ہماری ذہنی سطحیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ان گیارہ افراد کوفرقہ واریت کی آگ میں جھونک رہے ہیں ، جو رزق کی تلاش میں مٹی کا رزق بن گئے، وہ انسان تھے، وہ اشرف← مزید پڑھیے
گورو پرمہانس آشرم اور مندر کی مسماری پر میں کیا لکھوں۔ بی بی سی، وائس آف امریکہ، دی ہندو، نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق کہ “انتہاپسند مسلمانوں نے پولیس کی موجودگی میں جمعیت علما اسلام← مزید پڑھیے
اس وقت تین کردار ہمارے سامنے ہیں۔ ایک بنک کا مقتول مینجر، دوسرا قاتل سیکورٹی گارڈ اور تیسرے وہ لوگ جو جلوس کی صورت میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس قاتل کو تھانے لے کر گئے یا وہ مولوی← مزید پڑھیے
خوشاب میں بینک سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں اسی کے بینک مینیجر کے بیہمانہ قتل سے یہ پتا چلتا ہے کہ جہالت اور مذہبی جنونیت لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری جا چکی ہے۔اور ایسا ہمارے اہل ِ اقتدار نے مرحلہ← مزید پڑھیے
سنہ 1993ء کا واقعہ ہے۔ سکینڈری سکول کے ایک 15/16 سالہ طالب علم کے اپنی 40 سالہ خاتون ٹیچر کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم ہو گئے جو اُس وقت 15 سے 17 برس کی عمر کے 3 بچوں کی ماں← مزید پڑھیے
کمرہ عدالت کے باہر گہما گہمی تھی۔رپورٹرز بار بار اپنے چینل کے ذریعے اپنے ناظرین تک تازہ ترین اطلاعات پہنچانے میں مصروف تھے۔سکیورٹی سخت تھی۔عوام غم و غصہ کی حالت میں عدالت کے باہر کھڑی تھی۔پولیس ان کو کسی بھی← مزید پڑھیے
توہینِ رسالت کے الزام پر ماواراے عدالت قتل کے غلط اور غیر شرعی ہونے کے حوالے سے میرے موقف پر بعض عزیزوں اور دوستوں نے مجھ سے اپنی محبت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یار! محتاط← مزید پڑھیے
توہینِ رسالت کے مسئلے پر ہماری گزارشات پر بعض احبا ب مسلسل فرما رہے ہیں کہ جناب یہ ماورائے عدالت قتل کوئی کسی سے پوچھ کر نہیں کرتا ، یہ تو بس ہو جاتا ہے! اور آپ ماورائے عدالت قتل← مزید پڑھیے
دنیا بھر کے معاشروں میں درجنوں نہیں سینکڑوں افراد روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی اکثریت اخبار کے صفحات اور ٹی وی کے نیوز بلیٹن میں جگہ بھی نہیں بنا پاتی۔ ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد← مزید پڑھیے
گزشتہ کئی برسوں سے اپنے متعدد مضامین اور تحریروں میں ہم یہ واضح کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ناموس و توہینِ رسالت کے حوالے سے ہماری عمومی مذہبی فکر اور بطورِ خاص جلالی و رضوی صاحبان← مزید پڑھیے
یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے← مزید پڑھیے
جانے قدرت کی کیا پوشیدہ مصلحت تھی کہ اس نے چند لمحوں میں ہی تین سالہ عیاد کو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی طویل داستان سے آگاہ کر دیا۔ معصومیت اور لطافت کے پیکر اس ننھے← مزید پڑھیے
علیم ملزم کی جوڈیشل انکوائری کے بعد ایس ایس پی اعظم جوئیہ صاحب نے میری تعیناتی تھانہ کوٹ سبزل کر دی تھی تھانہ کوٹ سبزل پر میری یہ دوسری تعیناتی تھی سابقہ دور میں میں نے جو کام کیے تھے← مزید پڑھیے
“تمہارے سارے پاپوں کی فہرست ہے میرے پاس۔” تھانے دار ہونے کے ناطے میں نے سامنے بیٹھے نوجوان سے کہا۔ “پانچ دن پہلے راہ چلتے مسافروں کے ساتھ رات کے وقت تم نے لوٹ ماری کی۔ پرسوں رات جوئے کے← مزید پڑھیے
یاد رہے غلامی ایک سماتے وچ ہے اور سوچ کبھی بھی بدلی جاسکتی ہے مدِ مقابل کی سوچ سے اپنی سوچ بلند کردو ،اسکے خیالات دب جائیں گے بقول دانشور پارس صاحب ، فرماتے ہیں کہ ” سرخ ہندیوں← مزید پڑھیے
وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی جانیوالی بچیوں کی وجہ سے ہم سب غمگین ہیں۔۔ مگر جس طرح سے پشتون تحفظ موومنٹ کی گلالئی اسماعیل امریکہ میں بیٹھ کر چیخیں مار رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔← مزید پڑھیے
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی وہ کتاب ہے جو سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دائر کردہ فوجداری اپیل کے مواد سے ترجمہ کر کے چھاپی گئی ہے۔ آج کے دن 4اپریل 1979 کو راولپنڈی میں انہیں پھانسی دی← مزید پڑھیے
ASPاللہ ڈینو خواجہ کاتبادلہ احمد پور شرقیہ ہوگیا تھا ،ان کی جگہ نئے ASPڈاکٹر مجیب الرحمٰن تعینات ہوچکے تھے ،اسی طرح ذوالفقار چیمہ بھی تبدیل ہوچکے تھے اور نئے SSPملک اعجاز نے چارج سنبھال لیا تھا۔نئے SSPکافی شریف آدمی تھے← مزید پڑھیے
موہن داس کرم چند گاندھی کا شمار دنیا کے عظیم سیاسی اور جمہوری رہنماٶں میں ہوتا ہے۔انہوں نے بلاشبہ بیسویں صدی میں کسی بھی دوسرے رہنما سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا۔انگریزی استعمار کے خلاف جدوجہد میں انہوں نے اہنسا← مزید پڑھیے
لیجیئے بالآخر ہمارے آرمی چیف جنرل باجوہ نے ایک بار پھر شہید نقیب اللہ کے ساتھ انصاف کا وعدہ کرڈالا ۔۔۔ 3 برس قبل ملک کے سب سے طاقتور ادارے کے سربراہ نے یہ وعدہ شہید کے والد خان محمد← مزید پڑھیے