کراچی پولیس۔۔ ایک سند یافتہ مافیا۔۔منصو رندیم

۹۰ کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویزن سے چلنے والے ایک ڈرامہ سیریل ” دھواں کو کافی پذیرائی ملی تھی، جس کا مرکزی کردار ایک پولیس آفیسر   اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ  پولیس  (اظہر)اور اس کے چند ہم خیال دوست جن کا تعلق مختلف شعبہ زندگی سے تعلق ہوتا ہے ، اس ڈرامے میں دکھایا گیا کہ پولیس آفیسر اظہر اپنے دوستوں کے ساتھ ایک لاقانونیت کو روکنے کے لئے ایک  نجی گروہ بناتا ہے ان کو ٹریننگ دیتا ہے اور ملک دشمن  اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف انفرادی حیثیت میں آپریشن کرتا ہے، جس میں وہ ریاست کی انٹیلیجنس اور وسائل بھی استعمال کرتے ہیں لیکن آپریشن مکمل طور پر ریاستی اداروں کے  علم کے بغیر ہوتے ہیں، ممکنہ حد تک اس ڈرامے کا مقصد نیک نیتی ہوگا، اور اس ڈرامے کو خاصی پذیرائی بھی ملی تھی۔

اسی ڈرامے کے خالق عاشر عظیم اپنی اصل زندگی میں بھی ایک سی ایس ایس آفیسر رہے ہیں اور اس ڈرامے کے بعد بھی انہوں نے  ایک فلم “مالک”  بنائی ، جس کی کہا نی مصنف نے ۱۹۹۵ میں ہی لکھی تھی لیکن یہ فلم ۲۰۱۶ میں بنی اور ریلیز ہوئی، اس فلم میں بھی ایک فوجی آفسر کا کردار عاشر عظیم نے ادا کیا اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف جہاد کے لئے وہ اپنے زیر انتظام ایک نجی گروہ بنا کر معاشرے کے مختلف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کرتے ہیں، اس فلم میں ممکنہ حد تک نظام کی خرابی کا ذمہ دار سیاستدانوں کو دکھایا گیاہے، لیکن برائیوں اور جرائم کو ختم کرنے کے لئے جس طریقہ کار کو  دکھایا گیا بدقسمتی سے آج پاکستان کے تمام ادارے ہی اس طریقہ کار پر چل رہے ہیں ، لیکن فرق صرف اتنا ہےآج پاکستان کی تمام ہی ریاستی ایجنسیاں اور پولیس کے افسران نے ایسے ہی اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے خود ساختہ گروہ بنالئے ہیں اور جب چاہتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں ، جس کو چاہیں مار دیں ، جس کو چاہے اغوا کر کے اپنے ذاتی عقوبت خانوں میں رکھ لیں ، انہوں نے اپنے طور پر ملازم یا پولیس رضاکار بھرتی کیے ہوئے ہیں، جن کو اچھی تنخواہیں ملتی ہیں ، ظاہر ہے ان تنخواہوں کا حصول بھی غیر قانونی ہی ہے، اور وہ ان اغوا شدہ افراد سے ہی پورا کیا جاتا ہے، یہ سادہ لباس میں ملبوس اور بغیر نمبر پلیٹ کی کاروں میں  آنے والے افراد پورے پاکستان سے کبھی بھی کسی کو اغوا یا قتل کرسکتے ہیں۔اور ان کو باقاعدہ کسی نہ کسی پولیس افسریا ریاستی ایجنسیوں  کی آشیر بادحاصل ہوتی ہے۔

پڑوسی ملک بھارت نے بھی گذشتہ دو دہائیوں میں ایسی ہی فلموں پر زور رکھا جس میں کوئی انکاوئنٹر اسپیشلسٹ ماورائے عدالت قتل کرکے معاشرے کو انصاف د لانے کہ کوشش میں خود  بھی پیسے اور طاقت کے حصول کے لئے وردی پہن کر ہر جرم کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

میرا بچپن کراچی میں گزرا ، میں نے ان ماوراے عدالت اقدامات کا آغاز ۸۰ اور ۹۰ کی دہائی میں بنگلہ دیش  سے روزگار کے حصول کے لئے  آنے والے غیر قانونی بنگالیوں کے بارے میں دیکھا جب ان کو پکڑ پکڑ کر مختلف جرائم میں نامزد کرکے فائلیں بند کی جاتی تھیں،چونکہ پاکستان میں ان دیار وطن آنے والے غریبوں کے لئے کوئی آواز اٹھانے والا ہی نہ تھا ، اس لئے وہ آواز کبھی گونجی ہی نہیں،   اس کے بعد مختلف مدارج میں اس کادائرہ کار  سیاسی تنظیموں کے کارکنان تک پھیلتا چلا گیا، ایم  کیو ایم کے کارکنان کا ماوراےعدالت  قتل شروع ہوا تو ایک ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا ، جس نے مذہبی تنظیموں اور پختون قومیت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،چونکہ ان اداروں کے منہ کو خون لگ گیا تو یہ سلسلہ اب انتہائی خطرناک صورتحال تک پہنچ گیا ہے،   صرف گزشتہ سال ۲۰۱۶ کی جعلی پولیس مقابلوں کی  ایک رپورٹ پر نظر ڈالیں تو  کراچی میں گزشتہ سال کے ابتدائی دس ماہ میں ۳۸ مبینہ پولیس مقابلے ہوئے ۔

کراچی پولیس نے ۱۲۲نوجوانوں کو مقابلوں میں مار کر دہشت گرد قرار دیا گیا ۔

۹۸نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے درخواستیں عدالتوں میں موجود ہیں
۱۶  نوجوانوں کو گمشدگی کے دوران متعدد بار گھر بھی لایا گیا اور لیپ ٹاپ سمیت دیگر چیزیں برآمد کروا کر ساتھ واپس لے گئے
تقریباً  تمام نوجوانوں کے گھر والوں کو کہا گیا کہ انتظار کریں بچہ واپس آجائے گا
سندھی قوم پرست تنظیم جئے سندھ قومی محاز کے مقامی صدر کو طالبان کمانڈر ظاہر کرکے مار دیا گیا ۔
شاہ فیصل کالونی کے مذہبی جماعت کے مقامی ذمہ دار کو ایک بلڈر کو اپنا گھر فروخت نہ کرنے پر طالبان ظاہر کرکے ماردیا گیا۔
ملیر ریتی بجری سپلائی کے کے ٹھیکے کی پول کھولنے والے قادر مگسی گروپ کے موسمیات چورنگی کے ذمہ دار کو داعش سے تعلق ظاہر کرکے مار دیا گیا۔
۲۰۱۷کے پہلے انکائونٹر میں ملائیشیا سے چھٹیوں پر آئے ایک طالب علم کو کنٹینرز چھیننے کے الزام میں انکائونٹر میں  مار دیا گیا اور پھر اس کے گھر والوں کو دھمکیاں دیکر جعلی انکائونٹر کے خلاف عدالت سے درخواست واپس لینے پر مجبور کردیا گیا
ایک مقابلے میں ہتھکڑیوں میں جکڑے نوجوانوں کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا
ایک اور مقابلے میں داعش اور القاعدہ کے مبینہ دہشت گردوں کو ایک ہی جگہ مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا حالانکہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں ایک دوسرے کی جانی دشمن اور اور دوسرے کے دہشت گرد مارتی رہتی ہیں ۔ جعلی مقابلوں کے ماہرین کو بنیادی نوعیت کی معلومات بھی حاصل نہیں ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ  ان جعلی  انکاونٹرز میں مارے جانے والے تمام نوجوان باریش تھے۔ اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی و جے یو آئی اور تبلیغی جماعت سے تھا۔ البتہ ان میں کچھ جئے سندھ، قادر مگسی، بلوچ نوجوان بھی شامل ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ خود گزشتہ سال کے اواخر میں  آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کرپٹ پولیس افسران کا  کچھ کچا چٹھا سپریم کورٹ میں جمع کروایا جس کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران کرمنل ریکارڈکےحامل، کرپشن اور غبن میں ملوث ہیں۔اے ڈی خواجہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی محکمہ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس پی ریاض بھٹو پلاٹوں پر قبضے جبکہ سابق ڈی آئی جی سکھر کپیٹن فیروز شاہ ایرانی آئل کی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔آئی جی سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ روپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق ایڈیشنل آئی جی اعتزاز احمد گواریا بھی غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے جبکہ ڈی ایس پی چوہدری لیاقت پر خطرناک ملزمان کی پشت پناہی کا الزام ہے۔اے ڈی خواجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس پی فرحان علی بروہی پر خطرناک ملزمان سے رشوت لینے جبکہ ڈی ایس پی نیئر الحق غیر اخلاقی دھندوں سے کمائی میں ملوث رہے۔آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق ایڈیشنل آئی جی ٹریفک خادم حسین پر ماتحت عملے سے رشوت لینے کا الزام ہے جبکہ خاتون ڈی ایس پی  ناز پروین نے جعلی تعلیمی اسناد پیش کر کے نوکری حاصل کی۔اے ڈی خواجہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایس پی مرزا تیمور بیگ ہر وقت نشے میں دھت رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وزیرستان کے جواں سال  نقیب محسود  کے لئے ایک مہم زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے ، لیکن گزشتہ ہفتے کراچی کے ایک ۱۹ سالہ  نوجوان” انتظار” کا جعلی پولیس مقابلے میں  قتل ہو یا نقیب محسود کا ماورائے عدالت قتل ، کراچی میں ائیر پورٹ حملے پر انسداد دہشتگردی میں مجرموں پر کیس چلنے کے باوجود سی ٹی ڈی کی طرف سےمزید اسی کیسں میں  جھوٹےمقدمات میں نامزد سرمد صدیقی اور راشد صدیقی ہوں ،جو اپنی ساری جوانی عدالتوں اور عقوبت خانوں میں گزار کر بھی اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکیں گے،  ان سب کے پیچھے اصل مقصد جرم کا خاتمہ  یا انصاف نہیں بلکہ ہماری پولیس کی طرف سے صرف اصل مقصد پیسے کا حصول ہی لگتا ہے، چاہے ماضی کا چوہدری اسلم ہو یا حالیہ ایس پی راؤ  انوار  یہ سب ایک ہی  کام کر رہے ہیں۔اگر کراچی کے ایک انسپکٹر کی یا اس سے اوپر کی  سطح  کے پولیس آفسر کے  ٹھاٹ بھاٹ  یا جائیداد کا تخمینہ لگایا جائے تو شاید  بڑے بڑے کاروباری حضرات کو یہ مات دے جائیں۔

بقول فرنود عالم ” مسائل کب جنم لیتے ہیں؟ تب جنم لیتے ہیں جب مخالف فریق ماورائے عدالت اقدام کا شکار ہو اور ہم “کچھ کیا ہو گا تبھی تو مارا یا اٹھایا ہے” کا راگ الاپتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ اس ماورائے عدالت اقدام کو جواز بخشتا ہے جس کا شکار آنے والے دنوں میں ہم بھی ہو سکتے ہیں۔ جب ہم ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ جبر ناقابل برداشت ہے۔ پھر جب ہم پکارتے ہیں تو مخالف فریق سے “کچھ تو کیا ہی ہو گا” والا جواز سننے کو ملتا ہے۔ ہمارے اس “کچھ تو کیا ہو گا” والے رویے نے افسران کو نجی عدالتیں لگانے کی سہولت مہیا کر رکھی ہے۔ کراچی میں جہادیوں کے اڈے کہاں ہیں، کون نہیں جانتا؟ کس کو خبر نہیں کہ طالبان کہاں قیام کرتے ہیں۔ گلشن اقبال سخی حسن اور موسمیات پر قبضے کی زمینوں پر قائم جہادی مراکز پر کوئی چھاپہ نہیں مار سکتا۔ البتہ سہراب گوٹھ ، سعید آباد، قصبہ، بنارس ، منگو پیر اور میٹروپول سے نقیب محسود کی طرح جب چاہا جس کو اٹھا لیا اور پولیس مقابلے میں مار دیا۔ مسئلے کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ذات برادری، زبان اور قبیلے سے بالا تر ہوکر اُن عدالتوں کے خلاف سیاسی مزاحمت کی جائے جو سرکاری اہل کاروں نے اپنے گھروں میں لگا رکھی ہیں۔ پشتونوں کو آفتاب حسین کا درد محسوس کرنا ہوگا۔ اردو بولنے والوں کو نقیب حسین کی معصوم بچیوں کے سر پہ ہاتھ رکھنا ہوگا۔ ورنہ کسی بھی نقیب کی ماں کا یہ سوال ہم بے معنی کردیں گے کہ نقیب محسود کو کس نے مارا؟”

جس طرح کراچی  میں CTD کی ماورائے عدالت قتل کلچر نے ایک اوربیگناہ نقیب اللہ محسود کی جان لے لی ، لگتا یوں ہے کہ  اب یہ عفریت  ملک بھر میں موجود ہر شہری کے دروازے پر دستک دینے لگا ہے۔ آج ایک بیگناہ نقیب اللہ قتل ہوا ہے کل ہمارے بچوں اور بھائیوں  کا نمبر بھی آسکتا ہے۔قانون کے بھیس میں چھپےان  بھیڑیوں کو روکنا ہوگا ورنہ  کل ہمارے پیچھے رونے کیلئے کوئی نہیں بچے گا۔

عاصمہ جہانگیر سچ ہی تو کہتی ہیں کہ ’تم سوات سے کسی بھی لڑکے کو طالب کہہ کر اٹھاؤ گے اور ماردوگے تو کیا ہم مان لیں گے؟ جو بھی ہے قانون کے سامنے لایا جائے‘۔ ورنہ یہ طریقہ کار  ، نہ کورٹ، نہ کچہری، قانون کے رکھوالے ملک الموت بن کربلا جھجک زندگیاں چھینتے جائیں اور ہم صم بکم کی مصداق زندہ لاشیں بنیں رہیں۔

بس آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسا لگتا ہے پاکستان میں  اغوا براے تاوان ہو یا بھتہ خوری، اجرتی قاتل ہو یا ماورائے عدالت قتل، دھونس دھمکی دینا ہو یا قبضہ مافیا ان سب کا ایک ہی مستند (Certified ) ادارہ ہماری پولیس ہے۔، جہاں پولیس کا  ناکہ  صرف اس لئے لگایا جاتا ہو،  کہ رات کے کھانے اور پولیس گشتی گاڑی کا پٹرول جمع کرنا مقصود ہو، جہاں کسی غریب آدمی کی ایف آئی آر اس لئے  نہیں لکھی  جاتی کہ  اس کی جیب میں مطلوبہ رقم  موجود نہ ہو، جہاں ملک بھر کے قبضہ مافیا پولیس کی گاڑیوں میں آکر زمین ہتھیاتے ہوں،جہاں کسی کو کوئی بھی غیر قانونی کام کرنا ہو تو فقط مقامی تھانے کے لئے ماہانہ ایک معقول رقم پہنچا دی جائے پھر وہ ہر طرح کی فکر سے آزاد ہو کر وہ کام کرے،  جہاں شراب کے ڈپو پر ایک بوتل لینے والے کو شراب کا ڈپو والا یہ ضمانت دے کہ اس کے تھانے کی حدود میں اگر کوئی پولیس والا روکے تو بس اس کا نام “نیم پلیٹ” سے پڑھ کر ہمیں  بتا دو ، ہم اس سے نمٹ لیں گے، جہاں شراب کے ڈپو کو ایک پولیس گشتی کار تو میسر ہو،لیکن اس ملک کہ عاصمہ اور زینب کی حفاظت ممکن نہ ہو تو ہمیں حالات کی تبدیلی کا ماتم کرنے کے بجائے اپنے مردہ قوم ہونے کا ادراک ہونا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کراچی پولیس۔۔ ایک سند یافتہ مافیا۔۔منصو رندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *