فیصل شہید کا اردل روم۔۔عزیز خان

ضلع قصور میں ایک اور پولیس مقابلہ ہوا،جہاں کانسٹیبل فیصل جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں شہید ہو گیا ۔ سنا ہے اس نے اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کی ،وہ ایک ایسےجرائم پیشہ شخص کا پیچھا کررہا تھا جس کے ہاتھ میں گن تھی جبکہ فیصل خالی ہاتھ تھا۔ملزم نے سیدھا فائر کیا ،جو فیصل کے سر میں لگا اور فیصل شہید ہوگیا۔فیصل کو شہید کرنے والا موقع سے فرار ہوگیا۔جبکہ اس کے دیگر ساتھی مقابلہ میں مارے گئے ۔RPO شیخوپورہ اور دیگر افسران بھی اس کے جنازہ میں شریک ہوئے ۔ جسد خاکی کو پرچم میں لپیٹا، سلامی دی اور واپس چلے گئے ۔شاید کچھ عرصہ بعد  انہیں فیصل یاد بھی نہیں رہے گا۔اس نوجوان کانسٹیبل کی والدہ کے دل پر کیا گزری ہوگی۔وہ ان افسران کونہیں پتہ ۔۔۔۔کچھ عرصہ قبل فیصل شہید کے والد جو پولیس ملازم تھے کی بھی ایک ایکسیڈنٹ میں موت واقع ہوگئی تھی

اس مقابلہ کی اصل کہانی یوں ہے کہ تھانہ صدر قصور کی ایک ڈکیتی کے مقدمہ میں گئے ،موبائل فون سے ملزمان کی نشاندہی ہوئی۔ASIاور تین کانسٹیبلان سفید پار چات میں ملزمان کو پکڑنے کے لیے پہنچے ،مگر ملزمان کو ان پر شک گزرا،تو ان میں سے ایک ملزم جس کے ہاتھ میں گن تھی ،بھاگ پڑا ،فیصل بھی اس کے پیچھے دوڑا ،ملزم نے پلٹ کر فائر کیا، جس سے وہ موقع پر شہید ہوگیا۔

ایسے واقعات کے ہونے پر ہمیشہ اس بات کی تحقیق اور انکوائری کی جاتی ہے کہ کیا وجہ تھی اور کیا محرکات تھے جس کی وجہ سے ایک انسانی جان چلی گئی ۔مگر نہ تو پولیس کے افسران اور نہ ہی حکمرانوں کو کوئی فرق پڑتا ہے ،کسی کا بیٹا مرتا ہےتو مر جائے ۔ بحیثیت قوم بھی ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں،کچھ دن اس کا غم رہتا ہے اور پھر سب بھول جاتے ہیں ۔

دوران ملازمت کچے کے علاقوں میں یا شہری علاقوں میں ملزمان پر کئی ریڈ کیے ۔98-1997میں جب ایلیٹ فورس پنجاب میں نئی نئی متعارف ہوئی تھی ۔جب بھی ریڈ پہ جاتے تو ہمیشہ تھانہ کے ملازمین میں سے کوئی ملازم زخمی یا شہید ہوتا، جبکہ ایلیٹ کے جوانوں میں کم ہی کوئی زخمی یا شہید ہوتا تھا،کیونکہ انھیں دوران ٹرینگ یہ بات سکھائی جاتی تھی اور ہے کہ ایک ملازم دوسرے ملازم کا “بڈی ” کیسے ہوتا ہے ۔ “کورفائر”کیسے کیاجاتاہےاور فائرنگ میں خود کو اوٹ لے کرکیسے بچایا جاتاہے۔مگر ضلع میں تعینات ملازمین جن میں جوش و ولولہ تو ہوتا ہے مگر انھیں پتہ نہیں ہوتا کہ  ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے۔دوران ٹرینگ بیس ، بیس گولیاں فائر کروا کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ان پولیس ملازمین کو “سپُرمین”بنادیا گیا جن پہ کوئی گولی اثر نہیں کرتی ۔

2005میں بطور SHOتھانہ نوشہرہ جدید ضلع بہاولپور تعینات تھا ۔ میرے محرر کو بذریعہ فون اطلاع ملی کہ کچھ ڈاکو موضع بیٹ لنگا ہ میں واردات کررہے ہیں ۔اس اطلاع پر میں نے اپنی سرکاری گاڑی بذریعہ کشتی لے کر دریائے ستلج پار کیا مگر وہاں کوئی ڈاکو نہ ملے ۔میں نے واپسی کے لیے جلال پور پیر والا کا راستہ اختیارکرنا تھا مگرپھر میرے محرر کی کال آئی، نمبردار بیٹ لنگاہ کی پھر کال آئی ہے وہاں ڈاکو لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ اس اطلاع پر میں دوبارہ بیٹ لنگاہ پہنچا تو دریا کے بند کی طرف سے مجھ پر فائرنگ شروع کردی گئی۔دسمبر کا مہینہ تھا کپاس کی فصل ختم ہوچکی تھی گندم کی کاشت ہونی تھی ۔چٹیل میدان تھا کوئی چھپنے کی جگہ نہیں تھی سرکاری گاڑی کی اوٹ میں بیٹھ کر میں اور عباس کانسٹیبل ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے رہے ۔میرے پاس کلاشنکوف اورایک میگزین تھی جبکہ عباس کے پاس جی –تھری اور ایک میگزین تھی, جس میں بیس گولیاں ہوتی ہیں ۔ ہم سنگل فائر کرتے رہے آدھا گھنٹہ تک یہ مقابلہ جاری رہا ۔ جب ہماری گولیاں ختم ہوگئیں تو ہم دونوں “رولنگ” کرتے ہوئے ایک  تھوڑی دور ایک کھال میں جاکر چھپے ۔یہ سارا پلان مجھے مارنے کے لیے بنایا گیا تھا ۔اس میں حمیدفوجی اور شفع ماتم شامل تھے ۔جن کا ایک ساتھی کچھ دن قبل پولیس مقابلہ میں ہمارے ہاتھوں مارا گیا تھا ۔ یہ لوگ اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے ۔کیونکہ میں نے بطور ASI سپیشل ڈیوٹی کورس اور اینٹی ٹیریرسٹ کورسز کیے ہوئے تھے ۔ جن میں ہمیں فائرنگ کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھایا گیا تھا کہ جب کوئی اوٹ نہ ملے تو رولنگ کرکے اپنی جان بچائی جاسکتی ہے۔

فیصل شہید کی طرح کئی جوان شہید ہوگئے، لیکن پولیس افسران کو عقل نہ آئی ۔انھیں صرف سزا دینا آتا ہے جب کوئی ماتحت ادنی ٰ یا اعلیٰ ان کے اردل روم میں پیش ہوتا ہے اور اپنے مسائل بیان کرتا ہے تو یہ اسے دھتکار دیتے ہیں ۔کسی کی چھٹی ، کسی کی بیماری ، کسی کےگھریلو مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔پاکستا ن آرمی میں اپنے جوانوں کے مسائل اور ویلفیئر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ دوران ٹریننگ یا دوران سروس اگر کسی جوان یا افسر کوکوئی مسئلہ درپیش ہو تو پوری یونٹ اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔مگر پولیس میں کسی ماتحت کی پریشانی یا تکلیف سے ان پی ایس پی افسران کو کوئی غرض نہیں ۔

ایک اردل روم یہ افسران اس دنیا میں لگاتے ہیں اور ایک اردل روم اللہ تعالیٰ کی ذات لگائے گی جس میں ان افسران اور ہم سب نے پیش ہونا ہے ۔وہاں فیصل شہید بھی پیش ہوگا اور ان افسران سے پوچھے گا کہ ہمارے مسائل کیوں نہیں حل کیے جاتےرہے؟ہمیں ایسی ٹریننگ کیوں نہیں دی جاتی رہی جس سے ہم اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ؟ مگر اس وقت ان افسران کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *