جیالے اتنے ڈھیٹ کیوں تھے؟ -انعام رانا

مئی کے نسبتاً  ذرا کم گرمی والے موسم میں چار دن جیل میں کیا گزارنے پڑے، تحریک انصاف کے کئی رہنما یوں پگھلے جیسے موم سے بنے ہوں۔ کسی کو روتی ہوئی بیٹی توڑ گئی تو کسی کو گیارہ سال کا بیٹا۔ بلکہ انقلاب کی تلاش میں لندن پلٹ انقلابی خاتون نے ہمیں بتایا کہ جیل میں اتنی گرمی ہوتی ہے کہ ہمیں ایک دن گزارنا پڑے تو پتہ چلے۔ اور تو اور جٹاں دا منڈا، چھین کر آزادی مانگتے ہوے ٹوئٹر پہ ہی ڈھے گیا۔

میرے بہت سے انصافی دوست اس میں بھی رستہ دے رہے ہیں۔ اَخے اس وقت جان بچانا بہتر ہے، وہ جی جیل کی سی کلاس کی سختی میں فلاں سولہ دن گزار گئی بہت ہمت ہے۔ میرے ان نوجوان دوستوں نے دراصل جدوجہد کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ وہ اس سیاسی دور میں جوان ہوئے ہیں جب سیاست نے ماضی کی نسبت دوستانہ رویہ اپنا لیا تھا۔ اور تو اور اب “مہربان” بھی بس دھمکی والا فون کر کے چپ کر جاتے تھے کہ باز آؤ۔ ان دوستوں کو معلوم ہی نہیں کہ جیل کی سختیاں سیاسی کارکنوں کے ماتھے کا جھومر رہی ہیں۔ سو ان موم کے پُتلوں کو بلاوجہ تقدس نہ  دیجیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے آپ کی آنکھوں میں خواب، کانوں میں پروپیگنڈہ  اور ہاتھوں میں پتھر دیے   کہ انقلاب لائیں گے، بہتر پاکستان بنائیں گے اور جب سختی کا وقت آیا تو ان کو گرمی لگ گئی۔ ذرا سی تپش اور یہ پگھل گئے موم کے پُتلے۔ یہ آپ کے ہیرو نہیں، آپ کے مجرم ہیں۔

میں اور آپ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے جب ضیا ء نام کا جبر اس ملک پہ مسلط ہُوا تھا۔ ہاں مجھ جیسے جو اسکے دور میں پیدا اور بڑا ہونا شروع ہوئے شاید پھر بھی کچھ نا کچھ جانتے ہیں کہ سب ہمارے اردگرد ہو رہا تھا۔ لیکن ذرا تلاش کریں تو آپ کو اس دور میں “جیالا” نامی مخلوق ملے گی۔ کوڑے، عقوبتیں، موت، تشدد کیا نہ  تھا جو انھوں نے نہیں  بھگتا۔ آج جو” خاتون کے ساتھ کیا ہو گیا” سوچ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں ان کو ساجدہ اور شاہدہ جبیں نامی خواتین کو پڑھنا چاہیے۔ کسی کی شلوار میں چوہے چھوڑے گئے تو کسی کا جسم سگریٹ سے داغدار ہُوا۔ لیکن جسم ٹوٹے تو ٹوٹے، ہمت نہیں ٹوٹی، خواب نہیں ٹوٹے۔

میں سوچتا ہُوں اتنے تشدد ،اتنی بربریت کے باوجود جیالا آخر ٹوٹا کیوں نہیں؟ان کو گرمی کیوں نہ  لگی، موت کا خوف کیوں نہ  آیا، بیٹے بیٹی کے آنسو کیوں نہ روک سکے۔

فقط ایک جواب ملتا ہے، کہ انکے پاس اپنے لیڈرز کی مثال تھی۔ بھٹو نے جس بہادری سے قید اور پھر موت کا سامنا کیا وہ انکا آئیڈیل تھا۔ جب وہ قربانیاں دے رہے تھے تو انکے لیڈر کی بیٹی جیل میں اس حال میں تھی کہ جسم پھوڑوں سے بھر چکا تھا، کان کے انفیکشن کی وجہ سے درد خون بن کر رگوں میں دوڑتا تھا مگر وہ ٹوٹنے سے انکاری تھی۔ نصرت بھٹو ایک علیحدہ جیل میں بند ایسے ہی بہادری سے تکالیف برداشت کر رہی تھی۔ لیڈرز کی یہی ہمت تھی جو  کارکن کا حوصلہ بن گیا، اسکے زخموں پہ مرہم بن گیا، اسکی گرم جیل کو گلزار کر گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

افسوس!  تحریک انصاف کا کارکن تو آج فوجی عدالت تک بھگت رہا ہے، تشدد سہہ رہا ہے لیکن عمران خان سے لے کر دوسری صف کی قیادت تک انکے پاس ہمت اور برداشت کی وہ مثالیں موجود نہیں جو دیر تلک ان کو ٹوٹنے سے روک سکیں۔ جن کے لیڈر بھٹو نہیں بن سکتے، ان کے کارکن بھی جیالے نہیں بن پاتے۔

Facebook Comments

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply