• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا عدالتوں کی کوتاہی ماواراے عدالت قتل کا جواز ہے؟ ۔۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج

کیا عدالتوں کی کوتاہی ماواراے عدالت قتل کا جواز ہے؟ ۔۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج

توہینِ رسالت کے مسئلے پر ہماری گزارشات پر بعض احبا ب مسلسل فرما رہے ہیں کہ جناب یہ ماورائے عدالت قتل کوئی کسی سے پوچھ کر نہیں کرتا ، یہ تو بس ہو جاتا ہے! اور آپ ماورائے عدالت قتل کو تو غلط قرار دیے جا رہے ہیں، لیکن عدالتوں اور نظام کی کوتاہیوں اور انصاف کی جلد فراہمی کے لیے کچھ نہیں لکھ رہے! سو آج ہم اس مسئلے کو لے رہے ہیں، ہم عدالتوں اور نظام کی کوتاہیوں اور ان کے نتائج کی ایک جھلک دکھا رہے ہیں۔ امید ہے یہ حضرات ان نا انصافیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی اسی نوع کی کارروائیوں کے معاملے میں ہمارے حق میں آواز بلند کریں گے۔

ایک غریب کی لڑکی کا علاقے کے وڈیرے کا لاڈلہ ریپ کرتا ہے، وہ چوری چھپے دائیں بائیں اس ظلم کے خلاف فریاد کی کوشش کرتا ہے، وڈیرہ اس کا منہ بند کرنے کے لیے اس کا سانس ہی بند کر دیتا ہے۔ غریب کا ایک بیٹا کوشش کر کے تھانے پہنچتا ہے۔تھانے دار صاحب وڈیرے کو فون کرتے ہیں کہ فلاں مصلی کا بچہ تمھارے خلاف شکایت لے کر آیا ہے!تھوڑی دیر بعد تھانے دار صاحب غریب کے بیٹے سے فرماتے ہیں: کل آئیے گا۔ غریب کا بیٹا گھر کی راہ لیتا ہے ، مگر گھر کبھی نہیں پہنچتا۔ غریب کے بقیہ بچے گاؤں چھوڑجاتے ہیں، کوئی انسانی حقوق والا انھیں ان کے زخموں کے مدواے کا کہتا ہے، بات میڈیا پر آتی ہے، شور مچتا ہے۔وزیر اعلیٰ  صاحب نوٹس لیتے ہیں۔لاڈلے اور وڈیرے کے خلاف ایف آر درج ہو جاتی ہے، ان کو یقین دلایا جا تا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے ، ظالم کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ کیس عدالت میں پہنچ جاتا ہے، سال پر سال گزرتے ہیں۔ پھر ایک دن پتہ چلتا ہے کہ انویسٹیگیشن میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر وڈیرے اور لاڈلہ صاحب کو بے گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اسی اثنا میں غریب کا چھوٹا بیٹا جوان ہو جاتا ہے۔ اس کو پورے نظام کی نا انصافیوں اور عدالتوں کی کوتاہیوں کے سکرین شاٹ دکھائے جاتے ہیں۔ ایک دن اسے خواب آتا ہے کہ اٹھ کھڑے ہو اور اعلان کرو کہ :

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے۔۔۔

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے،

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے،

ایسے دستور کو، صبح بےنور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا۔۔۔

اور پھر وہ بندوق اٹھاتا ہے، اور گھر سے نکل جاتا ہے۔ چلتے چلتے جنگلوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں کچھ ستم رسیدہ پہلے سے جمع ہیں۔ وہ ان کو اپنی داستان سناتا ہے۔ کیا دیکھتا ہے کہ ان کی داستانیں اس سے بھی الم ناک ہیں ۔ ایک کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی۔ ایک کی ساری فیملی ڈرون حملے میں ماری گئی تھی ۔و قس علی ھذا۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوفناک داستان۔ طے ہوتا کہ اس ظلم کا بدلہ لیا جائے گا۔ پھر ایک دن اس تھانے کو بم سے اڑایا جا تا ہے، جو وڈیروں کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ ایک دن خبر آتی ہے کہ ایک بڑے نیک نام جج صاحب کو سرِ راہ سر میں گولیاں مار دی گئیں۔کچھ دنوں بعد معلوم ہوتا ہے کہ ایک کچہری پر حملہ ہوا، جس میں کئی وکیل مارے گئے۔ ایک دن خبر آتی ہے کہ داتا دربار پر ایک خود کش بمبار پھٹ گیا ، جس میں کئی پولیس اہل کار اور بہت سے راہگیر اور زائرین جاں بحق ہو گئے۔ اگلے دن معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے جی ایچ کیو پر حملہ کر دیا۔ ہاہا کار مچتی ہے ، جس میں یہ سارے دانشور اور مولوی بھی شامل ہیں کہ دیکھیے جناب ہماری سوسائٹی دہشت گردوں کے ہاتھوں یر غمال بن چکی ، یہ آتے ہیں اور ہمارے جوان شہید کر دیتے ہیں، ہمارے پُر امن شہری مارے جا رہے ہیں، ہمارے افسروں اور اداروں پر حملے ہو رہے ہیں، ہمارے بزرگوں کے مزارات محفوظ نہیں ۔ مولوی صاحبان فتوے جارے کرتے ہیں : خود کش حملے حرام ہیں،نظام اور سٹیٹ کے خلاف کھڑے ہونا بغاوت ہے، باغیوں اور دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے، انصاف کے حصول کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ اداروں پر ہی حملے شروع کر دیے جائیں ،اور ریاست کے نظام کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جائے۔حالانکہ جن کو یہ لوگ دہشت گرد کہہ رہے ہیں انھوں نے کسی سے پوچھ کر یہ دہشت گردی نہیں کی ، ان سے تو” بس ہو گئی”۔ ان دانشور وں اور مولویوں میں کوئی ہے، جو ان ہیروز کا ساتھ دے، جنھوں نے ریپ ، قتل اور ظلم کو تحفظ فراہم کرنے والے نظام سے ٹکر لی۔ کوئی ہے جو بولے کہ جناب پہلے اپنی پولیس اور عدالتوں کو ٹھیک کرو تب ان لوگوں کی کارروائیوں کو دہشت گردی کہو! بس ہر طرف سے آواز آتی ہے کہ کوئی دہشت گرد بچنے نہ پائے، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ یہی سب، جو ماورائے عدالت قتل کو یوں ہلکا کرکے پیش کر رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، فلسفے جھاڑتے نہیں تھکتے کہ جناب کچھ بھی ہو کسی کے ساتھ جو بھی ہوا ہو، یوں نظام کو تلپٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

“ایسے لوگ کسی سے پوچھ کر نہیں کرتے ، وہ بس کر گزرتے ہیں؛عدالتیں ٹھیک کام کریں، تمام فیصلے وقت پر ہوں ،تو ایسے واقعات نہ ہوں۔” اس دلیل کو ایک اور زاویے سے دیکھیے: پولیس جو ماوراے عدالت قتل کرتی ہے، وہ بھی “ہوجاتا” ہے۔علاقے کے نیک نام پولیس افسر کا استدلال ہوتاہے کہ ملزم اتنی قتل کی وارداتوں میں مطلوب تھا ، اس نے اتنے ڈاکے ڈالے تھے، اتنے کرائے پر قتل کیے تھے،فلاں گینگ سے وابستہ تھا، اگر اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا تو کیس لمبا ہوجاتا، ممکن ہے اس کا گینگ کہیں پیشی پر جاتے اس کو چھڑا ہی لیتا، سو ہم نے علاقے اور سوسائٹی کو امن فراہم کرنے کی خاطر اسے پولیس مقابلے میں مار ڈالا۔ پولیس آئے روز یہ قدم اٹھاتی ہے، اور اسی نوع کی کارروائیوں میں کسی وقت کراچی کے محسود جیسے نوجوان بھی کسی راؤ انوار کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ پھر سارے دانشور پیٹتے ہیں کہ پولیس کو کس نے اختیار دیا کہ وہ کسی کو ماورائے عدالت مار ڈالے؟ تو جناب عالی! پولیس یہ کام کسی سے پوچھ کرکرتی ہے؟اس سے تو مجبوری میں ہوجاتا ہے! آپ اس کو اتنا بھی مارجن نہیں دیتے کہ عادی مجرموں کو ٹھکانے لگانے والے سوسائٹی کے امن و سکون کے ضامن اس عمل کے دوران میں کوئی ایک آدھ ایسا شخص بھی مارا جائے ، جس کا مارا جانا آپ کے نزدیک ظلم ہو۔ کم ازکم جب تک عدالت کا نظام ٹھیک نہیں ہوتا ،پولیس کو آپ ماوراے عدالت قتل پر معاف رکھیں کہ اس سے تو ایسا نظام اور پروسیجر کے مسائل کے سبب “بس ہو جاتا ہے”۔

ایجنسیاں جو بندے غیب کرتی ہیں اور کچھ مارے جاتے ہیں، وہ بھی “ہو جاتا ہے” ۔ ان کا استدلال ہوتا ہے کہ فلاں آدمی ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہا تھا، فلاں غیر ملکی ایجنسی یا تنظیم کا آلۂ کار تھا، اس کو ملکی مفاد میں پکڑ کر غائب کیا گیا ہے، جب کلیئر ہو گا چھوڑ دیا جائے گا۔ آپ سوشل میڈیا پر چیخیں مارتے ہیں کہ جی دیکھیے کسی کے عدالت میں مجرم ثابت ہوئے بغیر اسے یوں کیسے پکڑا جا سکتا ہے؟
ایک شخص کا بھائی ،باپ ، بیٹاقتل ہوتا ہے ،نظام اور عدالتیں انصاف نہیں دیتیں یا ملنے کا یقین نہیں ہوتا اور وہ تیش میں آ کر مخالف کے دس بندے مار دیتا ہے ، اس سے بھی “ایسا ہو جاتا” ہے، اس کے جرم کو تم یوں کیوں ہلکا نہیں لیتے؟ کوئی ڈاکو راہ چلتے ہوئے آپ کی گاڑی چھینتا ہے ، اور مزاحمت پر آپ کو قتل کر دیتا ہے، وہ” بھی ہوجاتا ہے اس بے چارے کا تو ارداہ آپ کو مارنے کا تھاہی نہیں ، وہ بھلا مانس تو آپ سے فقط پیسوں یا گاڑی کا مطالبہ کر رہا تھا۔آپ نے اسے ماوراے عدالت مارنا چاہا، تو اس نے ماورائے عدالت آپ کا قصہ تمام کر دیا۔ اس کا جرم اتنا بڑا کیوںسمجھا جائے؟
اور پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالتی پروسیجر میں جو کوتاہی ہوتی ہے، اس کا ذمے دارکسی زیر ِ حراست ملزم کو کیوں قرار دیا جائے ، عدالت ہی کو کیوں مجرم نہ ٹھہرایا جائے؟ جس زیر ِ حراست شخص کا ماوراے عدالت قتل کیا جا رہا ہے ، وہ تو خود عدالت کے رحم وکرم پر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ تو خود پریشان ہے خدا جانے اسے بری کیا جا تا ہےیا سولی پر لٹکایا جا تا ہے؟ اس کو ختم کرنے کی بجائے عدالت ہی کاکام کیوں تمام نہ کیا جائے۔

یہ چند مثالیں ہیں، ورنہ کتنے ہی مجرم ہیں جن سے جرم “بس ہو جاتا ہے”، اور بہت ساروں سے اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کو یا عدالت سے انصاف نہیں ملتا ،یا ملنے کی توقع نہیں ہوتی، یا معاشرہ اور نظام زیادتی کرتا ہے یا صحیح کام نہیں کر رہا ہوتا اورردعمل میں ان سے “ایسا ہو جاتا ہے”، تو ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی کبھی آپ نے یہ دلیل گھڑی کہ ایسا وہ کون سا ہم سے یا مولویوں سے پوچھ کر کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو سیدھی بات کریں کہ  مجرم بس مجر م ہے ، خواہ جس بھی محرک کے تحت ارتکابِ جرم کرے، نہیں تو اسی طرح باقی مجرموں کے جرم کو بھی ہلکا کر کے پیش کریں۔ اور جان رکھیں کہ اکثر جرائم کسی نہ کسی ظلم و ناانصافی ہی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سو عدالتی کارروائی میں تاخیر یا اس کے خدشے کے نتیجے میں ہونے والے ہر جرم کے لیے یہ جواز دینا پڑے گا کہ “ایسا ہو جا تا ہے، کون سا کوئی کسی سے پوچھ کے کرتا ہے”۔

حقیقت یہ کہ توہینِ رسالت کے مسئلے میں ایسے دلائل دینے والے لوگ شریکِِ جرم ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ یہ کہنے کی جرت نہیں کرتے کہ فلاں نام نہاد غازی نے جرم کیا ہے، اور اس کو سزا ملنی چاہیے، لیکن عدالتوں کا نظام بھی ٹھیک ہونا چاہیے، بلکہ اسی بات کی رَٹ لگاتے رہتے ہیں کہ” بس یہ ہوگیا”، اور زیادہ ” گاڑھےفقیہ ” قسم کے حضرات کہتے ہیں، ہاں کیا تو غلط لیکن چونکہ فلاں ملزم “مباح الدم” تھا ، اس لیے اس کے قاتل کو قصاص میں تو قتل نہیں کیا جا سکتا، البتہ قانون توڑنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ ” فقیہ ” بھی شریک ِجرم ہیں۔ جب اس کے معاملے کی تحقیق ہی نہیں ہوئی ، جو مجاز اتھارٹی نے کرنی ہے ،تو آپ نے کس بنیاد پر اس کا خون حلال کر دیا! کل جب کسی ذرا سی لغزشِ زبان سے آپ “مباح الدم ” ہوں گے تو آپ کی فقہ جلالی کی طرح بدل جائے گی۔

کچھ خدا کا خوف کرو،عدالتوں کی کوتاہیاں تمھیں اسی وقت یاد آتی ہیں، جب کوئی نام نہاد غازی ماوراے عدالت قتل کرتا ہے، اس سے پہلے یا بعد میں حرام ہے جو تم نے کبھی عدالتوں پر تنقید کی ہو یا ان کی اصلاح کی کوشش کی ہو ، بلکہ اگر وہ تمھارے کسی مذہبی یا سیاسی مخالف کے خلاف فیصلہ دے دیں تو تم عدالتوں کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے کلابے ملاتے رہتے ہو۔

اور یہ بھی سن لیں کہ ہم نے آج تک عدالت سے کوئی ریلیف نہیں لیا ،بلکہ خود کئی کیسوں میں عدالتوں کی کوتاہیوں کے ڈسے ہوئے ہیں۔لیکن ان نام نہاد غازیوں کے عمل کو پوری دیانت داری سے خلاف ِشریعت سمجھتے ہیں ، اس لیے اس معاملے میں ماوراے عدالت قتل کو جرم قرار دیتے اور اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ہاں عدالتوں کی کوتاہیوں کے ناقد ہم پہلے بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ، مگر ایسے مواقع پر عدالت کی کوتاہیوں کا مسئلہ لے کر بیٹھ جانا قاتل کی حمایت ہے اور بس ۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *