نجی تعلیمی ادارے،کرونا اور یکساں نصاب۔۔سید وقاص جعفری

تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک کر لیاگیا ہے کہ نجی شعبے کی فعال شمولیت کے بغیر حکومتیں تنہا معیار کے ساتھ تعلیم کا تمام تر بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔اب جبکہ ملکوں کے سامنے اپنے معاشی و سیاسی بقاء کے حوالے سے بین الاقوامی اہداف بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں تو تعلیم کے شعبے میں پرائیوٹ سیکٹر کی شمولیت ایک فعال کردار ادا کرنے کی حیثیت سے مزید بڑھ جاتی ہے، اسی لیے ہماری نیشنل ایجوکیشن پالیسی(NEP)2017-2025میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ایک سرگرم،متحرک اور نشوونما کے حامل پرائیوٹ سیکٹر کی شمولیت کے بغیر تعلیم کی دیرپا ترقی کے اہداف(Sustainable Development Goals)کی طرح کے بین الاقوامی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں پرائیوٹ سیکٹر کی شمولیت اپنے حجم میں اس قابلِ لحاظ سطح تک پہنچ چکی ہے کہ اس کا موثر کردار کئی حوالوں سے ملکی تعلیمی نظام کو ایک سمت اور جہت دے سکتا ہے۔تعلیم سے متعلق کسی بھی قسم کی پالیسی سازی میں اس کی شمولیت اور عملی مشاورت کے بغیر حکومت کسی طرح کے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی۔تعلیم میں نجی شعبے کا یہ حیثیت اختیار کر لینا حکومتوں کے لئے مسائل کا ذریعہ نہیں،سہولتوں ہی کا ذریعہ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔مسائل اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کسی ادارے یا شعبے کی اس اہمیت کو نظرا نداز کر دیا جائے جو نظر انداز کرنے کے باوجود بھی اپنی جگہ موثر اور موجود رہتی ہے۔

کرونا کے باعث تعلیمی اداروں کی ناروا طویل بندش،انہیں جلد دوبارہ کھولنے کی اہمیت اور تقاضے،یکساں نصاب کی تیاری کا حکومتی دعویٰ اور اسے پُراسرار طریقے سے نافذ کرنے کی کوئی غیر منطقی اور عاجلانہ کوش،ش اس حالیہ عرصے کے وہ مسائل ہیں جن کی اہمیت کا صحیح ادراک حکومتی ایوانوں میں نظر نہیں آتا۔کوئی اچانک مسلّط کی گئی چیز پہلے سے موجود خراب حالات کی خرابی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔تعلیم میں نجی شعبے کی شرکت و شمولیت سے متعلق اعداد وشمار پر ایک نظر ڈال کر ہم آگے کی جانب بڑھیں گے:
’الف اعلان‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کی انرولمنٹ(حاضری) میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔2003ء سے2014ء تک یہ اضافہ26فیصد بتایا گیا اس کے بعد یہ تعداد 2019ء میں 42فیصد ہوگئی۔2018-2019ء میں انرولمنٹ میں مزید3.7فیصد کے ساتھ7.6ملین طلبہ کے اضافے کا اندازہ کیا گیا ہے۔2017-2018ء میں کُل30.9ہزار ہائی سکول تھے،556.6ہزار اساتذہ فنکشنل تھے،ہائی سکول کی انرولمنٹ میں 6.6فیصد کا اندازہ کیا گیا یعنی2018-19ء میں 4.1 ملین کا اضافہ گویا2019ء میں پرائیویٹ سکولوں نے پاکستانی بچوں کی کل تعداد کے تقریباً نصف کو سنبھال لیا(یعنی کل بچوں کا 42فیصد)۔پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے یہ اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ نرسری کے علاوہ،پری نرسری اور ہشتم سے بارہویں جماعت تک نجی سکولوں نے سرکاری سکولوں کی انرولمنٹ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

2015-16ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں پری پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک3لاکھ 3ہزار 4سو86 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے ایک لاکھ91ہزار 65پبلک یعنی سرکاری ہیں اور ایک لاکھ12ہزار 3سو 81پرائیوٹ ہیں۔الف اعلان ہی کے ایک سروے کے مطابق 69فیصد والدین اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک پرائیویٹ سکولوں میں بہتر سہولتوں کے ساتھ بہتر تعلیم دی جاتی ہے اور اسکے حاصلات بھی بہتر ہیں۔نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو اسی صورت میں ایک صحت مند رجحان کہا جا سکتا ہے کہ پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کا تناسب حکومتی پلڑے کی جانب جھکاؤ رکھتا ہو۔اسی صورت میں تعلیم کے میدان مین پرائیویٹ شعبے کا کردار معیار اور تعمیر کا حامل ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے ماہرین کی رائے یہی ہے کہ حکومتی پلڑا اگر ہلکا ہوا تو تعلیم کی فوقیت ختم ہو کر اس کا فلاحی تصور نفع نقصان کے تصور کے نیچے دب کر رہ جائے گااور حکومتی پلڑے کے بھاری ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ تعداد کے تناسب ہی کے لحاظ سے بھاری نہ ہو بلکہ معیار کے تناسب کے لحاظ سے بھی بھاری ہو۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو زیادہ سے زیادہ جدید سہولتوں کے ساتھ آراستہ کیا جائے۔اگر والدین کا رجحان محض اس لئے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی جانب بڑھتا چلا گیا کہ سرکاری تعلیمی ادارے معیار اور حاصلات کے حوالے سے کمزور ہیں تو سرکاری تعلیمی شعبہ بتدریج بیٹھتا چلا جائے گا اور بالآخر فارغ ہوجائے گا۔اس صورت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پرائیوٹ شعبے کے ذریعے تعلیم کا حصول عوام کی دسترس سے باہر نکل جائے گا۔اس وقت یہ بہر حال ایک ضمنی پہلو ہے۔پرائیوٹ شعبے کے حوالے سے جو اعدادوشمار اوپر بیان کیے گئے ہیں وہ یہ تو بہرصورت پتہ دے رہے ہیں کہ پرائیوٹ شعبے کا ایک وزن ہے۔اس وزن کو اس پہلو سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ بہت بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے روز گار کا ذریعہ بنا ہوا ہے اور روزگار کی فراہمی کے معاملے میں حکومتی ذمہ داری کے بوجھ کو بانٹنے کا ایک اہم،موثر اور قابلِ لحاظ پارٹنر ہے۔اس شعبے کی صحت مندی کے ساتھ برقراری حکومت کیلئے ایک بڑا سہارا ہے۔اس شعبے کو نقصان پہنچنا اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بتدریج انہدام کی جانب بڑھتے چلے جانا،معاشی مسائل میں پہلے سے ہی گھرے ہوئے پاکستان کیلئے مزید ناقابلِ تلافی نقصان کا ذریعہ بن جائے گا۔

کرونا وائرس کی وجہ سے 5ماہ سے جاری حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظرتعلیمی اداروں کے کھلنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کچھ مثبت بیانات تو سامنے آئے ہیں لیکن اُن میں فوری اقدام کے بجائے قدرے تاخیر کا عنصر نمایاں ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ خدشات موجود ہیں کہ اپنی متعدد پالیسیوں کی وجہ سے گومگو کا شکار حکومت معاملات کا صحیح ادارک نہ کرتے ہوئے تعلیمی تعطّل کو مزید آگے بڑھا دے گی۔اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ اور دیگر سٹاف کی تنخواہیں،سکولوں کی عمارتوں کے کرائے،طلباء کی فیسیں موصول نہ ہوسکنے جیسے پہلے ہی سے گھمبیر معاملات مزید گھمبیر ہو کر بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر نکال لائیں گے۔ سڑکوں پر نکالنے سے ہماری مراد دونوں طرح کے مسائل ہیں یا تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ کو چاروناچار اپنی مجبوری،مشکل یا مظلومیت کی داد رسی کیلئے احتجاج کا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا یا پھر سکول ایجوکیشن کی سطح پر حکومتی ذمہ داری کو غیر معمولی سہارا دینے والا پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر مالکان کی مجبوری کے باعث بے روز گار ہو کرسڑکوں پر ہوگا اور یہ دونوں صورتیں ذمہ دار حکومت اورباشعور معاشرے کیلئے خوشگوار نہ ہوں گی۔

ان حالات میں کچھ خبریں یہ بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومت یکساں نصاب(SNC) کے نام پر اقدامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔اس نصاب کے حوالے سے متاثر ہونے والے حلقوں کی ناپسندیدگی اور عدم قبولیت پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہے۔سنگل نیشنل کریکولم کے حوالے سے دو تین پہلو ایسے ہیں جس کے متعلق تعلیم کے اربابِ اختیار میں کوئی واضح مؤقف بیان نہیں کرپارہا۔ہم آئینِ پاکستان کے تناظر میں یکساں قومی نصاب کے تصوّر اور امکان کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر یہ یکساں تعلیمی نصاب،اُسی وقت کہلایا جا سکے گاجب پاکستان میں پبلک، پرائیویٹ،متوسط،ایلیٹ،ملکی،غیر ملکی تعلیمی ادارے بلا تخصیص اس نصاب کو اپنے اداروں میں رائج کرنے کے پابند ہوں گے۔18ویں ترمیم کے بعد تعلیم،صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔پنجاب اورKPKمیں تو موجودہ حکومت اور اس کے اتحادی برسرِاقتدار ہیں،کیا سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان بھی اسSNCکو رائج کرنے کے پابند ہوں گے؟تیسرا اور سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ جس نصاب کو سرکاری سکولز کے ساتھ ساتھ متوسط اور زیریں متوسط طبقے کے نجی تعلیمی اداروں نے اختیار کرنا ہے اس کی تیاری کے مراحل اور طریقہ کار پر بہت سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر سکول نہ کھلنے اور نا پسندیدہ نصاب کو مسلّط کرنے کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ان تمام قسم کے حالات و واقعات کے باوجود سب سے پہلی ضرورت یہی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کو فوری طور پر کھولے اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ایک قابلِ عمل لائحہ عمل بنا کر دے تاکہ بچوں کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جا سکے۔یاد رہے کہ حکومت کو متوسط طبقے کے تعلیمی اداروں کو کھولنے کیلئے وہی ایس او پیز اختیار کرنا ہوں گے جس پر وہ پبلک سیکٹر کے سکولز میں بھی عمل درآمد کو یقینی بنا سکیں۔60فیصد طلبہ وطالبات کو سنبھالنے والے پبلک سیکٹرکے تعلیمی اداروں کو موسم،حالات اور مجبوری کے رحم وکرم پر چھوڑ کر حکومت نجی شعبہ کے سکولز سے برطانیہ اور جرمنی والے   ایس او پیز  کا تقاضا کیونکر کر سکتی ہے!ہمیں اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے  کہ ہمیں طویل عرصہ کرونا کے ساتھ گزارنا ہے اور اس کے مطابق زندگی کو ترتیب دینا ہے۔ہمارے بچوں کے مستقبل کا تقاضا یہی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *