مشکا گینگ۔۔عزیز خان/قسط 9

ASPاللہ ڈینو خواجہ کاتبادلہ احمد پور شرقیہ ہوگیا تھا ،ان کی جگہ نئے ASPڈاکٹر مجیب الرحمٰن تعینات ہوچکے تھے ،اسی طرح ذوالفقار چیمہ بھی تبدیل ہوچکے تھے اور نئے SSPملک اعجاز نے چارج سنبھال لیا تھا۔نئے SSPکافی شریف آدمی تھے ،ڈاکٹر مجیب الرحمٰن کا تعلق بھی کوئٹہ سے تھا،ان تبدیلوں کی وجہ سے صادق آباد تحصیل اور رحیم یار خان ضلع میں وارداتیں بہت زیادہ ہوگئیں تھیں۔20فروری کو ASPصادق آبادکے آفس میں کرائم میٹنگ تھی میں بھی دیگر SHOصاحباََن کے ساتھ میٹنگ میں موجود تھا کہ اچانک گن مین ASPنے اندر آکر اطلاع دی کہ چوک سوترا روڈپر واقع کارٹن فیکٹری میں پانچ کس مسلح افراد نے ڈکیتی کی ہے، فیکٹری کے گن مین کی مزاحمت پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کی، جس سے گن مین زخمی ہوگیاہے ،ایک ڈاکو کو لوگوں نے موقع پر قابوکر لیا ہے ،جبکہ بقیہ چار ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

میں منیر افضل خان کے ساتھ فوری طور پر موقع  پر پہنچ گیا، جہاں پرکارٹن فیکٹری میں ایک آدمی کو لوگوں نے پکڑ کر بیٹھایا ہوا تھا اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے۔پوچھنے پر اس نے اپنا نام عیسیٰ لولائی بتایا،پہلے تو حسبِ  معمول ملزم عیسیٰ اپنے آپ کو بے گناہ کہتارہا ،مگر تھوڑی سی  خدمت کے بعد اس نے بتایا کہ وہ کندکوٹ سندھ کا رہائشی ہے اس کے ساتھ اس واردات میں بہادر علی عرف مشکا شیخ، علی محمد شیخ، احمد علی شیخ اورشہزادہ شیخ تھا۔مزید بولا کہ بہادر علی اور علی محمد کا گھر کشمو ر میں ہے ۔۔

ہم لوگ وہاں سے بس میں بیٹھ کر آئے تھے، یہ لوگ بھی بس میں ہی واپس جائیں گے۔میں نے فوری طور پر منیرافضل خان کو کہا کہ ہمیں سندھ جانے والی تمام بسوں کی تلاشی لینی چاہیے ہوسکتاہے   یہ لوگ واپس جائیں۔ پنجاب سے سندھ جانے کے لیے صرف دو راستے ایسے ہیں جہاں سے گزرا جاسکتا ہے۔ایک چیک پوسٹ داعوا لہ اور دوسری چیک پوسٹ کوٹ سبزل اگر ان راستوں کے علاوہ کوئی گزر جائے تو وہ ہیڈگڈوبیراج سے ضرور گزرے گا۔

ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ فوری طور پر گڈو بیراج پہنچ کر ناکہ بندی کرلی جائے تاکہ ملزمان کسی بس یا سواری میں وہاں سے گزریں تو گرفتار کر لیا جائے۔صبح ہو گئی ہم نے وہاں کھڑے ہوکر تمام بسیں اور ویگن چیک کرلیں مگر ملزمان میں سے کوئی بھی وہاں سے نہ گزرا۔عیسٰی لولائی ملزم نے تھانہ ٹھل میں ملزمان شہزادہ اور احمد علی شیخ کا گھر دیکھا ہوا تھا ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہاں ریڈ کرلیا جائے چنانچہ ہم لوگ کند کوٹ سے گزر کر ٹھل پہنچے تھانہ پر اطلاع دیے بغیر ہم نے احمد علی شیخ کے گھر ریڈ کیا مگر اس کے گھر میں کوئی نہ تھا۔وہاں سے ہمیں ایک موٹر سائیکل ہنڈا سی ڈی 70ملی جس پر رحیم یار خان کا نمبر لگا ہوا تھا ،پوچھنے پر عیسٰی لولائی نے بتایا کہ یہ موٹر سائیکل میں نے بہادر علی اور احمد شیخ نے تھانہ احمد پور لمہ کے علاقہ سے ایک ماہ قبل چھینی تھی۔موٹر سائیکل پر نیاشادی شدہ جوڑا آرہا تھا۔ہم نے دلہن کے زیورات بھی اتروا لیے اور لڑکی کے ساتھ بہادر علی عرف مشکا اور احمد شیخ نے اس کے خاوند کے سامنے زبردستی زنا بھی کیا۔جوں ہی ہم موٹر سائیکل لے کرٹھل سے نکلے تو سند ھ پولیس کی دو گاڑیوں نے ہمیں روکنے کی کوشش کی لیکن ہم نہ رکے۔سندھ میں پولیس کبھی بھی پنجاب پولیس کی مدد نہیں کرتی بلکہ مسائل پیدا کرتی ہے۔

واپسی پر کشمور کے قریب ایک ہوٹل پر رک گئے ،ملازمین نے نہ تو رات کا کھانا کھایا اور نہ ہی صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا۔جیسے ہی ہماری گاڑیاں رکیں ،تو عیسٰی لولائی نے تھوڑی دور بیٹھے ہوئے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا کہ” وہ بہادر علی عرف مشکا بیٹھا ہوا ہے”۔عیسٰی لولائی کا اشارہ دیکھتے ہی بہادر علی ملزم نے چار پائی سے چھلانگ لگائی اور ساتھ بہنے والی نہر میں کود گیا۔ہیڈ گڈو سے نکلنے والی یہ نہر بہت بڑی اور گہری ہے۔ہم سب نے نہر کی طرف دوڑ لگائی مگر نذیر نیازی ڈرائیور نے بھی نہر میں چھلانگ لگا دی۔اس کے ساتھ ایک اور کانسٹیبل بھی نہر میں کود گیا، جوں ہی یہ بہادر علی ملزم کے قریب پہنچے تو اس نے پستول نکال کر ان پر فائر کرنے کی کوشش کی مگر پانی میں ہونے کی وجہ سے پستول نہ چلا۔نذیر نیازی اور کانسٹیبل نے بہادر علی عرف مشکا کو قابو کر لیا اسے نہر سے باہر نکالا۔ہم سب کی محنت رنگ لائی اور ڈکیتی کا ایک اور ملزم بھی گرفتار ہوگیا۔واپسی پر ملزمان کو منیرافضل خان کے حوالے کردیا۔ تفتیش میں ملزمان نے تھانہ احمد پور لمہ کے علاقہ سے ایک ٹریکڑ ڈکیتی کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ SHOاحمد پور لمہ نے بتایا کہ موٹر سائیکل ہنڈا جو ہم نے احمد علی کے گھر سے برآمد کیا تھا کا مقدمہ درج نہیں تھا۔شاید شرمندگی کی وجہ سے مدعی نے مقدمہ درج نہیں کروایا ہوگا۔موٹر سائیکل کے نمبر سے مالک کا پتہ کروایا گیا تو وہ تھانہ پر آگئے موٹر سائیکل کا مالک نوجوان لڑکا تھا اور سید خاندان سے اسکا تعلق تھا۔میں یہ سوچ رہا تھا کہ جس خاوند کے سامنے اس کی بیوی کے ساتھ زیادتی کی گئی، وہ دونوں میاں بیوی کس طرح ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہوں گے۔شاید یہی وجہ تھی کہ انھوں نے مقدمہ درج نہیں کروایا ہوگا۔

مورخہ 3.03.1993کو میں تھانہ کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر موجود تھا کہ غلام قاسم گن مین نے مجھے اطلاع دی SHOاحمد پور لمہ بشیر احمد جموں نے بذریعہ وائرلیس اطلاع دی ہے کہ ملزمان عیسٰی لولائی،بہادر عرف مشکا اور اللہ رکھا کوش جو حوالات تھانہ احمد پور لمہ میں ریمانڈ جسمانی پربند تھے فرارہوگئے ہیں فوری طور پر تھانہ احمد پور لمہ پہنچیں۔میں نے بیڈ کے سرہانے رکھی اپنی کلاشنکوف اٹھائی، محرر تھانہ عاشق نے چھ جوان جو ہمیشہ میرے ساتھ رہتے تھے کو بھی بتا دیا تھاو،ہ بھی تیار تھے۔میں اپنی سرکاری گاڑی میں سوار ہوا اور احمد پورلمہ کی طرف روانہ ہوگیا۔میں احمد پور لمہ پہنچ گیا میرے پہنچنے سے پہلے ASPڈاکٹر مجیب بھی تھانہ پر موجود تھے ۔تھوڑی دیر بعد SHOبھونگ میاں مقبول، SHOصدر صادق آباد عباس اختر، SHOسٹی منیر افضل خان بھی تھانہ احمد پور لمہ پہنچ گئے۔فوری طور پر اپنے اپنے ملازمین کے ساتھ ملزمان کی تلا ش میں روانہ ہوگئے۔جوں ہی چک 31/NPکے قریب پہنچے تو تین کس افراد پیدل جاتے نظر آئے جوں ہی نزدیک پہنچے تو انھوں نے ایک باغ میں چھپنے کی کوشش کی ۔تمام نفری نے باغ کو گھیرے میں لے لیا اور آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھے تو اچانک آم کے درختوں کی طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔میں نے چھوٹے وائرلیس سیٹ پر کال کی کہ ایک طرف سے فائرنگ کی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ چاروں طرف سے فائرنگ کرنے سے اپنے ہی ملازمین کا نقصان ہوجائے۔تھوڑی دیر بعد فائرنگ رک گئی SHOاحمد پور لمہ بشیر جموں نے قریب جاکر دیکھا توایک ملزم اللہ رکھا زخمی حالت میں ملا جس کے پاس سے ایک ڈبل بیرل 12بور بندوق بھی ملی۔اس نے بتایا کہ یہ بندوق انھوں نے حوالات تھا نہ سے بھاگتے ہوئے پٹھان چوکیدار سے چھینی تھی، ساتھ میں کارتوسوں کا ایک تھیلا بھی تھا، جو بہادر مشکا    کے پاس تھا۔کافی دیر بقیہ دو ملزمان کو تلاش کرتے رہے اللہ رکھا ملزم کو ایک گاڑی میں صادق آباد ہسپتال روانہ کردیا کافی تلاش کے بعد درختوں کے ایک جھنڈ میں سے بہادر علی عرف مشکا اور عیسٰی لولائی کی لاشیں بھی مل گئیں۔ابھی ہم موقع  پر موجود تھے کہ احمد پور لمہ کی سرکاری گاڑی کے ڈرائیور نے اطلاع دی کہ وہ زخمی ملزم اللہ رکھا کو لے کر ہسپتال پہنچا ڈاکٹروں کے طبی امداد دینے سے پہلے ہی وہ ہلاک ہوچکا تھا۔باقی کاروائی SHOاحمد پور لمہ نے کرنی تھی۔ اللہ رکھا ملزم ڈکیتی کے علاوہ اغواء  برائے تعاوان کے مقدمات میں بھی ملوث تھا۔عیسٰی لولائی اور بہادر علی عرف مشکا بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔شاید اب وہ نیا شادی شدہ جوڑا جوایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا ان کے دل کو بھی کچھ سکون ملا ہوگا۔

میں نے اپنی پولیس کی ملازمت میں یہ بات دیکھی کہ مخلوق خدا کو اذیت دینے والے ملزمان کی زندگی بہت کم ہوتی ہے خاص طور پر وہ جرائم پیشہ افراد جو دوران واردات خواتین کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، ان کی موت ہمیشہ عبرت ناک ہوتی ہے۔پولیس کی ملازمت میں نئے آنے والے افسران کو بس اتنا کہوں گا کہ واردات کے بعد ثبوت اکٹھے کرنا اور فوری طور پران جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کی کوشش کرنے سے واردات ٹریس ہوجاتی ہے اور ملزمان بھی پکڑتے جاتے ہیں۔ اگر ہم فوری طور پر رات کو ناکہ بندی نہ کرتے اور ملزمان کے گھروں پر ریڈ نہ کرتے تو شاید یہ موٹر سائیکل نہ ملتا اور ایک ایسی سنگین واردات جسکا مقدمہ درج ہی نہیں کرایا گیا تھا ٹریس نہ ہوتی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *