آزادی،بے نام رشتے سے ۔۔ رعنا اختر

SHOPPING
SHOPPING

وہ تلخیوں کے گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے بولی اب نہیں رہ سکتی وہ  اس انسان کے ساتھ ۔اگر وہ مزید اپنے شوہر کے ساتھ رہی تو وہ نفسیاتی مریضہ ہو جائے گی آنکھوں سے بہتا ہوا لاوا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ تھک چکی تھی اس رشتے سے ۔ تھکن سے بدن چور چور تھا رویوں کی تلخیاں اپنے دامن میں سمیٹ سمیٹ کے وہ اس رشتے سے بیزار ہو چکی تھی ۔ برسوں بیت گے وہ اسی آس پہ تھی کہ آج نہیں تو کل وہ انسان اسے سمجھ جائے گا چھ سال گزر گے پر نہ وہ آج بدلا نہ کل ۔

SHOPPING

اتنے سالوں میں گود سوہنی رہی بیگانی اولاد کو پال پوس کے ان کے پاؤں پہ کھڑا کر دیا پر اپنے آگن میں کوئی پھول نہ کھل سکا ۔ جب بھی شوہر سے اولاد کا زکر کرتی تو آگے سے ایک ہی جواب سننے کو ملتا میری اولاد تو ہے مجھے اور اولاد کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ بھی تمہاری ہی اولاد ہے اسے اپنا سمجھا کرو ۔ پرائی اولاد تو پرائی ہی ہوتی ہے دل میں ٹھیسیں ابھرتی پر ان ٹھیسوں کو دیکھنے والا کوئی نہ تھا ۔ آج سے چھ سال پہلے گھر والوں نے اس کی شادی چار بچوں کے باپ سے کر دی ۔ نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اسے ایک ایسے انسان کے ساتھ جوڑ دیا جو عمر میں اس کے باپ کے برابر تھا اور ساتھ میں چار بچے جو دو سال تک اس کے کندھوں کے برابر ہونے والے تھے ۔ گھر والوں نے کچھ نہ سوچا بس خاندانی ضد بازی میں آ کر لڑکی ایسے انسان کے ساتھ بیاہ دیا جو اپنی زندگی کے سولہ سال اپنی پہلی بیوی کے ساتھ گزار چکا تھا اب اسے اس شادی شدہ زندگی سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ نکاح تو کیا تھا پر آسان لفظوں میں وہ اپنے بچوں کو سنبھالنے اور گھر کے کام کاج کے لیے ایک عورت لایا تھا ۔ خود پردیس نکل گیا اور اس اکیلی ننھی جان کو اپنے گھر کے دس افراد کی زمہ داری سونپ گیا ۔ جن ہاتھوں میں کتابیں تھیں ان ہاتھوں نے اب چولہا سنبھالنا تھا ۔ پہلے پہل جن آنکھوں میں خواب تھے اب وہاں کرچیاں تھیں جس سے نہ صرف اسکی آنکھوں بلکہ اس کے دل کو بھی زخمی کر دیا تھا ۔ گھر والوں کی ساکھ اپنے سر پہ لیے نہ دن دیکھا نہ رات جتھ گئی ان لوگوں کو اپنا بنانے کے لیے ۔ لیکن بڑے کہتے ہیں ناں ساس ساس ہوتی ہے بیشک وہ پھپھو، خالہ ، چچی ، ممانی ہی کیوں نہ ہو ۔ وہ بھی ساس تھی کیسے بھول سکتی تھی اپنا کردار نبھانا ۔ طعنوں کی بوچھاڑ اور اپنے کاموں کے علاؤہ ان لوگوں کو اس کا کوئی خیال نہ تھا ۔ سارا دن کام کرتی رہتی پر اس کی خدمت کو سرہانے والا کوئی نہ تھا ۔ رہی سہی کسر پرائی اولاد نے پوری کر دی تھی ۔ باپ کی بیوی کو اپنی ماں تسلیم نہ کیا وہ صرف ان کے لیے اپنے باپ کی بیوی تھی یا پھر کام کرنے والی عورت جو باحسن طریقے سے ان کے سارے کام سنوارتی تھی ۔ بچے بعزتی کرنے میں ذرا آڑ محسوس نہ کرتے تھے ۔ جب چاہا ذلیل کر دیا ۔ اگر وہ ذرا ڈانٹ دیتی تو اسے سوتیلی ماں ہونے کا طعنہ ملتا یہ الفاظ چابک کی ضرب کی طرح اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی روح کو گھائل کر دیتے تھے ۔ چھ سال کیسے گزر گئے پتہ نہیں چلا ۔ لیکن ان چھ سالوں میں وہ تنہا تھی ، اپنی زندگی کی ہر جنگ میں ۔ کبھی وہ سوچتی جب سب بچوں کی شادیاں کر دی جائیں گیں تو اس کے ہاتھ میں کیا رہ جائے گا یہ سوچتے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے ۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی پوری زندگی سامنے پڑی تھی ۔ موت سے پہلے موت کو جھیلنا کیا ہوتا ہے اس سے بہتر کون جانتا تھا ۔ اس کی ہنسی کی جگہ سینجدگی نے لے لی تھی ہونٹ مسکرانا بھول چکے تھے ۔ خوشیاں کیا ہے وہ سب پس پشت ڈال چکی تھی ۔ اس کے سب بہن بھائی اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے صرف وہ اکیلی رہ گئی تھی ۔ کم عمری میں تنہائی کو ساتھی بنا لیا تھا ۔ ساتھی تو ملا تھا اسے پر کبھی اس ساتھی نے ساتھ دینا گوارا نہیں کیا تھا ۔ سال میں ایک مہینہ یا پندرہ دن کے لیے پاکستان آتا اور وہ پندرہ دن اپنے بھال بچوں اور ماں کے ساتھ آرام سے گزار کے چلا جاتا ۔ اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کوئی اس کی آس میں بیٹھا ہے کوئی چاہتا ہے اس کے دکھ سکھ میں وہ برابر میں اس کا شریک ہو مکمل طور پر وہ ایک شوہر کا کردار نبھائیں لیکن سوچیں کہاں پوری ہوتی ہیں ۔ پر وہ ایسے مرد سے وفا کی امید کیسے رکھ سکتی تھی جس کے پاس جذبات نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی ۔ کئی بار گھر والوں سے کہہ چکی تھی اسے سسرال واپس نہیں جانا لیکن کوئی نہ سنتا نہ مانتا تھا ۔ کوئی کیسے مانتا بے حسی ان سب کے پور پور میں سمائی ہوئی تھی ۔ اگر پہلے احساس ہوتا تو وہ ایسے انسان کے ساتھ اپنی بہن کو بیاہتے ہی نہ ۔ سب اپنے کام نکالنے میں مگن بیٹھے تھے ۔ لیکن وہ اب مزید سہن نہیں کر سکتی تھی ۔ کھڑکی پہ بیٹھے وہ اپنے چھ سالوں کی راکھ کو ٹٹول رہی تھی کہ اچانک بہن کی آواز پہ چونک گئی ۔ سسرال کب جا رہی ہو یہ سوال سیدھا تیر کی طرح اس کا کلیجہ چیڑ دیتا تھا ۔ کچھ دیر وہ اس سوال کو لیے سوچتی رہی پھر گویا ہوئی میرا کوئی سسرال نہیں ہے ۔ نہ میں اب واپس جاؤں گی یہ سنتے ہی بہن نے طنزیہ ہنسی اس کی طرف اچھالی جیسے کہہ رہی ہو اس ٹھکانہ کے علاؤہ تمہارا کوئی ٹھکانہ بھی ہے نادان لڑکی ۔ لیکن وہ یہ بھول چکی تھی اس عرصے نے اسے اتنا مضبوط تو کر دیا تھا کہ وہ اب اپنے لیے کوئی فیصلہ کر سکتی تھی ۔ اب وہ خود کو کنارے لگانا چاہتی تھی وہ کورٹ میں دعویٰ کر کے خلع لیکر اس بے نام رشتے سے آزاد ہونا چاہتی تھی ۔ ایسے رشتے سے جس نے اس کی معصومیت چھین لی تھی ۔ وہ زندہ ہو کر بھی مردوں میں شمار تھی ۔ جب خواب مر جائے دل مدفن ہو جائے ، اپنے بیگانے ہو جائے ، جینا اسی کا نام تو نہیں ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *