اگر مجھے قتل کیا گیا۔۔۔مہر ساجد شاد

یہ ذوالفقار علی بھٹو کی وہ کتاب ہے جو سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دائر کردہ فوجداری اپیل کے مواد سے ترجمہ کر کے چھاپی گئی ہے۔ آج کے دن 4اپریل 1979 کو راولپنڈی میں انہیں پھانسی دی گئی، ان پر نواب محمد احمد خاں قصوری کو قتل کروانے کا الزام تھا۔

قصہ یوں ہے کہ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات لگا کر ایک ہیجان برپا کیا گیا، جب یہ تنازعہ حل ہو گیا اور آخری معاہدہ لکھا جانا باقی رہ گیا تو 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا ء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔

جب ان کی اپیل زیر ِ سماعت تھی تو جنرل ضیاء کی حکومت نے سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کو متاثر کرنے کیلئے اور ان کی کردار کشی کیلئے سرکاری سطح پر بھٹو کی معذول کی گئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپرز شائع کر دیے۔

ذوالفقار علی بھٹو  جو بہت کچھ بتانا چاہتے تھے بہت سے جھوٹ بے نقاب کرنا چاہتے تھے، ان وائٹ پیپرز نے ایک جواز فراہم کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی اس میں ان وائٹ پیپرز کا جواب دیا، اس میں موضوعات اور مذکورہ امور پر تفصیل سے اپنا موقف پیش کیا۔ کیونکہ وہ ریکارڈ کی درستگی چاہتے تھے اور اس “سفید جھوٹ” اور “دروغ گوئی پر مبنی پلندہ” (بھٹو وائٹ پیپر کو اسی نام سے پکارتے تھے) کا جواب دعویٰ  لکھ کر سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔

بھٹو لکھتے ہیں کہ “ میں موت کی کوٹھڑی میں قید ہوں اور مجھے ان وائٹ پیپرز میں درج جھوٹے اور رسواکُن الزامات کی موثر تردید کیلئے درکار مواد تک رسائی حاصل نہیں، اسکے باوجود میں نے اپنی استطاعت کے مطابق ان الزامات کا درج  ذیل پیراگراف میں جواب دینے کی کوشش کی ہے تاکہ ریکارڈ کو درست کیا جا سکے اور یہ فاضل عدالت انصاف کے مفاد میں جو کاروائی مناسب سمجھے وہ بروۓ کار لا سکے۔”

یاد رہے کہ یہ کتاب صرف پہلے دو وائٹ پیپرز کا جواب ہے باقی تین وائٹ پیپرز کا جواب لکھنے کی انہیں مہلت ہی نہ دی گئی، ان کی نامکمل اپیل پر ہی کارروائی مکمل کر دی گئی۔ سخت پابندیوں کے باوجود یہ جوابی  دعویٰ  دنیا بھر میں اسمگل ہو گیا اور مختلف زبانوں میں کاپی کیا گیا۔ یہ کتاب وطن عزیز کی مخفی تاریخ پر ایک مستند دستاویز ہے، اقتدار کی راہداریوں کے سب کرداروں پر بات کی گئی ہے، سازشوں اور سازشیں کرنے والوں کے طریقہ ء  واردات کو بے نقا، ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات و واقعات پر وضاحت اور تبصرہ کیا گیا ہے۔ رد ِ قادنیت اور اس کے بھٹو کی سیاست پر مضمرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن، سرکاری مشینری ، انٹیلی جنس ایجنسیاں، نیک نامی اور بدنامی کے پلان اور انکے بنانے والے، سیاست میں فوج کی مداخلت، صوبے اور وفاق کے تعلقات، ایٹمی ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تعلقات، داخلی اور خارجی بحران جیسے کئی موضوعات پر تفصیلی جواب لکھا گیا۔

یہ کتاب پاکستان میں جمہوری سیاست کرنے والوں کیلئے ایک رہنما دستاویز ہے، آج تک 70 سالوں میں پاکستان کی یہ تاریخ مختلف رنگوں میں لیکن اسی سوچ کیساتھ دہرائی جاتی رہی ہے جس کا ذکر ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا ہے۔

کتاب کے آخری حصہ میں لکھتے ہیں “پاکستان کو مویشیوں کے فارم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور اسکے بدنصیب دھتکارے عوام کو غلیظ جانوروں میں، لیکن ایک وقت آتا ہے جب غلیظ جانور بھی جان لیتے ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ ۔۔ انسانی تاریخ میں مکافاتِ عمل کی طرح ایک چیز ہوتی ہے اور تاریخی مکافات کا یہ اصول ہےکہ اسکے لئے آلہ جرم کا شکار ہونے والے نہیں بناتے بلکہ مجرم خود تیار کرتا ہے۔”

ذوالفقار علی بھٹو کو مار دیا گیا اسکے خاندان کو ملک بدر کر دیا گیا، اسکے کارکنان کو ننگی پیٹھوں پر کوڑے مارے گئے قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں، لیکن اسکی بیٹی ملک واپس آئی تو عوام دیوانہ وار اسکے پیچھے چل پڑے ، کیونکہ انسان کا جسم مرتا ہے ، نظریہ زندہ رہتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *