جاگتی آنکھوں کے خواب ۔۔ اشفاق احمد

یہ نوسٹلجیا بھی عجب احساس ہے صاحب۔ اردو میں اس کے لیے کسی معروف نام کا مجھے علم نہیں تاہم اس کی تعریف اگر کی جائے تو آسان سے لفظوں میں یہ ماضی کی خوشگوار یادوں میں کھوئے رہنا ہے۔ روز مرہ زندگی میں بھی اگر کوئی  واقعہ جب ماضی کے کسی خوشگوار لمحات کی یاد دلا دے ،اور انسان کو ماضی کی طرف تخیلاتی پرواز پر مجبور کر دے تو یہ بھی نوسٹلجیا ہی ہے۔

یہ ایک فطری احساس ہے اور خوبصورت   بھی، جو ہم سب میں کم و بیش موجود ہے۔ چلیں کچھ سوالات اپنے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ کیا پتہ  ہمیں نوسٹلجیا کی کیفیت میں ہی کچھ اچھی چیزیں مل جائیں اور ہمارے اطمینان کا سبب بن جائیں۔ کیونکہ پہلے تو ہمیں آپس میں ایک بات پر متفق ہو جانا چاہیے کہ ہم دراصل اطمینان کی تلاش میں ہیں۔ اطمینان ایک “کانسٹنٹ” ہے ،یہ موجود ہو تو پھر ہر قسم کے جذبات سے نمٹا جاسکتا ہے اور وقتی طور پر کسی جذبے سے مغلوبیت شخصیت میں چھید نہیں کر پاتی۔

اب یہ مت سمجھیے گا کہ اطمینان کی کیفیت سے میری مراد کوئی  بے حس سا روبوٹ ہے جو احساسات سے عاری دم سادھے بیٹھا ہو، بلکہ درد ، محبتوں اور رشتوں کا جو مزہ اطمینان کی کیفیت میں ہے اس کا مایوسی کی کیفیت میں موجود درد اور آہوں سے کیا تقابل؟

ہمیں ماضی ہی کیوں یاد آتا ہے؟ کیا وہ سب کچھ واقعی بدل گیا جو پہلے تھا اب نہیں رہا؟۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سب کچھ کم و بیش وہی ہے لیکن ہمارے اندر پنپنے والے نئے احساسات نے اس سب کچھ کو دھندلا سا دیا ہو؟ کیا ماضی کی یاد میں ہم اپنے لیے کچھ اچھا پا سکتے ہیں؟

ان سوالوں میں ایک بات پر غور کیا آپ نے ،یہاں موضوع ” میں” ہی ہے اور کچھ اچھا پانے کی اور خوبصورت احساسات کی بازیابی کی یہ ساری تگ و دو اسی ” میں ” کے لیے ہے۔ ہمیں ماضی اس لیے یاد آتا ہے کہ دراصل ہمیں ایک خوف لاحق ہے۔ سب کچھ ختم ہونے کا خوف،موت کا خوف۔ ہماری تھرڈ ڈائمنشن یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے تین زمانوں میں مقید ہماری سوچ نے ہمیں یہ باور کرا دیا ہے کہ وقت کے ساتھ سب کچھ ختم ہو رہا ہے۔ عمر رفتہ میں جو خوبصورت لمحات کبھی ہماری زندگی کا حصہ تھے ،انہیں اب لوٹ کر نہیں آنا، لہذا ان کی یاد کو سینے سے لگا کر رکھا جائے۔ ویسے بات سچ بھی لگتی ہے واقعی فنا کا عمل جاری ہے جو روز ہمارےمشاہدے میں ہے لیکن کیا واقعی یہ پورا سچ ہے؟

جی نہیں !موت تو آئے گی، ضرور آئےگی لیکن وہ اس ناتواں جسم کو آئےگی۔ اور جو ” میں ” یہاں زیرِ  بحث ہے اس کی زندگی تو ابھی شروع ہوئی  بھی نہیں۔ اسے تو ابھی سفر درپیش ہے اپنی شروع ہونے والی زندگی کی طرف۔ اس “میں” کو جو ہماری اصل شخصیت ہے، خدارا خواب دیکھنے دیں۔ جاگتی آنکھوں پورے شعور کے ساتھ خواب۔ کبھی سوچا؟ یہ سب کچھ ہمیں اس ارضی زندگی میں دکھا دیا جاتا ہے بس ہم غور نہیں کر تے۔ بچپن میں جب ہم جاگتی آنکھوں خواب دیکھا کرتے تھے، کیا وہی خواب اور وہی کیفیات ہماری یادیں نہیں بن گئیں؟؟ تو اب کس نے خواب دیکھنے سے روکا ہے؟؟

خواب اُمید کا دیا جلائےرکھتے ہیں اور سچ پوچھیے تو اس ارضی زندگی میں طے ہوتے سفر کا سب سے خوبصورت زاد راہ “اُمید” ہے ۔یہاں “کھانے” میں اتنا مزہ نہیں جتنا اس یقین کے ساتھ بھوکا رہنے میں ہے کہ کچھ ہی دیر میں شاندار ضیافت منتظر ہے۔ کسی بھی طرح اس امید کو اپنے شعور کا حصہ بنا دیں، پھر ذرا ماضی کے خوبصورت لمحات کے بارے میں یہ سوچ کر دیکھیے کہ وہ سب کچھ اپنے کمال کے ساتھ پھر سے لوٹ کر آنے والا ہے اور پھر بتائیے کہ احساسات کتنا خوبصورت رنگ اختیار کرتے ہیں؟ ایسے خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے جن کی تعبیر کا وعدہ ہے؟ اور سچ پوچھیے صاحب تو ان خوابوں پر ہمیں اگر یقین نہیں اور واقعی ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ سب کچھ ختم ہو رہا ہے تو پھر امنگ اور خوبصورت جذبات لایعنی سی چیزیں بن جائیں گی، پھر تو کچھ نیا سوچنے اور کرنے کا کوئی  مقصد بھی باقی نہیں رہتا۔ ایسی پھیکی زندگی کون جیے؟

زمان ومکان کی قید سے نکلیے، یہ سب احساسات کا کھیل ہے صاحب۔ خواب اپنے لیے دیکھیے اور عقل کو خدا کی معرفت پانے کے لیے درپیش اس سفر میں مشعل راہ اور دوسروں کی راحت کے لیے وقف کر دیجیے۔ اپنے لیے خواب دیکھنا خود غرضی نہیں کیونکہ ہر خواب خود سے منسلک ان بچھڑے ہوؤں کی یاد بھی تو لیے ہوتا ہے، جو اس سفر میں کسی نہ کسی پڑاؤ پر ہم سے کھو جاتے ہیں اور ایک دن ہم انہیں اور وہ ہمیں اپنا منتظر پائیں گے۔ ایسے خواب کہ جن کی تعبیر کا وعدہ ہے آپ کے چہرے پر پھر سجے نظر آئیں گے اور لہجوں میں محبتوں اور شائستگی کی صورت دکھائی  دینگے۔ انہیں اس ارضی جسم کی عمر سے کچھ لینا دینا نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *