آؤ امن قائم کریں۔۔شاہد شاہ

پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ جو نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کے لئے  تربیتی  و معلوماتی دوروں کا اہتمام بھی کرتی ہے، نے اسی ضمن میں گزشتہ دنوں   امن فاؤنڈیشن کے دورے پر ہمیں ساتھ لیا، امن فاؤنڈیشن کراچی کے ان فلاحی اداروں میں سے ایک ایسا منفرد ادارہ ہے جو گزشتہ  دس سال  سے کراچی میں مختلف فلاحی کاموں  میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ امن فاؤنڈیشن نے 2007 میں امن دسترخوان سے اپنے  فلاحی کام کا آغاز کیا اور 2008 میں عارف نقوی اور فائزہ نقوی نے امن فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ 2009 میں امن فاؤنڈیشن نے دس “EMS” ایمبولینس ایمرجنسی میڈیکل سروس شروع کی ۔ 2011 میں امن ٹیک نے 12 مختلف شعبہ جات میں تربیت فراہم کرنے کی پیشکش شروع کی جس میں آٹوموبائلز، مکینیکل، الیکٹریکل اور الیکٹرانکس، ریفریجریشن اور ائیرکنڈیشننگ شامل ہیں۔ جو اس وقت فنی تربیت کے حوالے سے نہایت معروف ہے۔

امن فاؤنڈیشن اپنے طلباء کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی “Soft Skills Training” بھی کرتی ہے۔ تا کہ وہ اپنے معاشرے میں ہنرمند لوگوں کے ساتھ ساتھ بہترین انسان فراہم کر سکے۔  جس میں طلباء کو Time Management اور Self Awareness سکھائی جاتی  ہے، لوگوں سے بات چیت کیسے کی جاتی ہے، کسی جگہ انٹرویو دینے جانا ہو  تو  کیسے لباس کا انتخاب کیا جائے، اور یہاں تک کہ ٹائی باندھنے کا طریقہ بھی سکھایا جاتا ہے، انٹرویو کے لئے اپنا Resume کیسے ڈیزائن کرنا ہے۔

امن ٹیک سے اب تک 10 ہزار سے زیادہ طلباء فارغ التحصیل ہوچکے ہیں جبکہ ان میں ملازمت حاصل کرنے والے طلباء کا تناسب 69 فیصد ہے۔امن ٹیک کے 207 گریجویٹس اس وقت بیرون ملک جبکہ 2628 ملک میں مختلف اداروں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ امن ٹیک میں 12 کورسز  میں سے ایک کورس “Stitching Machinist” خواتین کے لئے بھی رکھا گیا ہے  جس سے اب تک 525 خواتین ہنرمند افرادی تربیت حاصل کر چکی ہیں۔

2012 میں امن کمیونٹی ہیلتھ پروگرام کا باقائدہ آغاز ہوا جس میں اربن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ اور ٹیلی ہیلتھ بھی شامل ہیں ۔امن اربن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ میں اب تک 28 ہزار افراد BSL” 120″ پیرامیڈیکس  سرٹیفائیڈ کرائے جا چکے ہیں اور ساتھ ساتھ امن ایمبولینس میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل عملے کو”ACLS” Advance Life Support” “ALS”Advance Life Support” اور “BLS” “Basic Life Support”  کورسز کروائے جاتے ہیں۔ ان کے تمام پیرامیڈیکس اور ہیلتھ ورکرز امن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ جنہیں ڈپلومہ کے بعد 6 ماہ کا مکمل کورس کرایا جاتا ہے۔

“ACLS””Advance Cardio Life Support” اس ایمبولینس  میں ڈرائیور کے ساتھ  ایک نرس اور ڈاکٹر  بھی  موجود ہوتی ہیں اس ایمبولینس میں “Cardiac Monitor” بھی موجود ہے جو دل کے مریض کا فوری معائنہ کر سکتا  ہے۔

“ALS””Advance Life Support” اس ایمبولینس میں  پیرامیڈیک اور نرس موجود ہوتے ہیں جو مریض  کے ہسپتال پہنچنے تک طبی امداد فراہم کرتی ہے۔

“BLS””Basic Life Support” اس ایمبولینس میں  ڈرائیور اور  میل نرس موجود ہوتے  ہیں ان تمام ایمبولینس میں مشترکہ طبعی آلات موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ امن فاؤنڈیشن میں ایمبولینس کے ساتھ “Rapid Response Pilot” بھی موجود ہیں جو ایمبولینس کو مریض تک تاخیر سے پہنچنے یا ایسی جگہ جہاں ایمبولینس کا داخل ہونا ایک مشکل امر ہے یا ٹریفک جام ہونے کے باعث تاخیر ہو اس کے لئے  مریض کو فوری طور پر طبعی امداد فراہم کرنے کے لئے “Rapid Response Pilot” کی مدد لی جاتی ہے جو کہ تین سالہ ڈپلومہ ہولڈر اور 6 ماہ  کے  تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔

امن فاؤنڈیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے تمام ممبران کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امن ایمبولینس میں اب تک 150 سے زائد زچکی کے کیسز نمٹائے گئے ہیں جن میں سے 48 سے زیادہ تعدادٹھٹھہ کی ہے۔ کراچی میں اس وقت امن فاؤنڈیشن ایمبولینس کی 90 Key Points اور 6 اسٹیشن موجود ہیں اور ہر اسٹیشن میں تقریباً  10 ایمبولینسز  ہیں  جو مجموعی ہنگامی حالات کے 35 فیصد کو رسپانڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امن فاؤنڈیشن کے پاس  زندگی بچانے والی 80 ایمبولینسز موجود ہیں، تاہم کراچی کو تقریباً  230 سے زیادہ زندگی بچانے والی ایمبولینسز کی ضرورت ہے تا کہ ہم بقیہ 65 فیصد ہنگامی حالات میں بھی رسپانڈ کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

امن فاؤنڈیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا کہنا  تھا کہ ایمبولینس کی کمی کے باعث ہمیں مریض تک پہنچنے میں 8 سے 12 منٹ کا وقت لگ جاتا ہے اگر ہمارے پاس مزید   ایمبولینسز ہوں   تو ہمیں مریض تک پہنچنے میں 5 منٹ سے کم وقت لگے  گا، اور ساتھ ساتھ ہم نے امن ٹیلی ہیلتھ جو کہ امن فاؤنڈیشن کی چوبیس گھنٹے چلنے والی مفت میڈیکل ایڈوائس ہیلپ لائن کا جائزہ لیا جو ہر وقت اپنے کالرز کو خدمات فراہم کرنے میں مشغول رہتی ہے اور پاکستان میں امن فاؤنڈیشن کی تقریباً  23 ہزار ڈاکٹرز ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں کے علاج کرنے کے لئے متعین ہیں۔ اگر آپ ٹیلی ہیلتھ کیئر  سےمستفید  ہونا چاہتے ہیں تو اپنے موبائل سے 9123 ڈائل کرکےفوری طور پر میڈیکل ہیلتھ کونسلر سے رابطہ کر سکتے ہیں جو کہ اپنے کالر کو مفت طبی مشورے فراہم کرتے ہیں۔

بریفنگ کے بعد ہم سب پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے ممبران نے ایمبولینس کا مشاہدہ کیا  جس میں یہ بات اہم تھی کہ امن فاؤنڈیشن  کی ایمبولینس کی آپریشنل اور فیبریکیشن کاسٹ ایک روایتی وہیکل کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور اس شہر کے تمام ایمبولینسز میں سے ان کی ایمبولینسز میں زندگی بچانے والا جدید سامان موجود ہے جس کی مستقل اپ گریڈیشن اور مینٹیننس کی جاتی ہے۔

امن فاؤنڈیشن ایک بااعتماد ادارہ ہے جسے ہم سب کو مل کر تعاون کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ایسے ادارے اور ہم  لوگ مل کر ایک  بہترین معاشرہ بنا سکیں  اور زندگیاں بچا سکیں۔ آپ تمام مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ  دل کھول کر امن فاؤنڈیشن کی مدد کریں۔ ہو سکتا ہے ہماری دیے  ہوئے  عطیے  سے کسی ایک  شخص کی زندگی بچ جائے اور وہی ہمارے لئے مغفرت کا ذریعہ بن جائے۔

ایمرجنسی یا  کسی ناگہانی  حادثے  کی صورت  میں امن ایمبولینس سے فوری رابطہ کریں 1021

شاہد شاہ
شاہد شاہ
سو لفظی کہانیاں اور مکالمہ لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آؤ امن قائم کریں۔۔شاہد شاہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *