نیلا سونا   ہر چیز سے قیمتی۔۔زبیر بشیر

لوک دانش کی ایک کہانی ہم  سب اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں جس کا لب لباب کچھ یوں ہے۔ ایک درویش نے بادشاہ وقت سے سوال کیا اگر آپ کو شدید پیاس لگے تو آپ پانی دینے والے شخص کو کیا قیمت ادا کریں گے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں ایک گلاس پانی کے بدلے اسے اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔ درویش نے پھر پوچھا اگر آپ یہ پانی پی لیں اور اس کے بعد یہ پانی آپ جسم سے نہ نکلے تو آپ اس کے علاج کے لیے کیا  قیمت  ادا کریں گے؟ بادشاہ کا جواب تھا  میں اس کے بدلے اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔ درویش نے جواب دیا دیکھیں پانی کتنا اہم اور قیمتی ہے کہ اس کے لیے ایک بادشاہ اپنی سلطنت چھوڑ سکتا ہے۔

یہ اور اس طرح کی کئی داستانیں ہمیں احساس دلاتی ہیں کہ  پانی  زندگی کے لیے کتنا اہم اور انمول ہے۔ پانی کرہ ارض پر زندگی کی ضمانت ہے۔  زمین پر ہرطرح کی زندگی پانی سے جڑی ہے لہذا آبی وسائل کا تحفظ تمام بنی نوع انسان کی یکساں ذمہ داری ہے۔ گزشتہ دو صدیوں کے دوران دنیا نے تیز رفتار ترقی کی، اسی عرصے کے دوران دو بڑی عالمی جنگیں بھی لڑی گئیں۔ ان تمام تر تبدیلیوں نے ہمارے قدرتی ماحول کو بری طرح تباہ کیا۔ جس کے اثرات آج کی دنیا میں سوکھے، سیلاب، زمینی کٹاؤ، سیم و تھور اور دیگر آفات کی صورت میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔  آنے والے وقتوں میں اس صورت حال سے بچنے کے لئے پیش بندی کی جارہی ہے اور چین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کی ان کاوشوں کی پوری دنیا تحسین کرتی ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چین میں جنگلات کے حیاتیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کو فروغ ملا ہے۔ فارسٹ کاربن اسٹوریج کا اٹھتر فیصد قدرتی جنگلات سے ہے ۔جنگلات کے رقبے اور ریزروز میں مسلسل تیس سال سے اضافہ جاری ہے۔دو ہزار بیس کے اواخر تک چین میں جنگلات کا کل رقبہ بائیس کروڑ  ہیکٹر  ہو چکا ہے جب کہ فارسٹ ریزروز  سترہ ارب پچاس کروڑ کیوبک میٹرز  رہے ہیں۔علاوہ ازیں  اس وقت چین میں  قومی سطح کے 899 ویٹ لینڈ پارکس موجود ہیں  جہاں حیاتیاتی نظام کا موثر تحفظ موجود ہے۔ 

چین میں دریائی تحفظ پر بہت زیادہ کام ہوا ہے جس کی ایک مثال دریائے زرد ہے۔ اس دریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چینی تہذیب نے اس دریا کی گود میں جنم لیا ہے۔ دریائے زرد چین  کا دوسرا سب سے طویل دریا ہے ، جس کی لمبائی 5464 کلومیٹر ہے اور یہ نو صوبوں سے گزرتا ہے ، جن میں چھنگ ہائی ، سیچھوان ، گانسو ، ننگ شیا ، اننر منگولیا ، شانشی ، شاآنشی ، ہینان اور شان ڈونگ شامل ہیں۔ دریائے زرد کا طاس  ایک اہم ماحولیاتی آڑ ہے ، اور چین کی قومی ترقی اور جدت سازی کے لیے اس کی ایک سٹریٹیجک اہمیت ہے۔  اس منصوبہ بندی کا دائرہ کار متعلقہ کاؤنٹی سطح کے ان انتظامی علاقوں پر محیط ہے جہاں دریائےزرد کی اہم معاون ندیاں بہتی ہیں۔  اس علاقے  کا زمینی رقبہ تقریبا ً ایک اعشاریہ تین ملین مربع کلومیٹر ہے اور ۲۰۱۹ کے اواخر تک کے اعدادو شمار کے مطابق اس کی  آبادی تقریباً  160 ملین ہے۔ چین کے اقوام متحدہ میں واپس آنے کے بعد ، اس نے اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی امور کے تمام پہلوؤں میں حصہ لیا اور عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ امن کی کارروائیوں سے لے کر عالمی حکمرانی تک  اور وبا سے لڑنے تک ، دنیا میں چین کی شراکت ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

آج چلتے چلتے آپ کو سنکیانگ کی ایک  جھیل کی سیر کرواتے ہیں  جہاں آبی حیات شاندار انداز میں ترقی کر رہی ہے۔ سنکیانگ میں بوسٹن  جھیل چین میں اندرون ملک میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ حال ہی میں، پرندوں کی  افزائش کے موسم کی آمد کی وجہ سے، دسیوں ہزار ہجرت کرنے والے پرندوں نے یہاں اپنے  نئے بچوں کا استقبال کیا۔ پرندے کے بچے ماں کی قیادت میں گھونسلے سے باہر نکلتے ہیں  اور دانہ چننے اور زندہ رہنے کا ہنر سیکھتے  ہیں۔ بوسٹن لیک نیشنل ویٹ  لینڈ پرندوں کی نقل مکانی اور تولید کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ حالیہ برسوں میں،  مقامی تحفظ کے اقدامات کے ذریعے، گیلی زمین کے حیاتیاتی ماحول کو مسلسل بہتر بنایا  گیا ہے، جو نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی رہائش اور تولید کے لیے ایک اچھا قدرتی  ماحول فراہم کرتا ہے۔ پانی نیلا سونا ہے، پانی زندگی ہے جو دنیا کی ہر چیز سے قیمتی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply