• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط10/پروفیسر حکیم سید صابر علی

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط10/پروفیسر حکیم سید صابر علی

استنبول ایکیوریم
آج استنبول میں پانچواں اور آخری دن تھا،سارے گروپ کو میزا ب ٹریول ایجنسی کی طرف سے اجازت تھی کہ اپنی مرضی سے کسی بھی تفریح گاہ کا انتخاب کریں۔لاہور کے نوجوان خالد نے سارے گروپ سے رقم برائے سیاحت جمع کی،اورمنی بس کرایہ پر لی۔۱۱ بجے قافلہ جو 25افراد پرمشتمل تھا،جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،ہوٹل سے نکلے۔

آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد استنبو  ل ایکیوریم پہنچے،ٹکٹ لیا،اور شیخ شاہد اور میر آصف زندہ دل نواجوان جن کا تعلق جلال پور جٹاں سے تھا،میرے ساتھی تھے۔اس ایکیوریم  میں ڈیڑھ گھنٹہ سیاحت کا وقت دیا گیا،اس ایکیوریم  میں ہزاروں قسم کی چھوٹی بڑی مچھلیاں شارک،ڈولفن اور دیگر مچھلیاں پانی میں تیرتی نظر آئیں۔ایک جگہ سر سوراخ میں ڈال کر مچھلیوں کے نظارے کا موقع دیا گیا،چھوٹی مچھلیوں میں کاغذ کی طرح شفاف اور پولی تھین کی طرح چھلی نما مچھلیاں رنگین خوبصورت رنگوں کی مچھلیاں پتھروں میں روشنی چھوڑتی مچھلیاں اللہ تعالی کی قدرت کاملہ اور خالقِ کائنات کی حسین جاذبِ نظر مخلوق کو دیکھ کراللہ تعالیٰ کی طاقت اور قوت ِ تخلیق کو تسلیم کیے بغیرچارہ نہیں۔
اسی ایکیوریم کے اندر ایک مصنوعی جنگل بنایا گیا ہے،جہاں گرتی آبشاروں،کہیں برستی بارش اور کہیں سورج کی تابانی دکھائی گئی ہے،خوبصورت منظر کے علاوہ اسی حصہ میں گرمی اور حبس کا احساس ہوا۔

اسی ایکیوریم میں ایک جگہ پینگوئن کا شاندار منظر بھی ہے۔سرد ترین علاقے میں رہنے والے پینگوئن جس تیزی کے ساتھ خوراک کے لیے پانی میں لپکتے وہاں پانی کے بلبلوں کی بہار دیکھنے والی ہوتی، یہ خوبصورت مخلوق،برف،سردی میں ٹہلتی قدرت کی صناعی کی آئینہ دار تھی۔ایک طرف دو بڑے بڑے مگر مچھ بھی شیشے کے اندر آرام کرتے نظر آئے،جن کے بڑے بڑے چہروں کو دیکھ کر خوف آتا تھا۔کئی قسم کے مینڈک بھی چھوٹے چھوٹے شیشے کے فریموں میں رکھے گئے تھے،ایکیوریم کی سیاحت کے بعد ہماری اگلی منزل حضرت ایوب انصاری رض کا مزار تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply