• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تین سالہ عیاد اپنے نانا کے قتل کا ذمہ دار کس کو ٹھہرا سکتا ہے؟۔۔رضوان عبدالرحمٰن عبداللہ

تین سالہ عیاد اپنے نانا کے قتل کا ذمہ دار کس کو ٹھہرا سکتا ہے؟۔۔رضوان عبدالرحمٰن عبداللہ

جانے قدرت کی کیا پوشیدہ مصلحت تھی کہ اس نے چند لمحوں میں ہی تین سالہ عیاد کو کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی طویل داستان سے آگاہ کر دیا۔ معصومیت اور لطافت کے پیکر اس ننھے کی عمر تو نانا کے گرد بیٹھ کر ان سے کہانیاں سننے کی تھی مگر آج اس سے، اس کے نانا پر بیتے ظلم کا ماجرا سنا جارہا ہے۔

عیاد جہانگیر کو معلوم ہے کہ اس کو بسکٹ اور چاکلیٹ سے پھسلانے والوں نے ہی ” ٹھک ٹھک گولیاں چلا کر اس کے بڑے پاپا کی جان لی”۔ وہ تو نانا کو خون میں لت پت کرنے والوں کی طرف بھی پتھر اُٹھا کر لپکا تھا، پھر شاید اس کو دنیا کے تمام پتھر اس قتل کے شریک جرم سات ارب 70 کروڑ آبادی کی خاموشی توڑنے کے لئے ناکافی نظر آئے۔

عیاد کے نانا کے قاتل جو اپنی اس سفاکیت پر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پرڈھول پیٹتے نظر آرہے ہیں، ان کا اصل امتحان تو یہ تھا کہ وہ انصاف کے ذریعے عیاد کے ذہن پر ثبت ان خونی ثبوتوں کو مٹا کر دکھاتے، پر یہاں پربھی قابضین اپنی ازلی بزدلی دکھا گئے۔

اب عیاد ضرور سوچے گا کہ اگر آزادی اتنی ہی بُری شے ہے تو دنیا کے باقی ملکوں کے باسیوں کو اس سے محفوظ کیوں نہیں رکھا جاتا! جس کا جواب خوف، بے یقینی اور مایوسی کی اسی فضا میں پنہاں ہے۔

پہلے تو عیاد اپنے نانا کے قتل میں 1947 میں قبائلی دستے بھیج کر پہل کرنے والوں کو شریک کرے گا، جن کی وجہ سے مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کشمیر کو آزاد رکھنے کے فیصلے کے بعد ہندوستان کے ساتھ فوری الحاق کرنے پر مجبور ہوا۔ آج یہی قوت کشمیرکے ایک تہائی علاقے کو بغل میں دبا کر بقیہ دو تہائی علاقوں کو نعروں کی مد میں اپنی ملکیت گردانتی ہے۔

معصوم عیاد تو کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلانے والوں کی ان “چالوں” کو بھی مورد الزام ٹھہرائے گا، جن کا سرکاری موقف تو کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا ہوتا ہے مگر پس پردہ مذہبی حلقوں کو استعمال کر کے گاہے بگاہے ان کے لئے سامان خفت پیدا کرتے ہیں۔

اور تو اور عیاد کو ان کی سرزمین پر حق جتلاتی دونوں ممالک کی غیر مذہبی اور سیکولر سیاسی جماعتوں  کی انسانی حقوق کی پالیساں بھی مبہوت کرسکتی ہیں جن کو جانے کیوں کھلی آنکھوں سے کشمیریوں کا خون، خون ں نہیں دِکھتا۔

ننھا کشمیری تو امت مسلمہ کی خودغرضی کو بھی نانا کے قتل کا مجرم گردانے گا کیونکہ اسلامی ممالک کی سب سے بڑی تنظیم او آئی سی آج تک مقبوضہ کشمیر جیسے اہم ترین مسئلے پرایک اجلاس نہیں بلاسکی۔ مالدار خلیجی ممالک کے موقف میں تو معاشی مفادات کی وجہ سے اب  اعلیٰ الاعلان  کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ بنا کرپیش کرنے کی ممانعت ہے۔

رہ گئی دنیا سے کشمیریوں کے لئے سفارتی اور اخلاقی امداد بٹورنے کا دعوی کرنے والوں کی بات، تو ان کی “اوقات” بھی عیاد کی آنکھوں کے سامنے مزید نکھر کر آ گئی ہو گی، کہ کس طرح وہ یو این ایچ آر سی کے اجلاس میں کشمیر کی قراردار کے لئے مطلوبہ حمایت حاصل نہ  کر کے منہ کی کھا گئے۔ ان کی کشمیر  کاز سے سنجیدگی کا پیمانہ تو کوالالمپورسمٹ سے بھی تائب ہونے والی وجوہات سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

ان منافقانہ رویوں نے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھے عیاد کو یہ ضرور باور کرا دیا ہوگا کہ کشمیر کا حل کشمیریوں کے سوا کسی کے پاس نہیں ہو سکتا اور ان کی ایک طاقتورعوامی تحریک ہی کشمیر کو جہنم میں بدلنے والوں سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *