مالیکیول کی تصویر ۔ جین (9) ۔۔۔وہاراامباکر

ایک مالیکیول کی تصویر کیسے اتاری جائے؟ کیل ٹیک سے تعلق رکھنے والے فزیکل کیمسٹ لائنس پالنگ اور رابرٹ کورے نے اس کو حل کیا تھا۔ اس کا جواب کرسٹلوگرافی اور ایکس رے ڈیفریشکن تھا۔ اس کا بنیادی خیال یہ تھا کہ آپ ایک تھری ڈی شے کی شکل جاننا چاہتے ہیں لیکن اس کو دیکھ نہیں سکتے، اس کے کنارے محسوس نہیں کر سکتے لیکن اس کی ایک خاصیت ہے جس کو استعمال کر سکتے ہیں اور وہ سایہ ہے۔ اگر ایک کیوب ہے اور آپ مختلف زاویوں سے اس پر روشنی ڈالتے ہیں اور اس کے بننے والے سائے کی شکل نوٹ کرتے جاتے ہیں۔ اگر ایک طرف سے ڈالا تو ایک سائے کی ڈائمنڈ شکل بن گئی۔ ایک اور زاویے سے ٹراپیزائیڈ بن گیا۔ یہ ایک بہت محنت والا کام ہے لیکن جیسے مجسمہ سازی میں چہرہ تراشا جاتا ہے، ویسے کئی ملین سایوں کی مدد سے ایک تھری ڈائمنشنل شکل نکالی جا سکتی ہے۔

بے وقوف مالیکیول ۔ جین (8) ۔۔وہاراامباکر

ایکسرے ڈیفریکشن کا یہی اصول ہے۔ یہ “سائے” ایکسرے کا مالیکیول سے ٹکرا کر بکھرنا ہے۔ مالیکیولر دنیا میں روشنی کی طاقتور صورت ایکسرے ہے۔ اب یہاں پر ایک اور اضافی مسئلہ ہے۔ ایسا تو ہے نہیں کہ مالیکیول اپنی تصویر بنانے کے لئے ایک پوز میں بیٹھے رہیں گے۔ مائع یا گیس کی شکل میں مالیکیول بہت ہی تیزرفتاری سے حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک ملین حرکت کرتے کیوبز پر روشنی ڈالیں تو صرف شور ہی ملے گا۔ اس کا ایک بڑا دلچسپ حل ہے اور وہ یہ کہ مالیکیول کا کرسٹل بنا لیا جائے جس سے ایٹم ایک پوزیشن میں ساکن ہو جاتے ہیں۔ اب اس پر ایکسرے کے سکیٹر کی مدد سے ان کی شکل معلوم کی جا سکتی ہے۔

پالنگ اور کورے نے اس کی مدد سے کئی پروٹین کے حصوں کے تھری ڈی ماڈل بنائے تھے۔ اس تکنیک بنانے پر پالنگ کو 1954 میں نوبل انعام ملا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ طریقہ تھا جس سے مورس ولکنز نے ڈی این اے کی تصویر کھینچنے کا پراجیکٹ شروع کیا۔ ان کے ساتھ کام کرنے ایک نوجوان خاتون روزالنڈ فرینکلن آ گئیں۔ ولکنز خالص ڈی این اے ایک سوئس لیبارٹری سے حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس کے ریشوں کی تصویر کھینچنا اندازے سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ روزالینڈ نے اس کی وجہ معلوم کر لی۔ ڈی این اے نمی اور خشکی والی سٹیٹ میں اپنی شکل بدل لیتا ہے۔ اس کا حل نمی کی سطح کے اضافے سے نکال لیا۔ یہ ایک بہت ہی انوکھا حل تھا۔ نمکین پانی میں ہائیڈروجن کے بلبلوں سے اس کو حل کیا گیا تھا جس سے ڈی این اے کے ریشے ڈھیلی پوزیشن میں آ گئے۔ چند ہی ہفتوں میں فرینکلن بہت اچھی ایکسرے فوٹوگرافی کرنے کے قابل ہو گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مورس ولکنز نے 1951 میں سائنس کی کانفرنس میں میں اپنے کام کا بتایا۔ ان کے طویل اور خشک لیکچر کی آخری سلائیڈ میں ڈی این اے کی اس وقت کی لی گئی تصویر سکرین پر دکھائی گئی۔ یہ نکتے اور دھبے دیکھ کر کاپن ہیگن سے آ کر اس کو سننے والے ایک نوجوان کا ذہن اسی میں پھنس گیا۔ یہ نوجوان واٹسن تھے۔ انہوں نے واپس جاتے ہی کہا کہ وہ کیمبرج جانا چاہتے ہیں۔ وہ اس تصویر کو اپنے دماغ سے نہیں نکال پا رہے۔ واٹسن نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ڈی این اے کے سٹرکچر کا پتا لگا کر دم لیں گے۔ “زندگی کا راز اسی میں تو لکھا ہے۔ ایک ماہرِ جینیات کے لئے اگر دنیا میں حل کرنے کا کوئی بھی مسئلہ ہے تو وہ صرف یہی ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تصویر کے پیچھے وہ کیمبرج پہنچ گئے۔ یہاں پر ان کی ملاقات فرانسس کرک سے ہوئی۔ واٹسن سے بارہ سال بڑے کرک سے ان کی پارٹنرشپ فوری ہی ہو گئی۔ اس دوران پالنگ یہ اعلان کر چکے تھے کہ انہوں نے پروٹین کے سٹرکچر کا سب سے بڑا معمہ حل کر لیا ہے۔ پروٹین امینو ایسڈ کی زنجیروں سے بنے ہیں۔ یہ زنجیریں فولڈ ہوتی ہیں تو ذیلی سٹرکچر بنتے ہیں جو فولڈ ہو کر بڑے سٹرکچرز بناتے ہیں۔ (جیسے ایک زنجیر کوائل کی صورت میں ایک سپرنگ بنائے اور پھر یہ سپرنگ ایک کرّے کی شکل میں فولڈ ہو جائیں)۔ پالنگ نے یہ بنی تلاش کر لیا کہ زیادہ تر پروٹین ایک سنگل ہیلکس کی صورت میں ہوتے ہیں۔ اس کا اعلان انہوں نے ایک ڈرامائی طریقے سے کانفرنس میں کیا تھا۔ افواہ یہ تھی کہ پالنگ نے اپنی توجہ ڈی این اے کی طرف کر لی ہے۔

پالنگ کا پیپر اپریل 1951 میں شائع ہوا۔ مساوات اور اعداد سے بھرا ہوا یہ پیپر ماہرین کے لئے بھی سمجھنا آسان نہیں تھا۔ کرک، جو ریاضی میں ماہر تھے، انہوں نے پہچان لیا کہ انہوں نے اپنا طریقہ اس ریاضی کی آڑ میں چھپایا ہے۔ کرک کا تبصرہ تھا، “پالنگ کا اصل طریقہ کامن سینس ہے نہ کہ ریاضیاتی منطق۔ کچھ جگہ پر ریاضی کی ضرورت تھی لیکن بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں پر الفاظ ہی کافی تھے”۔ الفا ہیلکس کو ایکسرے کے ذریعے نہیں ڈھونڈا گیا۔ اس میں اہم ٹول کاغذ اور پنسل تھے اور یہ پہچاننا کہ کونسا ایٹم کس کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے۔ مالیکیولر ماڈل بچوں کے کھیلنے والے بلاک سے بنائے گئے تھے۔

واٹسن اور کرک نے یہاں ایک فیصلہ لیا۔ کیا ڈی این اے کا مسئلہ بھی پالنگ کے طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے؟ ایکسرے مدد کر سکتا ہے لیکن بائیولوجیکل مالیکیولز کو تجرباتی طور پر پہچاننا بہت ہی زیادہ وقت طلب کام ہو گا۔ کرک کا کہنا تھا کہ “یہ ویسے ہو ہے جیسے کسی پیانو کو شکل اس سے پہچاننے کی کوشش کی جائے کہ یہ سیڑھیوں پر سے گرتے وقت کیسی آواز دیتا ہے۔ لیکن کیا پتا کہ ڈی این اے اتنا سادہ ہو، اتنا خوبصورت ہو کہ اس کو کامن سینس سے پتا لگایا جا سکتا ہو؟ کیا اس کا ماڈل اس طریقے سے تیار کیا جا سکے گا؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف روزالنڈ فرینکلن کو کھلونے والے ماڈلز سے کھیلنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ایک کے بعد اگلی تصویر انہیں آگے بڑھا رہی تھی۔ تجرباتی ڈیٹا ماڈل بنائے گا، نہ کہ ماڈل بنا کر اس پر تجربہ کیا جائے گا۔ 21 نومبر 1951 کو انہوں نے کالج میں ایک اپنے کام پر ایک لیکچر دیا۔ ڈی این اے کئی زنجیروں والا بڑا سا ہیلکس لگ رہا تھا، جس میں فاسفیٹ باہر کی طرف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرک اور واٹسن اپنا مالیکیولر سٹرکچر حل کر رہے تھے۔ وہ ایک ٹرپل ہیلکس تک پہنچ گئے تھے۔ فاسفیٹ اس میں اندر کی طرف ہوں گے۔ یہ اس قدر نفیس نہیں تھا جتنا ان کا خیال تھا۔ انہوں نے فرینکلن اور واٹسن سے اس پر رائے لینے کا فیصلہ کیا۔ ولکنز، فرینکلن اپنے ایک سٹوڈنٹ گوسلنگ کے ساتھ ٹرین میں کیمبرج پہنچے۔ ان کو بہت امید تھی کہ یہ اہم معمہ حل ہونے لگا ہے۔

واٹسن اور کرک نے ماڈل بے نقاب کیا۔ ولکنز نے دیکھ کر مایوسی سے سر ہلایا۔ فرینکلن اتنی ڈپلومیٹک نہیں تھیں، وہ پھٹ پڑیں۔ “یہ کیا بے ہودہ ماڈل ہے؟ یہ کوئی بھدی، ٹوٹی پھوٹی، آفت زدہ شے ہے۔ جیسے زلزلے کے بعد کوئی اونچی عمارت ڈھے پڑی ہو۔ یہ غلط سے بھی بدتر ہے”۔ گوسلنگ بتاتے ہیں، “روزالینڈ نے اس کا تیا پانچہ کر دیا۔ ایک ایک کر کے اس میں غلطیاں گنوائیں اور اس کو مسترد کر دیا۔ اس کو بس ٹھڈا مار کر گرا دینے کی ہی کسر رہ گئی تھی”۔

کرک نے غیرمستحکم زنجیروں کو استحکام دینے کے لئے بیچ میں فاسفیٹ سے ریڑھ کی ہڈی بنائی تھی۔ لیکن فاسفیٹ منفی چارج لئے ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کو دھکیلیں گے اور مالیکیول ٹوٹ جائے گا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کرک کو بیچ میں مثبت چارج والے میگنیشیم کا اضافہ کرنا پڑا تھا۔ روزالینڈ فرینکلن کے تجربات سے لی گئی پیمائشیں بتا رہی تھی کہ میگنیشم اس کے درمیان میں نہیں۔ اس سٹرکچر کو اتنا ٹائٹ پیک کر دیا تھا کہ اس کے بیچ میں زیادہ پانی نہیں آ سکتا تھا۔ اور یہ پانی فرینکلن کی پہلی دریافت تھا۔

یہ سیشن کرک کے لئے شرمندگی کا وقت تھا۔ وہ سر جھکائے یہ سب تنقید سن رہے تھے۔ اپنی زندگی میں پہلی بار اعتماد ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ روزالینڈ فرینکلن کے لئے یہ لڑکے اور ان کے کھلونے وقت کا ضیاع ثابت ہوئے تھے۔ انہوں نے ساڑھے تین بجے کی ٹرین پکڑی اور واپس آ گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *