس کے بتایا کہ حمیدہ فوجی بُہت چالاک ہے اپنے نمبر تبدیل کرتا رہتا ہے میرے پاس اُس کا ایک پُرانہ نمبر ہے کیونکہ پولیس پر فائیرنگ کے بعد جب دوسرے دن ہمیں اخباروں سے علم ہوا کہ آپ پر فائیرنگ ہوئی ہے میں ڈر کر کراچی بھاگ گیا تھا اس کے بعد میں نے پکڑے جانے کے ڈر سےکسی سے رابطہ نہیں کیا تھا حمید فوجی کا زیادہ تر رابطہ شفیع ماتم سے رہتا تھا چھلو حسام کے مرنے کی خبر بھی مجھے کراچی میں ملی تھی-میں نے معراج خان کو ہدایت کی کہ منی ککس کے موبائل سے اس کے دوستوں کو فون کروائے اور حمیدہ فوجی کے نمبر کو ٹریس کرنے کی کوشش کرے-
مجھ پر اور ملازمین پر فائیرنگ کرنے والے ملزمان میں سے ایک ملزم چھلو حسام مقابلے میں مارا جا چُکا تھا جبکہ شفیع ماتم ،مُنی ککس گرفتار ہو چُکے تھے چوتھا ملزم بلو حسام میرے لیے کام کر رہا تھا اب تین ملزمان حمیدہ فوجی ،علو ڈائڑ اور عابد ڈاہڑ بقایا تھے جنکو میں نےاب گرفتار کرنا تھا اور ان سب میں سے زیادہ خطرناک اور چالاک ملزم حمید عرف حمیدہ فوجی تھا-

بلو حسام سے اب میرا مستقل رابطہ تھا وہ مجھے فون پر اپنی کاروئی بتاتا رہتا تھا کہ حمیدہ فوجی اب تک اُس پر اعتماد نہیں کر رہا جیسے وہ اُس کی بات مان کر (ریاست )کے علاقہ میں واردات کرنے پر آمادہ ہو گیا وہ اُسے شراب میں یا کھانے میں نشہ آور گولیاں ملا کر پکڑوا دے گا -کبھی کبھی وہ مجھ سے پوچھتا تھا کہ اگر میں حمیدہ فوجی کو مار کر آپ کے حوالے کر دوں تو میرا انعام کیا ہو گا ؟میں نے اُس سے وعدہ کر لیا کہ اگر وہ ایسا کر دے تو میں اُسے مُنہ مانگا انعام دوں گا میں جانتا تھا کہ یہ بات غلط ہے مگر حمیدہ فوجی قتل اور ڈکیٹیوں کے درجنوں مقدمات میں ملوث تھا اور مجھے ذولفقار چیمہ ایس ایس پی کی وہ بات بھی یاد تھی کہ “جو انسان مخلوق خدا کے لیے تکلیف اور عذاب کا باعث ہو اُسے قتل کرنا جائیز ہے”
ایک دن دوپہر کو مجھے بلو حسام کی کال آئی وہ علی پور کچہ کے علاقہ میں عابد ڈاہڑ اور حمیدہ فوجی کے ساتھ تھا بلو نے مجھے بتایا کہ آج ہر صورت میں وہ حمید فوجی اور عابد ڈاہڑ کو لے کر جلالپور کے دریائی علاقہ میں آئے گا ایک واردات کرنی ہے جہاں واردات کرنی ہے اُس گھر کی مخبری بھی ہو چکی ہے-واردات پر جانے سے پہلے میں نے اپنے ایک دوست کے ہاں دعوت کا انتظام کیا ہے وہاں پر میں شراب کا انتظام بھی کیا ہے کوشش کروں گا کہ ان سب کو نشہ آور گولیاں شراب میں ملا کر دے دوں دعوت کی جگہ میں آپ کو پہلے بتا دوں گا جیسے ہی یہ سب بے ہوش ہوں گے میں کال کر دوں گا آپ نے فوری طور پر پنہچنا ہے میں نے اس کی اطلاع اپنے ڈی ایس پی اور ڈی پی کو دے دی اور جلال پور کے علاقہ میں ریڈ کی اجازت بھی لے لی کیونکہ دوسرے ضلع میں ریڈ کے دوران کچھ بھی ہوسکتا تھا؟
رات کو بلو حسام کی مجھے کال آئی کہ اب حمید فوجی وغیرہ نے شراب پینا شروع کر دی ہے آپ فوری طور پر روانہ ہو جائیں اور جھانگڑہ پر دریا کے قریب میرا انتظار کریں- میں تھانہ کی نفری اور ایلیٹ کی ایک گاڑی جو احمد پور شرقیہ سے منگوا چکا تھا لے کر جھانگڑہ پُنہچ گیا بلو حسام نے موبائل فون پر مجھے بتایا کہ ان سب نے شراب پی لی ہے اور اب کھانا کھارہے ہیں جیسے میں فون کروں آپ نے آجانا ہے-اب میں اپنے ملازمین کے ساتھ جھانگڑہ پتن پر گاڑی میں بیٹھا بلو حسام کی فون کال کا انتظار کر رہا تھا-
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *