کالم    ( صفحہ نمبر 171 )

چوہتر سال بعد بھی۔۔آغر ندیم سحر

آزادی کے 74 سال بعد بھی ہمیں اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے‘پاکستان‘پاکستانیت اور ہمارے شناختی ورثے کی بحث تاحال جاری ہے۔پاکستانی ہیرو کی تلاش اور ان کی شناخت پر دانشوروں کے بحث مباحثے بھی زوروں پر ہیں مگر صد←  مزید پڑھیے

امریکی استعمار: سائیگان سے کابل تک۔۔امتیاز عالم

تین ہزار سے زائد امریکی فوجی کابل بھیجے گئے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں پر امریکی سفارتی و دیگر عملے کو بحفاظت نکال سکیں۔ ایک ہزار فوجی قطر اور چار ہزار کویت میں اُن کی ہنگامی مدد کے←  مزید پڑھیے

اگراُس وقت سوشل میڈیا ہوتا۔۔گل نوخیز اختر

تصور کریں کہ تحریک آزادی زوروں پر ہے۔ سوشل میڈیا آچکا ہے اور آج جیسا ہی مقبول ہے۔ایسی صورت میں کیا کیا کچھ پڑھنے کو ملنا تھا، ملاحظہ کیجئے۔قائد اعظم نے کانگریس کا گروپ Leave کردیا۔مسلمانانِ ہند کے Page نے←  مزید پڑھیے

سوشلزم میں موقع پرستی کا ایک بین الاقوامی نمونہ۔۔شاداب مرتضی

سوشلسٹ تحریک میں بین الاقوامی سطح پر بھی چین کے حوالے سے ایک بحث یہ ہے کہ چین سامراجی ملک ہے یا نہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ چین سامراجی ملک نہیں ہے۔ اس رائے کے دفاع میں یکم جولائی←  مزید پڑھیے

پرتگیزی ہندوستان۔۔ہمایوں احتشام

عموماً یہ سنا جاتا ہے کہ پورا ہندوستان برطانیہ کی نوآبادی تھا۔ راس کماری سے پشاور تک کا مالک و مختار انگریز بہادر یا برطانوی راج ہوتا تھا۔ یہ باتیں معروضی طور پر تو ٹھیک ہیں، لیکن موضوعی طور پر←  مزید پڑھیے

فریدا جے توں عقل لطیف، کالے لکھ نہ لیکھ۔۔صغریٰ صدف

محرم کے مقدس اور حرمت والے مہینے کے آغاز میں اُٹھ فریدا سُتیا کا ہوکا دے کر خلقت کو بیدار کرنے والے عظیم صوفی شاعر کے دربار پر آج کل 779 ویں عرس کی تقریبات جاری ہیں۔ جس طرح رمضان←  مزید پڑھیے

کیا فکر ِقائد سے آگہی کے لئے 11 اگست 1947 کی تقریر ہی واحد حوالہ ہے ؟۔۔سیّد عارف مصطفیٰ

یہ فکری الجھاوا ہے یا محض خبث باطن ، جو کچھ بھی ہے مگر حضرت قائداعظم کی فقط ایک تقریر کو لے کر قیام پاکستان کی تحریک کا مقصد بدل کے رکھ دینے کی جو سازش مبینہ سیکولر حلقوں کی←  مزید پڑھیے

ہندوستان افغانستان میں گھٹنے ٹیک چکا ہے۔۔۔ عارف خٹک

حالیہ افغان خانہ جنگی لہر نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ روز افغانستان میں صوبائی دارالحکومتوں کا طالبان کے زیر قبضہ جانا جہاں کابل کی حکومت کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں وہاں پاکستان کے روایتی قوم پرستوں کی امیدیں بھی دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستانی قوم پرست ستر سال سے افغانستان کی صورت میں جذباتی اور نظریاتی سیاست کا دم بھرتے آئے ہیں۔←  مزید پڑھیے

سجدۂ شوق۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

لاڑکانہ سے سہیل چانڈیو نے ایک سوال ارسال کیا ہے۔ سوال کرنے والا سائل ہوتا ہے۔ آفرین ہے ٗایسے سائل پر جو مستقم اور مستقل مزاج ہو۔ سچ ہے ایسا سائل ہی اپنے مسئول سے داد پاتا ہے۔ درجنوں سے←  مزید پڑھیے

آرٹ اور مذہب ۔۔روبینہ فیصل

آپ اور پاپا 2007 میں بھی سیم ہیومر انجوائے کرتے تھے آپ 2021 میں بھی ان ہی باتوں پر ہنس رہے ہیں ۔۔ آپ کے وہی ٹاک شوز ، وہی ڈرامے وہی گھسا پٹا مزاح جو grow نہیں کر رہا←  مزید پڑھیے

پاکستان میں اقلیتوں کے عالمی دن کی حقیقت۔۔یاسر حمید

پاکستان بننے سے پہلے اقلیتوں نے قیام پاکستان کی حمایت اس لیے کی تھی کیونکہ یہ ان کا وطن ہے اور یہ بھی دیگر مسلم شہریوں کی طرح مساوی حقوق کی بات کرتے تھے مسیحی قوم کا تعلق قائداعظم کے←  مزید پڑھیے

پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک کیسے بنا ؟۔۔محمد وقاص رشید

ایک تو پاکستانی قوم بھی ناں۔ ۔ بڑی نا شکری ہے،وہ جس مدظلہ محترم وزیراعظم پاکستان کا دولاکھ روپے تنخواہ میں گھر کے دو افراد کے ساتھ اپنا گزارہ نہیں ہوتا تھا وہ مہنگائی پر قابو پا کر پاکستان کو←  مزید پڑھیے

دلیپ اور دیوداس۔۔امر جلیل

آج باتیں ہوں گی دلیپ کمارکے بارے میں… دلیپ کے حوالے سے ہم سب سے پہلے بات کریں گے اپنے رویوں کی۔ انیس سو سینتالیس میں انگریز سرکار نے ہندوستان کا بٹوارہ کیا تھا، اور پاکستان وجود میں آیا تھا،←  مزید پڑھیے

تزویراتی گہرائی کا جنازہ ۔۔ اظہر سید

پاکستانیوں نے پاناما ڈرامے کے بعد ستتر سالہ کشمیر پالیسی کا جنازہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں، نصف گھنٹہ دھوپ میں کھڑے ہو کر اور بھارت “کشمیر سے نکل جا ” کا گانا گنگنا کر اس جنازے میں عملی←  مزید پڑھیے

ٹوپک امارو دوئم (۱۷۳۸۔۱۷۸۱)۔۔۔ ہمایوں احتشام

جنوبی امریکہ میں استعمار کے خلاف عوامی جدوجہد کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔ جن کی ابتدا اتاوالپا کی 1533 میں ہسپانوی استعمار کے خلاف فیصلہ کن جنگ سے ہوتی ہے۔ اس جنگ میں مقامیوں کو شکست ہوئی، لیکن یہ استعمار مخالفت کی آگ کی فقط پہلی چنگاری تھی۔ اس کے بعد انکائی جدید ریاست میں استعمار اور محکوم کی کشمکش چلتی رہی اور 1572 میں ٹوپک امارو اول ستائیس سال کی عمر میں اپنی دھرتی کا دفاع کرتے ہوئے جان سے گزر جاتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

کیانواز شریف سیاسی پناہ لیں گے؟۔۔آغر ندیم سحر

میاں نواز شریف کا برطانیہ میں مزید قیام مشکل ہوتا جا رہا ہے،برطانیہ نے اب کی بار ویزہ  توسیع کی درخواست مستر دکر دی اور”بیمارنوازشریف“ سے گزارش کی کہ آپ اپنے وطن تشریف لے جائیں۔میاں صاحب اس سے پہلے دو←  مزید پڑھیے

ٹوپک امارو اول (۱۵۴۵۔۱۵۷۲)۔۔۔ ہمایوں احتشام

ٹوپک امارو کیوچوا زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی شاہی اژدھا یا سانپ کے ہیں۔ ٹوپک امارو اول 1545 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مانکو انکا یوپانکی تھا۔ دور زوال میں پیدا ہونے والے ٹوپک امارو کے ساتھ زبردست ظلم و ستم کا مظاہرہ کیا گیا۔ ٹوپک امارو کو زبردستی عیسائی کیا گیا۔ ٹوپک امارو کے والد نے ہسپانویوں کے خلاف علم جنگ بلند کی تو 1544 میں ایک جھڑپ میں ان کی وفات ہوگئی۔←  مزید پڑھیے

فرقہ وارانہ ہم آہنگی ضروری، مگر کیا صرف یکطرفہ؟۔۔سیّد عارف مصطفیٰ

محرم الحرام کی آمد آمد ہے اور حسب دستور متعدد سیاسی و سماجی تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے ‘اتحاد بین المسلمین’ ٹائپ اجلاسوں کی بہار آئی ہوئی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ تین چار افراد پہ مشتمل←  مزید پڑھیے

اب تو بھٹو کی جاں بخشی کر دیں۔۔عطا الحق قاسمی

ہم لوگ بہت طعن و تشنیع کر چکے ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے! اب طعن و تشنیع چھوڑ دیں اور ایک اچھے انسان کی طرح مرحوم کی لغرشیں معاف کرتے ہوئے اُنہیں اُن کے اچھے کاموں کا صلہ عطا←  مزید پڑھیے

شہر کو سیلاب لے گیا۔۔سیّد مہدی بخاری

ہمارا خمیر ہی ایسی مٹی سے اٹھا ہے، ہماری معاشرتی تربیت ہی ایسی ہوئی کہ جب تک چاند توڑ کر قدموں میں لانے کی بات نہ ہو محبوب بھی نہیں سنتا۔ ستارے توڑ کر قدموں میں لانے کا وعدہ نہ←  مزید پڑھیے