لڑکا موٹا ہو تو چل جاتا ہے مگر لڑکی نہیں۔۔۔میاں جمشید

یہ عنوان والا جملہ مجھے پہلی دفعہ تب سننے کو ملا جب میری بہن کے رشتہ کے لیے کچھ لوگ گھر آئے ہوئے تھے ۔ انہی میں سے موجود ایک آنٹی نے یہ بات امی سے کہی تھی ۔ اگرچہ یہ بات انہوں نے بلند آواز کی بجائے امی کو کُھسر پُھسر کے انداز میں ہی کی تھی مگر امی کے قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے میرے کانوں میں بھی پڑ گئی ۔ پھر امی کی طرف سے ان کو تسلی ملی کہ فکر نہ کریں شادی تک سمارٹ ہو جائے گی ۔ مگر اس آنٹی نے بھی ” لگتا تو نہیں ہے” کہہ کر بحث ہی سمیٹ دی ۔ خیر اس جگہ رشتہ تو کیا ہونا تھا مگر اس رشتے کی وجہِ انکار مجھے زندگی کی اک نئی تلخ حقیقت سے روشناس کروا گئی۔

اب کیا کہا جائے کہ کچھ گھرانے ہوتے ہیں کہ جہاں کے سبھی افراد موٹے ہوتے ہیں ۔ وجہ پوچھیں تو یہی بات سننے کو ملتی ہے کہ ” موروثی” ہے۔ ماں ہی شروع سے موٹی ہے تو اسی کے دودھ کا اثر ہے ۔ مطلب کہ یہاں بھی بنیادی قصور عورت کے سر ۔ اورجو اباً حضور اپنے بچپن سے ہی موٹے چلے آ رہے ہوں تو ان کا موروثیت میں کوئی حصہ نہیں؟ خیر بات وہی آ جاتی  ہے کہ لڑکا تو موٹا چل جاتاہے  مگر لڑکی نہیں ۔ اور یقین کریں کہ یہی فقرہ میرے لیے بھی کافی عرصہ حوصلے کا باعث رہا کہ اپن کو کاہے کی ٹینشن ،خوب کھاؤ پیو موج کرو ، اپن تو لڑکا ہے نا ، موٹا ہوا تو کیا ہوا شادی کے لیے چل ہی جاؤں گا ۔

julia rana solicitors london

ایک لڑکی کے لیے موٹا ہونا کتنی ذہنی اذیت کا باعث ہوتا ہے اس کا اندازہ بہنا کی حالت دیکھ کر ہی ہو جاتا تھا۔ کوشش تو اس نے بڑی کی مگر کیا کہیں اب موروثی جو تھا ۔ “ماں موٹی تو اس نے کہاں پتلی ہونا۔” اور یہ قول ماشاءالله سے ہمارے ابو صاحب کا تھا ۔ جب گھر میں ہی بہنا کو ایسا سننے کو ملتا تو بہنا جتنی کوشش کر لیتی ڈائٹنگ اور ورزش سے کہاں پتلی ہونا تھا کہ اس کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ وہ کچھ بھی کر لے سمارٹ نہیں ہو سکتی۔ تبھی دھیرے دھیرے اس نے پتلا ہونے کی سب کوششیں ادھوری چھوڑ دیں ۔ بس اب یہ ہوتا کہ کوئی رشتہ دیکھنے آتا تو گہرے رنگ کا سوٹ پہنتی ، ان کے سامنے چہل پہل نہ کرتی اور ایسے بیٹھتی  کہ سائیڈ پوز سے ہی سب کو نظر آئے۔ اب وقتی طور پر سمارٹ دِکھنے کے اس نے یہ فارمولے پتہ نہیں کہاں سے لیے تھے مگر ایسا سب کرنا بھی بےسود جاتا رہا کہ رشتہ والے بھی قیامت کی نظر رکھتے تھے ۔

خیر بہنا کا رشتہ کیسے اور کہاں ہوا یہ الگ داستان ہے مگر آخر کار ہو ہی گیا ۔ مگر یہ کیا؟ موروثیت یہاں بھی جیت گئی۔ اس کی دونوں بیٹیاں بھی موٹی ہو گئیں۔ یہ تو شکر ہے کہ بہنا ناگہانی موت کی وجہ سے دنیا سے پردہ کر گئی ورنہ وہ کیسے برداشت کرتی کہ موٹا ہونے کی وجہ سے لوگوں کی طنزیہ باتیں اور نظریں سہنے کی اذیت اس کی طرح اب اس کی دونوں بیٹیاں سہہ رہی  ہیں۔

اگرچہ صاحبو ، اب وقت تھوڑا سا بدل چکا ہے کہ اب موٹا ہونا لڑکی سمیت لڑکے کو بھی نہیں چل سکتا۔ اس کا اندازہ مجھے اپنی شادی کے وقت ہوا مگر شکر ہوا کہ موروثیت مجھ پر زیادہ حاوی نہیں ہوئی۔ شادی تک اتنا سمارٹ ضرور ہو گیا کہ تصویروں میں بھی اچھا نظر آیا اور مووی میں بھی جس کو دیکھ کر اب سب کہتے ہیں کہ شادی پر تو بڑے سمارٹ تھے اب ویسے کیوں نہیں۔ مگر مجھے اندازہ ہے کہ شادی کے بعد موٹا ہونا زیادہ تکلیف دہ نہیں کہ ہماری سوسائٹی کے مطابق شادی کے بعد بندہ موٹا ہو ہی جاتا ہے ۔ نہ ہو تب مسئلہ پڑتا کہ اس کا یہ مطلب نکالا جاتا ہے  کہ شادی راس نہیں آئی ۔ ( یہ کون سی سائنس ہے ویسے؟)

Advertisements
julia rana solicitors

حرفِ آخر بات یہ ہے کہ یہ باتیں پرانی ہوئیں کہ لوگوں کو سمجھایا جائے یا مذمت کی جائے کہ موٹے لوگوں خاص کر لڑکیوں کے  ساتھ ایسا رویہ نہ رکھا جائے۔ بندہ اور کتنی اور کیسے آگاہی دے اب ؟ پھر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ خاص موقعوں پر خاص کر رشتے کے وقت ایسی مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ تب پھر جتنا منہ، اتنی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ لڑکی کے جذبات ، احساسات و اخلاقیات کو  پسِ پشت ڈال   دیا جاتا ہے۔ اس لیے یا تو دل بڑا رکھیں ، خوب اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو جیسے ہیں کی بنیاد پر    قبول کرتے لوگوں کی طنزیہ باتوں کی پروا نہ کریں ۔ یا پھر خود کو سمارٹ کرنے کی ضد میں موٹاپے کوا ہمیت نہ دے کر خود کو ذہنی پریشانی سے بچائیں ۔ ورنہ تو اپن کے ملک کی سوسائٹی تو یہی کہتی کہ لڑکا تو موٹا چل جاتا ہے مگر لڑکی نہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

میاں جمشید
میاں جمشید مثبت طرزِ زندگی کے مختلف موضوعات پر آگاہی ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی فراہم کرتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply