• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلمہ بدکردار ہی کہتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے۔۔ غیور شاہ ترمذی

مسلمہ بدکردار ہی کہتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے۔۔ غیور شاہ ترمذی

SHOPPING

سنہ 1993ء کا واقعہ ہے۔ سکینڈری  سکول کے ایک 15/16 سالہ طالب علم کے اپنی 40 سالہ خاتون ٹیچر کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم ہو گئے جو اُس وقت 15 سے 17 برس کی عمر کے 3 بچوں کی ماں اور ایک بینکار کی بیوی تھیں۔ بریغت تروغنوث نامی اُس ادھیڑ عمر ٹیچر کی شادی چھوٹی عمر میں اُس وقت ہوچکی تھی جب وہ محض 20 سال کی تھیں اور اُس کا عاشق طالب علم نہ صرف بریغت سے 24 سال چھوٹا تھا بلکہ اُن کے ایک بیٹے سے بھی کم از کم 2 سال چھوٹا تھا۔ بریغت کو اُس کی بیٹی لارینس نے بتایا تھا کہ ان کے کیتھولک اسکول میں وہ “نو عمر عاشق” لڑکا سب سے ذہین ہے اور بہت خوبصورت بھی ہے۔ چند مہینوں بعد شروع ہونے والے اگلے ہی سیشن میں وہی لڑکا بریغت کی کلاس میں پہنچ گیا جہاں لارینس سے دوستی کا لطف اٹھانے والے اس نو عمر عاشق کو اُس کی ماں یعنی اپنی ٹیچر سے بھی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ دوسری طرف اپنے بینکار شوہر کی مصروفیت کی وجہ سے بور زندگی گزارنے والی بریغت کو بھی اس نوجوان کی خوبصورتی اور ذہانت نے بہت متاثر کیا اور اُس نے اپنی بیٹی کے دوست سے فورا” ہی تعلقات قائم کر لئے۔ جب اس ادھیڑ عمر ٹیچر کے شوہر اور اسکول کی انتظامیہ کو اس معاملے کا علم ہوا تو دونوں کی خوب جگ ہنسائی ہوئی جس ے نتیجہ میں اُس ٹیچر کو وہ ادارہ چھوڑ کر شہر کے دوسرے اسکول میں منتقل ہونا پڑا۔ نیز سکول انتظامیہ نے اُس بدکار شاگرد کو بھی اسکول سے نکال دیا جس کے بعد اُس نے اپنے شہر میں پھیلی بدنامی کی وجہ سے 170 کلو میٹر دور دوسرے شہر میں داخلہ لے لیا۔ اس لحاظ سے یہ ٹیچر اور طالب عمر خوش قسمت رہے کہ اُن کے خلاف کوئی پولیس کیس نہیں بن سکا کیونکہ ایسا کیس اگر درج ہو جاتا تو وہ ادھیڑ عمر ٹیچر اپنے نابالغ شاگرد کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے جرم میں (Paedophile) یعنی بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والی قرار دے کر جیل پہنچ جاتی اور ساری زندگی معاشرہ میں قابل نفرت ٹھہرتی۔

لیکن پھر بھی اگلے 13 برسوں تک وہ شاگرد اور ٹیچر جسمانی تعلقات میں رہے اور بدکاری کرتے رہے۔ نتیجتاً سال 2006ء میں اس ٹیچر بریغت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی اور اُس کے اگلے ہی سال اُس ٹیچر نے اپنے سابقہ شاگرد سے شادی کرلی۔ اس ٹیچر کا نام ایمانول مائکروں ہے اور وہ فرانس کا موجودہ صدر ہے۔ جس نے اپنی ماں کی ہم عمر شادی شدہ ٹیچر(جو کہ استاد ہونے کے حوالے سے بھی اس کی ماں تھی) سے کئی سالوں تک ناجائز تعلقات قائم رکھے اور پھر شادی کر لی۔ فرانسیسی صدر مائکروں کی موجودہ عمر 43 سال جبکہ اُس کی بیوی بریغت کی عمر 67 سال ہے۔ جس سنہ 2007ء میں ایمانوئل مائکروں اور بریغت تروغنوث کی شادی ہوئی تو اُس وقت تک مائکروں 32 سال اور تروغنوث 57 برس کی ہوچکی تھیں۔ ایمانوئل مائکروں اور بریغت تروغنوث کی کوئی اولاد نہیں ہے تاہم مائکروں اپنی بیوی بریغت کے پہلے شوہر سے ہونے والے 3 بچوں کے سوتیلے والد اور 7 بچوں کے سوتیلے دادا اور نانا بھی ہیں۔

ایمانوئل مائکروں نے ایک بینکار کی حیثیت سے اپنا کیریئر شروع کیا۔ بعد ازاں سنہ 2014ء میں وہ فرانس کی پچھلی حکومت کے صدر فرانسوا اولاند کی سوشلسٹ پارٹی نے اُسے وزیر خزانہ منتخب کیا۔ ایمانوئل مائکروں جب وزیر خزانہ کی حیثیت میں سرکاری اجلاسوں میں شرکت کرتا تو اُس کی بوڑھی بیوی بریغت بھی اس کے ساتھ ہوتی۔ اِن دونوں کو ہمیشہ تقریبات میں ایک دوسرے کے ساتھ دیکھا گیا اور یہ سلسلہ تاحال برقرار ہے۔ مائکروں نے سنہ 2016ء میں عہدے سے استعفیٰ دے کر اپنی الگ سیاسی پارٹی بنا لی۔ گزشتہ انتخابات میں مائکروں کی پارٹی نے یورپی یونین کے ساتھ الحاق برقرار رکھنے اور لبرل معاشی پالیسیوں کے حامی ہونے کا ایجنڈہ پیش کیا۔ انتخابی مہم میں فرانس کو اسلامی بنیاد پرستی سے نجات دلوانے کے عزم کا کئی مرتبہ اظہار کر چکاتھا۔ ان انتخابات میں مائکروں کی اصل حریف انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما ماری لا پین تھی جو فرانس کو یورپی یونین سے باہر نکالنا چاہتی ہیں۔ تاہم تارکین وطن اور مسلمانوں کے بارے میں مخالفانہ اور سخت گیر نظریات رکھنے کے حوالہ سے وہ مائکروں سے بھی زیادہ سخت نظریات رکھتی تھی۔ فرانسیسی عوام کی اکثریت چونکہ یورپی یونین کے ساتھ منسلک رہنا چاہتی تھی لہذا لوگوں نے مقبول عام سمجھی جانے والی لیڈر ماری لا پین کی بجائے جواں سالہ مائکروں کوووٹ کیا جس کے نتیجہ میں ایمانوئل مائکروں خود سے 2 سال بڑے بندے اور اپنی ہم عمر لڑکی کے سوتیلے والد ہونے کے ساتھ ساتھ فرانس کے کم عمر ترین صدر بھی منتخب ہو گئے۔

ایمانوئل مائکروں کو صدر منتخب ہونے کے بعد چند بڑے مسائل کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ کا بھی سامنا ہے۔ یہ مسئلہ فرانس میں لوگوں کے درمیان خاندانی سسٹم کی تباہ حالی ہے۔ فرانسیسی لوگ شادی کے نظام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بے جاء جنسی آزادی اور شادی کرنے کی صورت میں سخت قوانین کے اطلاق نے لوگوں کو شادی کے نظام سے دور کر دیا ہے۔ امسال 2020ء میں منعقد شدہ ایک تحقیق کے مطابق فرانس کی 60 فیصد آبادی ولد الزنا یعنی ناجائز بچوں پر مشتمل ہے۔ شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اندھی مادی ترقی میں مسحور فرانس میں آج کل اس بات کے چرچے زور و شور سے ہو رہے ہیں اور وہاں کے دانشور آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اُن کی اخلاقیات، خاندانی قربت اور ساجی اقدار میں گراوٹ ہی اُن کے تہذیبی زوال کا سبب بنیں گے۔ میگزین فلاڈلفیا دِی ٹریمپٹ (Philadelphia the Trumpet) کے رواں سال کے جولائی کی کور اسٹوری ہی یہ ہے کہ امریکہ سمیت مغرب اور خاص طور پر فرانس کا خاندانی و معاشرتی نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اسے اگر ان ہی حالات کے حوالے رکھا رہنے دیا جائے تو مغربی تہذیب جلد ہی مٹ جائے گی۔ مذکورہ ایڈیشن کا موضوع ہی تصویری انداز میں یہ رکھا گیا ہے کہ: ’’خاندان، تہذیب، اخلاقیات، تعلیم، مذہب، سماج، قانون، اخلاقی گراوٹ تشویش باک ہے‘‘؟۔ میگزین کے اندر ایک مضمون نگار لکھتے ہیں کہ تاریخ دان تہذیبوں کے صفحہ ہستی سے مٹنے کو بیماری، موسمی بدلاؤ، آبادی کا کم ہونا، سیاسی کشمکش، انسانی خروج، اقتصادی جمود، ٹیکنالوجی کا نہ ہونا یا خارجی حملے کو بطورِ سبب مانتے ہیں لیکن کیا ہتھیار، سائنس و ٹیکنا لوجی اور کثرت سے لوگوں کوذرائعِ معاش فراہم کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ تہذیب زندہ رہے گی؟۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ 1960ء کی دہائی کے مقابلے میں 2010ء سے 2020ء کی دہائی میں میں ایسے بچوں کی تعداد میں 60 فی صد کا اضافہ ہوا ہے جو بغیر شادی کے پیدا ہوئے ہیں۔ اِسی طرح سے طلاق کی تعداد میں بھی 40فی صد اضافہ ہوا ہے۔ مغرب اور فرانس میں 40 فی صد کا اضافہ ایسے بچوں میں ہوا ہے جنہیں اپنے باپ ہی کا پتا نہیں ہے کہ وہ کون تھا؟۔ ایسے لاکھوں بچوں پر مشتمل فرانسیسی معاشرہ تو خاندان کے تصور سے ہی نا آشنا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نظامِ معاشرت میں خاندان کا اہم رول ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ خاندان ہی سے معاشرت کی داغ بیل پڑ جاتی ہے تو بے جاء نہ ہو گا۔ چنانچہ اسلام نے خاندان پر اسی لئے زور دیا ہے کہ یہیں سے ملکوں اور قوموں کی تقدیر سنور یا بگڑ سکتی ہے۔ خاندان کا مطلب اس کے رسمی اکٹھ سے ہی پورا نہیں ہوتا بلکہ جس طرح کسی مشینری کے کل پرزوں کو جوڑ کر اس سے کوئی کام لینا اُ س کی حقیقی غرض و غایت کو واضح کر کے ایک حیثیت بخشتا ہے، اِسی طرح خاندان کا وجود میں آنا تب تک کوئی معنی  نہیں رکھتا جب تک وہ اپنی غرض و غایت میں پورا نہ اترتا ہو۔ اس غرض و غایت میں بچوں کا پالنا پوسنا اور ان کی صحیح تربیت کرنا، خاندان اور بین الخاندانی معاملات میں باہمی اخوت و پیار کا قائم ہونا، خاندان کے افراد کی طبی و نفسانی ضروریات کو پورا کرنا اور سماج میں ایک مربوط معاشرتی نظام کو جلا بخشنا کچھ فطری اور حقیقی مقاصد ہیں۔ جتنے بہتر انداز میں معاشرتی نظام کے اندر خاندان سے یہ مقاصد اخذ کئے جاسکتے ہیں، اُتنی ہی زیادہ ملک و جہاں کی زندگی اپنی پٹڑی پر صحیح ڈھنگ کے ساتھ چلے گی۔ اس کے برعکس اگر خاندان کے وجود کو چٹَی یا پریشانی سمجھ کر انسان اپنے سماجی حیوانیت کے پہلو کو نظر انداز کرکے محض خود کی ذات کے لئے جینا بہتر سمجھے تو قوموں کے زوال ہونے میں کوئی وجہ نہیں ہے۔

مادیت والی زندگی جینے کے عادی ترقی یافتہ ملک فرانس میں شرح پیدائیش خطرناک ھد تک نیچے گر چکی ہے۔ فرانس کی ایک ہزارآبادی میں سالانہ صرف 13 انسانوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ فرانس بنجر پن کے ڈرامائی دور سے گزر رہا ہے۔ نہ صرف فرانس میں افزائشِ نسل کی شرح افسوس ناک ہے بلکہ تہذیبی ورثے کی نئی نسل تک منتقلی کا معاملہ بھی خراب ہے۔ دوسری جانب فرانس میں مقیم 60 لاکھ مسلمانوں کی افزائشِ نسل کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی فرانس کی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں ہلچل پیدا کررہی ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگلی 3 دہائیوں میں مسلمانوں کی یہ آبادی دگنی سے زائد ہوسکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرانس کی مسلمان آبادی نسبتاً زیادہ جوانوں اور بچوں پرمشتمل ہے جبکہ باقی فرانس بڑھاپے کی دہلیز پر نظرآرہا ہے۔ دائیں بازو کی جماعتوں کی مسلمانوں کے خلاف منافرت انگیز مہمات کے باوجود فرانس کی نصف سے زائد آبادی مسلمانوں کے لئے نرم دوستانہ رویہ رکھتی ہے۔ اس صورتِ حال میں فطری طور پرمسلمان یورپ کی انسانی زندگی اور معاشرت کا اہم حصہ بنتے جارہے ہیں۔ لہٰذا فرانسیسی صدر ایمانوئل مائکروں کے مسلمانوں کے خلاف حالیہ بیان “اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے‘‘ کے پس منظر میں تیزی سے کم ہوتی مقامی فرانسیسی افزائشِ نسل کا دباؤ ہے جسے نسلی یا قومی خودکشی کہا جاسکتا ہے۔ اس بیان “اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے” کا دوسرا سبب دہشت گرد جنگ کی تباہ کاری ہے۔ اس جنگ نے لاکھوں مسلمانوں کو ترکِ وطن پر مجبورکیا۔ یہ مہاجرین اور تارکینِ وطن اس حال میں مغرب منتقل ہورہے ہیں کہ تہذیبی تصادم کا شعور رگ و پے میں سرایت کرچکا ہے۔ مہاجرین اور تارکین وطن مسلمانوں کی آبادکاری اور معاشرہ بندی اس قدر وسعت اختیار کرچکی ہے کہ اگر مستقبل میں مسلمانوں کی آمد مستقلاً روک دی جائے، تب بھی چند دہائیوں میں موجودہ آبادی یورپ کا اہم حصہ بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایمانوئل مائکروں جیسے بودے سیاستدانوں کا مسلم تہذیب مخالف رویہ مسلمانوں کی شناخت بدلنا چاہتا ہے، یعنی اُن پر مغربی اقدار مسلط کرنا چاہتا ہے۔

SHOPPING

یہی وجہ ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل مائکروں نے ملک میں اسلام کی ازسرنو تنظیم کا پروگرام پیش کیا ہے۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ یہ پروگرام فرانس کے سیکولر تشخص کا تحفظ کرے گا اور اسلام کے اثر و رسوخ کو محدود کرے گا۔ مائکروں کا کہنا ہے کہ اسی سال دسمبر میں اُس کی حکومت سنہ 1905ء میں متعارف کروائے گئے مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔ مائکروں کے اس بیان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ فرانس کا مسئلۂ “اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے‘‘ درحقیقت فرانسیسی تہذیب کا اپنا بحران ہے۔ اگر مسلمان ممالک میں دہشت گردی کے خلاف بہانے بنا کر جنگ نہ چھیڑی جاتی، اگر الجزائر کو فرانس کی مظلوم کالونی نہ بنایا جاتا، اگر مسلمان ملکوں کا اقتصادی استحصال نہ ہوتا، اگر یورپ کا خاندانی نظام مستحکم ہوتا تو یقیناً  فرانس کو مسئلہ  “اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے‘‘ کبھی درپیش نہ ہوتا۔ مگرایسا ہوا اور یہ ہونا ہی تھا۔ سادہ سی وجہ ہے مغرب کا تہذیبی بحران جسے وہ مسئلہ  “اسلام پوری دنیا میں بحران کا مذہب بن گیا ہے‘‘ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ درحقیقت خاندان کے معاشرتی تصور سے تیزی سے محروم ہوتی فرانسیسی تہذیب تاریخ کی تخریب کا ارتکاب کررہی ہے۔ وہ یہ برداشت ہی نہیں کر پا رہی کہ فرانسیسی تہذیب میں اب اُن کی جگہ غیر مقامی مسلمان اکثریت حاصل کرتے جائیں گے۔ اِسی لئے فرانسیسی سیاسی قیادت اِس بڑھتی انسانی تہذیب کا امکان مٹانا چاہتی ہے، لہٰذا وہ اسلام سے دشمنی کررہی ہے۔ یہ غیر فطری، غیر انسانی اور غیر تہذیبی رویہ ہے۔ یہ رویہ نتیجہ ہے فرانس میں ’’تیزی سے کم ہوتی ہوئی مقامی لوگوں کی افزائش نسل کا‘‘۔ اس مسئلے کے صرف دو ہی حل ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ فرانسیسی قیادت اسلام دشمنی چھوڑ کر بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف جائے اور فرانسیسی معاشرہ میں اسلام دشمنی کا خاتمہ کرنے کی طرف توجہ دے، جس کا امکان ممکن نظر نہیں آرہا۔ دوسرا حل تہذیبوں کے ٹکراؤ کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے جو فرانس میں ایک بہت خوفناک انسانی المیہ کی طرف بڑھتا جائے گا جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *