مولوی صاحب نے جوشِ خطابت سے کہا ، فیملی پلاننگ حرام ہے ۔ یہ مسلم اُمہ کے خلاف سازش ہے، یہودو نصاری ٰکی سازش، تاکہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو اور مسلمان غلبہ نہ پا سکیں اور یہودو نصری ان← مزید پڑھیے
ہمارا قاتل کون ہے؟ ۔۔علی انوار بنگڑ/رات تین بجے کا وقت تھا، اس وقت شہر میں ہر طرف سناٹا تھا۔ صرف شیر محمد کی دھڑکنیں بے ترتیب ہورہی تھیں۔ وہ بے چینی کے عالم میں ہسپتال کے برآمدے میں چکر کاٹ رہا تھا اس کے من میں خوشی اور اندیشوں سے ملے جلے خیالات کا ایک شور برپا تھا← مزید پڑھیے
گلبدین خان صاحب رہتے تو وہ ہماری گلی کے آخر میں ہیں اور ہم ان سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا ایک پڑوسی کے شریر بچوں سے رہنا چاہیے، اور ان کے بچے واقعی بہت شریر ہیں۔خان صاحب ہم سے ہماری دینداری کی وجہ سے محبت کرتے ہیں لیکن انہیں کیا پتہ کہ ہمارے دوست ہمیں "دینداری کا لبادہ اوڑھے سیکولر و لبرل مولوی" کہتے بھی ہیں← مزید پڑھیے
ہماری ذات میں ہمارے والدین کے کردار اور ان کی شخصیت جھلکتی ہے، جیسے والدین ہوتے ہیں ویسی ہی اولاد ہوتی ہے۔والدین انسان کی زندگی کا بنیادی جز و ہوتے ہیں، ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، ہمیں چلنے← مزید پڑھیے
نوّے کی دہائی کی یادیں : بچے اتنے صاف ستھرے نہیں ہوتے تھے جتنا کہ آجکل کے‘ صرف چھوٹا سا جانگیا پہنے‘ چہروں پر مختلف نشانات سجائے گلیوں میں دندناتے پھرتے‘ مٹی یا ریت میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے تو کبھی نالیوں میں اپنے ہاتھ مار رہے ہوتے‘← مزید پڑھیے
آپ سکول مدرسہ کے استاد یا طالب علم ہیں، آپ مکینک یا دوکاندار ہیں، آپ ڈرائیور یا کنڈیکٹر ہیں، چوکیدار یا یونہی ویہلے بے روزگار ہیں، ساتھ میں بیوی نہیں یا بیوی ہے ،پر مریض ہے یا آپکے لئے کافی← مزید پڑھیے
17دسمبر لاہور میں پنجاب بھر سے پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کرام اور ادارہ مالکان احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔مطالبہ بالکل واضح تھا کہ جب شادی ہالزمیں تین سو لوگ ایک ساتھ کھا نا کھا سکتے ہیں‘جب تمام مارکیٹیں اور شاپنگ← مزید پڑھیے
اس سے زیادہ گلا سڑا اور تعفن زدہ سماج اور کیا ہو گا جو کسی خونی ڈائن کی طرح اپنے ہی بچے کھانے لگے ۔جہاں ڈرے سہمے لوگ اپنے بچوں کو چھاتیوں سے لگائے سٹپٹائے ہوئے پھرنے لگیں۔ جہاں آسمان← مزید پڑھیے
وہ تلخیوں کے گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے بولی اب نہیں رہ سکتی وہ اس انسان کے ساتھ ۔اگر وہ مزید اپنے شوہر کے ساتھ رہی تو وہ نفسیاتی مریضہ ہو جائے گی آنکھوں سے بہتا ہوا لاوا اس بات← مزید پڑھیے
“Mama I m getting bored” “ما ما میں بور ہو گیا ہوں” اس طرح کے الفاظ ہم مائیں اور دیگر لوگ اکثر ہی سنتے ہیں اور ان ہی عوامل کی وجہ سے آج نت نئی اصطلاحات وجود میں آئی ہیں← مزید پڑھیے
مائیں اکثر بچوں کی تربیت کے حوالے سے پریشان رہتی ہیں۔یہ پریشانی زیادہ تر انگزائٹی اور فرسٹریشن میں بدل جاتی ہے۔ کیونکہ تربیت شاید واقعی اتنا ہی مشکل عمل ہے ۔خاص طور پہ ایسے زمانے میں جس میں فتنوں کا← مزید پڑھیے
اس وقت بیچلر آف کامرس کے اکنامکس اور مینجمنٹ سے متعلقہ تھیوری مضامین کے خلاصے پروفیسر سعید خان کے بہت مشہور ہوتے تھے اور یہ خلاصے عموما ًطلباء پشاور میں موجود اولڈ بک بازار سے← مزید پڑھیے
والدین کے لیے وہ دن بہت سہانا ہوتا ہے، ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا جس دن وہ اپنے بچوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرتے ہیں ۔ اس دن وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتے← مزید پڑھیے
تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک کر لیاگیا ہے کہ نجی شعبے کی فعال شمولیت کے بغیر حکومتیں تنہا معیار کے ساتھ تعلیم کا تمام← مزید پڑھیے
شائستہ کا شوہر جمال ایک محنتی، ایمان دار، اپنے کام سے کام رکھنے والا کم گو اور ذرا سخت مزاج انسان تھا جو گھر گرہستی کی ذمہ داریاں بغیر کہے پوری کر دیتا۔ بیوی بچوں کی ضروریات، گھر کا راشن،← مزید پڑھیے
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جس طرح پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا بالکل اسی طرح تعلیم کے نظام کو بے حد متاثر کیا ہے، کہیں آن لائن کلاسز کے نام پر خانہ پوری کی جانے لگی تو← مزید پڑھیے
کچھ عرصہ پہلے مزنگ روڈ پر واقع اپنے دفتر میٹنگ کیلئے آئے ایک کلائنٹ کو رخصت کرنے کے بعد میں خود بھی گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ میرے کلرک نے کمرے میں آ کہا “صاحب جی ایک← مزید پڑھیے
جیلوں اور تھانوں میں بندی بنے ہزاروں افراد بھی تو پاکستانی ہیں، وہ بھی تو انسان ہیں اور ان کے بھی تو کچھ حقوق ہیں،اور حیران کُن بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں بند ، لگ بھگ← مزید پڑھیے
اٹلی کی ایک مشہور پولیٹیکل انٹرویور اور صحافی گزری ہیں جن کا نام اوریانا فلاشی تھا، سن 2006 میں 77 سال کی عمر میں اٹلی کے شہر فلورنس میں ان کا انتقال ہوا اس خاتون نے دنیا کے بڑے بڑے← مزید پڑھیے
ڈاکٹریونس بٹ کہتے ہیں کہ’ فلاسفر وہ ہوتا ہے جو مسئلے کویوں حل کرے کہ لوگ اس حل کے بعد کہیں اس سےتومسئلہ ہی اچھا تھا‘‘۔یہ جملہ کئی سال پہلے پڑھا۔ بظاہرسمجھ بھی آگیا تھا لیکن اندازہ نہیں تھا کہ← مزید پڑھیے