طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔رعنا اختر

والدین کے لیے وہ دن بہت سہانا ہوتا ہے، ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا جس دن وہ اپنے بچوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرتے ہیں ۔ اس دن وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی ذمہ داری پوری   ہو جاتی ہے ۔

لیکن شادی کے کچھ عرصہ بعد پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی بدولت  جب اس جوڑے کی آپس میں نہیں بنتی ، روز مرہ کے معمولی جھگڑے ان کی زندگیوں کو اجیرن کر دیتے ہیں، اور نوبت طلاق تک آ پہنچتی ہے  ، تب والدین کا سکون برباد ہو کے رہ جاتا ہے ۔ والدین کے ساتھ پورے گھر والوں کو ایسا صدمہ پہنچتا ہے جو انہیں اندر سے مکمل طور پہ ہلا کے رکھ دیتا ہے ۔

اس سے دونوں گھرانے متاثر ہوتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ  اس نے تم میں سے تمہارے لیے جوڑا بنایا تاکہ تم اس سے سکون حاصل کر سکو ، اور اس میں تمہارے لیے رحمت رکھ دی گئی ہے ، بے شک اس میں  عقل والوں کے لیے نشانی ہے ۔

میاں بیوی کا رشتہ ایک پاکیزہ اور حلال رشتہ ہے ۔ جو سنتِ  نبوی ﷺ   کے مطابق نکاح کے بعد وجود میں آتا ہے ۔
یہ گھنٹوں یا دنوں کا سفر نہیں اور نہ ہی یہ کوئی ایسا نا پختہ فیصلہ ہے کہ  اگر پسند نہیں تو اسے دوکان سے ایک چیز کی واپسی کی طرح واپس  یا تبدیل کر دیا جائے ۔

بلاوجہ اس تعلق کو خراب کرنے ، اور اس تعلق کو توڑنے کی بھی  ممانت فرمائی گئی ہے ۔ طلاق کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ  کا مفہوم ہے ۔ مباح چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز طلاق ہے ۔ لیکن اسلام آسان ترین دین ہونے کے ساتھ ایک واضح طرزِ زندگی کا طریقہ بھی بتاتا ہے ۔  اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہوں اور  ایک دوسرے سے علیحدگی چاہتے ہوں  ، تو وہ شریعت کے مطابق الگ ہو سکتے ہیں ۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ جبکہ آج کے معاشرے میں طلاق عام ہوتی جا رہی ہے اور معمولی باتوں پہ گھر  خراب کیے جا رہے ہیں ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے آخر طلاق کی شرح کیوں بڑھتی جا رہی ہے ۔

آج کل کے دور میں ہماری نوجوان نسل میں صبر و برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے  ذرا ذرا سی بات پہ جھگڑا اور طلاق دے دینا عام سی بات بن گئی ہے
مرد اگر غصے میں ایک بات کرتا ہے تو عورت اسے آگے سے دس باتیں سناتی ہے ۔

دوسری بڑی وجہ بے اولادی ہے ۔
اب اولاد کا ہونا نہ ہونا یہ سب قدرت کا کھیل ہے اللہ جسے چاہے بیٹی سے نواز دے  ،جسے چاہے وہ بیٹے سے نوازے ، اور جسے چاہے جڑواں عطا کرے ،اور جسے چاہے وہ بانجھ بنا دے یہ سب اللہ کے کام ہیں نہ کہ کسی انسان کے ۔
اگر بے اولاد مرد اولاد کے لیے دوسری شادی کا فیصلہ کرتا ہے تو عورت جھٹ سے اس سے طلاق کا مطالبہ کر دیتی ہے اور بات خلع تک جا پہنچتی ہے ۔

بے جوڑ شادیاں بھی طلاق کی وجہ بنتی ہیں  والدین کا   بچوں پہ اپنے فیصلے صادر کرنا ، نا پسندیدہ فرد کے ساتھ نکاح پہ مجبور کرنا ،طلاق کا باعث بنتا ہے کیونکہ اسلام میں بھی ہے نکاح سے پہلے اپنی اولاد سے رائے لی  جائے،کہ وہ اس رشتے پہ راضی بھی ہے کہ  نہیں ۔

دین دار لڑکی کا بے دین لڑکے سے شادی  کرنے سے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ لڑکا اپنی بیوی کو ماڈریٹ کے نام پہ  بے حیائی پہ اکساتا ہے جبکہ لڑکی ایسا کرنے سے کتراتی ہے ۔ پھر   بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور عذر یہ  پیش   کیا جاتا ہے کے لڑکی ، لڑکے کی بات نہیں مانتی ۔

والدین سے گزارش ہیں کہ  اپنے  بچوں کو رشتہ ازدواج میں باندھنے سے پہلے اچھی طرح اس رشتے کی چھان بین  کر لیں ۔ خاص طور پر لڑکے کے متعلق اور اس کے گھر والوں کے متعلق مکمل طور پر تصدیق کروائیں ۔ اس کے علاوہ  اپنے بچوں کی پرورش اس طرح سے کریں کہ  ان کی شخصیت میں صبر کا مادہ پیدا ہو ۔ تاکہ وہ بات بات پہ جھگڑنے کے بجائے اسے صبر و تحمل سے برداشت کر سکیں ۔
آجکل کی نوجوان نسل کو بھی چاہیے کہ  وہ اپنے دل میں وسعت پیدا کریں تاکہ ایک دوسرے کی باتیں آسانی سے برداشت کر سکیں ۔ اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو ذرا سی معذرت پہ دوبارہ سے زندگی کو معمول پہ لا سکیں ۔ درگزر کریں اور خوشیاں بانٹیں  ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *